<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 20:36:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 20:36:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ساڑھے تین ہزار سال پرانی 8 ممیز دریافت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1056152/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;قاہرہ: دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک مصر میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے کم سے کم 3500 سال پرانی 8 ممیز (حنوط شدہ لاشوں) سمیت ایک ہزار سے زائد مجسمے دریافت کرلیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آرکیالوجی ماہرین کی جانب سے دریافت کی گئی ممیز کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے، کیوں کہ تاریخی مقبرے سے نوادرات کی تلاش کا کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ماہرین نے آغاز میں 6 ممیز دریافت کرنے کا دعویٰ کیا، مگر چند گھنٹوں بعد بتایا گیا کہ مزید 2 ممیز بھی دریافت کرلی گئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ماہرین کے مطابق مقبرے سے نوادرات کی تلاش کا کام ہفتوں تک جاری رہہ سکتا ہے، اور مزید ممیز بھی دریافت ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58f6347e8ab82.jpg'  alt='مقبرے سے ایک ہزار سے زائد مجسمے بھی ملے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مقبرے سے ایک ہزار سے زائد مجسمے بھی ملے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے’اے ایف پی‘ نے مصر کے وزیر آثار قدیمہ خالد العنانی کے حوالے سے بتایا کہ آرکیالوجی ماہرین نے جنوبی مصر کے شہر الاقصر کے ایک مقبرے کی کھدائی کے دوران کم سے کم 3500 سال پرانی ممیز دریافت کیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خالد العنانی کے مطابق کھدائی کے دوران ایک ہزار سے زائد مجسمے بھی دریافت کرلیے گئے، جب کہ مقبرے سے نوادرات کا کام جاری ہے، توقع ہے کہ مزید ممیز اور مجسمے دریافت ہوں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آرکیالوجی مشن کے سربراہ مصطفیٰ وزیری نے بتایا کہ 8 مجسمے 10 تابوتوں سے دریافت کیے گئے، جب کہ ممیز کو مختلف رنگوں سے سجایا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58f634e549786.jpg'  alt='ممیز کم سے کم 3500 سال پرانی ہیں&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ممیز کم سے کم 3500 سال پرانی ہیں—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آرکیالوجی ماہرین کے مطابق ممیز پر سرخ، کالے، بلیو، ہرے اور پیلے رنگوں کی سجاوٹ کو دیکھا جاسکتا ہے، کھدائی کے دوران قدیم دور کے مختلف رنگوں سے سجائے گئے قیمتی برتن بھی دریافت کیے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وزارت آثار قدیمہ کے مطابق 8 ممیز، ایک ہزار سے زائد مجسمے اور قیمتی برتنوں کے نمونوں کو الاقصر کے قریب واقع مقبرے ’درہ ابو النجا‘ سے دریافت کیا گیا، جسے بادشاہوں کی وادی بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وزارت آثار قدیمہ نے بتایا کہ یہ مقبرہ قدیم زمانے میں شہر کے جج کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے ’عزراٹ‘ نامی انعام یافتہ شخص کا ہے، جس کے ایک سے زائد کمرے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58f635680bd9d.jpg'  alt='کھدائی کے دوران قدیم زمانے کے برتن بھی ملے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کھدائی کے دوران قدیم زمانے کے برتن بھی ملے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ ماہرین نے اس مقبرے کے ایک کمرے میں تاحال کھدائی کا کام شروع نہیں کیا، توقع کی جا رہی ہے کہ دوسرے کمرے سے بھی ممیز اور نوادرات دریافت ہوں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مصر قدیم نوادرات اور ممیز کے حوالے سے تاریخی سر زمین ہے، یہاں اس سے پہلے بھی ممیز دریافت ہوچکی ہیں، گزشتہ برس بھی قاہرہ کے قریب ایک تاریخی مقام سے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1046879' &gt;&lt;strong&gt;ڈھائی ہزار&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سال پرانی ممی دریافت ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ممی دراصل لاشیں ہوتی ہیں،اور لاشوں کو ممی بنانے کے عمل کے حوالے سے ملنے والے ابتدائی ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عمل ساڑھے چار ہزار قبل مسیح پرانا ہے، مگر اس حوالے سے حتمی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>قاہرہ: دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک مصر میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے کم سے کم 3500 سال پرانی 8 ممیز (حنوط شدہ لاشوں) سمیت ایک ہزار سے زائد مجسمے دریافت کرلیے۔