<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 01:34:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 01:34:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیہون دھماکا: سہولت کاروں کی تصاویر جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1055441/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;کراچی: سیہون میں درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں خودکش دھماکے کے حملہ آور اور 2 سہولت کاروں کی تصاویر جاری کردی گئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ثناء اللہ عباسی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مزار میں نصب 38 کیمروں کی مدد سے درگاہ لعل شہباز قلندر کے حملہ آور اور سہولت کاروں کی شناخت ممکن ہوئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو دھماکے کے روز کی 2 سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی دکھائی گئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ثناءاللہ عباسی کا کہنا تھا کہ ان افراد کی شناخت میں مدد دینے والے افراد کو سندھ پولیس کی جانب سے 50 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1052413/' &gt;درگاہ لعل شہباز قلندر میں خودکش دھماکا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58e776bc9d657.jpg'  alt='سیہون دھماکا کرنے والا خودکش حملہ آور&amp;mdash;فوٹو: امتیاز علی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سیہون دھماکا کرنے والا خودکش حملہ آور—فوٹو: امتیاز علی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;صحافیوں سے گفتگو میں آئی جی سی ٹی ڈی کا مزید کہنا تھا کہ سہولت کاروں کی شناخت کے لیے دھماکے اور اس سے ایک روز قبل کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز دیکھی گئیں جن میں حملہ آور کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ثناء اللہ عباسی کے مطابق سی سی ٹی وی ویڈیوز کو زوم کرنے پر پولیس نے حملہ آور کی پہنی ہوئی خودکش جیکٹ کو بھی دیکھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دھماکے کی منصوبہ بندی کی تفصیلات بتاتے ہوئے ثناء اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ یہ افراد ایک روز پہلے بھی اسی وقت درگاہ میں آئے تھے اور ایک گھنٹے تک احاطے کی ریکی کرتے رہے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1052444' &gt;سیہون دھماکا: دھمال معمول کے مطابق کرنے کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ثناءاللہ عباسی کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے کے سہولت کاروں کی تصاویر کو شناخت کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) بھیجا جاچکا ہے اور نادرا حکام کے جواب کا انتظار ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58e776c413ba6.jpg'  alt='سیہون دھماکے میں معاونت فراہم کرنے والا دوسرا سہولت کار&amp;mdash;فوٹو: امتیاز علی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سیہون دھماکے میں معاونت فراہم کرنے والا دوسرا سہولت کار—فوٹو: امتیاز علی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ 16 فروری کو درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں دھمال کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں 88 افراد ہلاک، جب کہ 340 زخمی ہوگئے تھے، دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;19 فروری کو بھی سندھ پولیس نے سیہون دھماکے میں &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1052549' &gt;&lt;strong&gt;ملوث مبینہ خود کش حملہ آور کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جاری کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا تھا کہ ایک پولیس اہلکار درگاہ قلندر شہباز کے احاطے میں داخل ہونے والے افراد کی تلاشی لے رہا ہے، جب کہ وہاں صرف ایک اہلکار کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی افراد بغیر تلاشی کے اندر داخل ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>کراچی: سیہون میں درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں خودکش دھماکے کے حملہ آور اور 2 سہولت کاروں کی تصاویر جاری کردی گئیں۔</p><p class=''>پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ثناء اللہ عباسی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مزار میں نصب 38 کیمروں کی مدد سے درگاہ لعل شہباز قلندر کے حملہ آور اور سہولت کاروں کی شناخت ممکن ہوئی۔</p><p class=''>پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو دھماکے کے روز کی 2 سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی دکھائی گئیں۔</p><p class=''>ثناءاللہ عباسی کا کہنا تھا کہ ان افراد کی شناخت میں مدد دینے والے افراد کو سندھ پولیس کی جانب سے 50 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1052413/' >درگاہ لعل شہباز قلندر میں خودکش دھماکا</a></strong></p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58e776bc9d657.jpg'  alt='سیہون دھماکا کرنے والا خودکش حملہ آور&mdash;فوٹو: امتیاز علی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سیہون دھماکا کرنے والا خودکش حملہ آور—فوٹو: امتیاز علی</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>صحافیوں سے گفتگو میں آئی جی سی ٹی ڈی کا مزید کہنا تھا کہ سہولت کاروں کی شناخت کے لیے دھماکے اور اس سے ایک روز قبل کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز دیکھی گئیں جن میں حملہ آور کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔</p><p class=''>ثناء اللہ عباسی کے مطابق سی سی ٹی وی ویڈیوز کو زوم کرنے پر پولیس نے حملہ آور کی پہنی ہوئی خودکش جیکٹ کو بھی دیکھا۔</p><p class=''>دھماکے کی منصوبہ بندی کی تفصیلات بتاتے ہوئے ثناء اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ یہ افراد ایک روز پہلے بھی اسی وقت درگاہ میں آئے تھے اور ایک گھنٹے تک احاطے کی ریکی کرتے رہے تھے۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1052444' >سیہون دھماکا: دھمال معمول کے مطابق کرنے کا اعلان</a></strong></p><p class=''>ثناءاللہ عباسی کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے کے سہولت کاروں کی تصاویر کو شناخت کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) بھیجا جاچکا ہے اور نادرا حکام کے جواب کا انتظار ہے۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58e776c413ba6.jpg'  alt='سیہون دھماکے میں معاونت فراہم کرنے والا دوسرا سہولت کار&mdash;فوٹو: امتیاز علی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سیہون دھماکے میں معاونت فراہم کرنے والا دوسرا سہولت کار—فوٹو: امتیاز علی</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>یاد رہے کہ 16 فروری کو درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں دھمال کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں 88 افراد ہلاک، جب کہ 340 زخمی ہوگئے تھے، دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔</p><p class=''>19 فروری کو بھی سندھ پولیس نے سیہون دھماکے میں <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1052549' ><strong>ملوث مبینہ خود کش حملہ آور کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج</strong></a> جاری کی تھی۔</p><p class=''>اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا تھا کہ ایک پولیس اہلکار درگاہ قلندر شہباز کے احاطے میں داخل ہونے والے افراد کی تلاشی لے رہا ہے، جب کہ وہاں صرف ایک اہلکار کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی افراد بغیر تلاشی کے اندر داخل ہو رہے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1055441</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Apr 2017 16:50:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/04/58e77370e6b61.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/04/58e77370e6b61.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/04/58e7737d45946.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/04/58e7737d45946.jpg"/>
        <media:title>پولیس کی جانب سے جاری کی گئی سیہون دھماکے کے سہولت کار کی تصاویر—فوٹو: امتیاز علی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
