<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:48:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:48:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھرتھراہٹ میں مدد کرنے والاآلہ بنانے پرپاکستانی طلبہ کےلیےاعزاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1055093/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;نیویارک: نیشنل  یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے طلبہ نے امریکی ریاست کیلیفورنیا  کے اسٹینفورڈ سینٹر میں ہونے والا ڈزائن چیلنج2017 کا عالمی مقابلہ جیت لیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس مقابلے میں  مختلف امراض سے متعلق بچاؤ ، تحفظ یا ان میں مدد فراہم کرنے والے تیار کردہ آلات پیش کیے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مقابلے میں امریکی ریاست میساچوٹس کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ( ایم آئی ٹی) نیو یارک کی کارنل یونورسٹی (سی یو) ورجنیا  کی ورجینیا ٹیک، یونیورسٹی آف ساؤ پولو،بیجنگ یونیورسٹی اور خود اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے طلبہ پر مشتمل ٹیموں نے حصہ لیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ٹیکنالوجی &lt;a href='https://www.techjuice.pk/tame-nust-students-win-the-stanford-longevity-design-challenge-held-in-california/' &gt;&lt;strong&gt;ویب سائٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی خبر کے مطابق اس عالمی مقابلے میں تمام ممالک کی ٹیموں نے مختلف امراض سے بچاؤ، تحفظ اور ان میں مدد فراہم کرنے سے متعلق تیار کردہ مختلف آلات پیش کیے ۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
			&lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
				&lt;a href="https://twitter.com/LongevityCenter/status/847573093908226048"&gt;&lt;/a&gt;
			&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستانی طلبہ نے عالمی رینکگ میں اچھی پوزیشن میں شمار ہونے والی تمام یونیورسٹی کی ٹیموں کو شکست دیتے ہوئے یہ مقابلہ جیت لیا، ٹیم کو نقد انعام سمیت ایوارڈ پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نسٹ کے طلبہ کی &lt;a href='http://www.tame.pk/' &gt;&lt;strong&gt;3رکنی ٹیم&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں حوریا انعم، اویس شفیق اور ارسلان جاوید شامل تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نسٹ کے طلبہ نے ذہنی بیماری کے باعث ہونے والی تھرتھراہٹ، کپ کپی یا رعشے کی بیماری میں مدد فراہم کرنے والا ایک آلہ تیار کیا تھا، جس کی مدد سے اس بیماری میں مبتلا افراد کہیں بھی آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;طلبہ کی جانب سے تیار کی گئی ڈوائس  تاروں کے ذریعے ایک چپ سے منسلک ہے، جو تھرتھراہٹ یا کپ کپی میں مبتلا مریض کی بانہوں میں چسپاں کردی جاتی ہے.&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈوائس کے چلتے رہنے اور چپ کے مریض کے جسم سے چسپاں رہنے تک مریض آسانی سے اپنے کام سر انجام دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>نیویارک: نیشنل  یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے طلبہ نے امریکی ریاست کیلیفورنیا  کے اسٹینفورڈ سینٹر میں ہونے والا ڈزائن چیلنج2017 کا عالمی مقابلہ جیت لیا۔</p><p class=''>اس مقابلے میں  مختلف امراض سے متعلق بچاؤ ، تحفظ یا ان میں مدد فراہم کرنے والے تیار کردہ آلات پیش کیے گئے۔</p><p class=''>مقابلے میں امریکی ریاست میساچوٹس کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ( ایم آئی ٹی) نیو یارک کی کارنل یونورسٹی (سی یو) ورجنیا  کی ورجینیا ٹیک، یونیورسٹی آف ساؤ پولو،بیجنگ یونیورسٹی اور خود اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے طلبہ پر مشتمل ٹیموں نے حصہ لیا۔</p><p class=''>ٹیکنالوجی <a href='https://www.techjuice.pk/tame-nust-students-win-the-stanford-longevity-design-challenge-held-in-california/' ><strong>ویب سائٹ</strong></a> کی خبر کے مطابق اس عالمی مقابلے میں تمام ممالک کی ٹیموں نے مختلف امراض سے بچاؤ، تحفظ اور ان میں مدد فراہم کرنے سے متعلق تیار کردہ مختلف آلات پیش کیے ۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
			<blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
				<a href="https://twitter.com/LongevityCenter/status/847573093908226048"></a>
			</blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>پاکستانی طلبہ نے عالمی رینکگ میں اچھی پوزیشن میں شمار ہونے والی تمام یونیورسٹی کی ٹیموں کو شکست دیتے ہوئے یہ مقابلہ جیت لیا، ٹیم کو نقد انعام سمیت ایوارڈ پیش کیا گیا۔</p><p class=''>نسٹ کے طلبہ کی <a href='http://www.tame.pk/' ><strong>3رکنی ٹیم</strong></a> میں حوریا انعم، اویس شفیق اور ارسلان جاوید شامل تھے۔</p><p class=''>نسٹ کے طلبہ نے ذہنی بیماری کے باعث ہونے والی تھرتھراہٹ، کپ کپی یا رعشے کی بیماری میں مدد فراہم کرنے والا ایک آلہ تیار کیا تھا، جس کی مدد سے اس بیماری میں مبتلا افراد کہیں بھی آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں۔</p><p class=''>طلبہ کی جانب سے تیار کی گئی ڈوائس  تاروں کے ذریعے ایک چپ سے منسلک ہے، جو تھرتھراہٹ یا کپ کپی میں مبتلا مریض کی بانہوں میں چسپاں کردی جاتی ہے.</p><p class=''>ڈوائس کے چلتے رہنے اور چپ کے مریض کے جسم سے چسپاں رہنے تک مریض آسانی سے اپنے کام سر انجام دے سکتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1055093</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Apr 2017 23:19:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/04/58dfec9a9bdf8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/04/58dfec9a9bdf8.jpg?0.21483898450504224"/>
        <media:title>تصویر: اسٹینفورڈ سینٹر ٹوئٹر</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