</p><p class=''>آرکیالوجی ماہرین کی جانب سے دریافت کی گئی ممیز کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے، کیوں کہ تاریخی مقبرے سے نوادرات کی تلاش کا کام جاری ہے۔</p><p class=''>ماہرین نے آغاز میں 6 ممیز دریافت کرنے کا دعویٰ کیا، مگر چند گھنٹوں بعد بتایا گیا کہ مزید 2 ممیز بھی دریافت کرلی گئیں۔</p><p class=''>ماہرین کے مطابق مقبرے سے نوادرات کی تلاش کا کام ہفتوں تک جاری رہہ سکتا ہے، اور مزید ممیز بھی دریافت ہوسکتی ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58f6347e8ab82.jpg'  alt='مقبرے سے ایک ہزار سے زائد مجسمے بھی ملے&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مقبرے سے ایک ہزار سے زائد مجسمے بھی ملے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>غیر ملکی خبر رساں ادارے’اے ایف پی‘ نے مصر کے وزیر آثار قدیمہ خالد العنانی کے حوالے سے بتایا کہ آرکیالوجی ماہرین نے جنوبی مصر کے شہر الاقصر کے ایک مقبرے کی کھدائی کے دوران کم سے کم 3500 سال پرانی ممیز دریافت کیں۔</p><p class=''>خالد العنانی کے مطابق کھدائی کے دوران ایک ہزار سے زائد مجسمے بھی دریافت کرلیے گئے، جب کہ مقبرے سے نوادرات کا کام جاری ہے، توقع ہے کہ مزید ممیز اور مجسمے دریافت ہوں گے۔</p><p class=''>آرکیالوجی مشن کے سربراہ مصطفیٰ وزیری نے بتایا کہ 8 مجسمے 10 تابوتوں سے دریافت کیے گئے، جب کہ ممیز کو مختلف رنگوں سے سجایا گیا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58f634e549786.jpg'  alt='ممیز کم سے کم 3500 سال پرانی ہیں&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ممیز کم سے کم 3500 سال پرانی ہیں—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>آرکیالوجی ماہرین کے مطابق ممیز پر سرخ، کالے، بلیو، ہرے اور پیلے رنگوں کی سجاوٹ کو دیکھا جاسکتا ہے، کھدائی کے دوران قدیم دور کے مختلف رنگوں سے سجائے گئے قیمتی برتن بھی دریافت کیے گئے۔</p><p class=''>وزارت آثار قدیمہ کے مطابق 8 ممیز، ایک ہزار سے زائد مجسمے اور قیمتی برتنوں کے نمونوں کو الاقصر کے قریب واقع مقبرے ’درہ ابو النجا‘ سے دریافت کیا گیا، جسے بادشاہوں کی وادی بھی کہا جاتا ہے۔</p><p class=''>وزارت آثار قدیمہ نے بتایا کہ یہ مقبرہ قدیم زمانے میں شہر کے جج کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے ’عزراٹ‘ نامی انعام یافتہ شخص کا ہے، جس کے ایک سے زائد کمرے ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58f635680bd9d.jpg'  alt='کھدائی کے دوران قدیم زمانے کے برتن بھی ملے&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کھدائی کے دوران قدیم زمانے کے برتن بھی ملے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>واضح رہے کہ ماہرین نے اس مقبرے کے ایک کمرے میں تاحال کھدائی کا کام شروع نہیں کیا، توقع کی جا رہی ہے کہ دوسرے کمرے سے بھی ممیز اور نوادرات دریافت ہوں گے۔</p><p class=''>مصر قدیم نوادرات اور ممیز کے حوالے سے تاریخی سر زمین ہے، یہاں اس سے پہلے بھی ممیز دریافت ہوچکی ہیں، گزشتہ برس بھی قاہرہ کے قریب ایک تاریخی مقام سے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1046879' ><strong>ڈھائی ہزار</strong></a> سال پرانی ممی دریافت ہوئی تھی۔</p><p class=''>ممی دراصل لاشیں ہوتی ہیں،اور لاشوں کو ممی بنانے کے عمل کے حوالے سے ملنے والے ابتدائی ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عمل ساڑھے چار ہزار قبل مسیح پرانا ہے، مگر اس حوالے سے حتمی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔</p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1056152</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Apr 2017 23:30:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/04/58f6331808f8d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/04/58f6331808f8d.jpg?0.39367798523889697"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/04/58f634151061c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/04/58f634151061c.jpg"/>
        <media:title>ممیز کی تعداد بڑھ سکتی ہے، ماہرین—فوٹو: اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
