<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 13:05:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 13:05:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا چیمپیئنز ٹرافی کے بائیکاٹ پر غور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1056285/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کی جانب سے بگ تھری کے خاتمے کی کوششوں پر ہندوستانی کرکٹ بورڈ(بی سی سی آئی) کی نے سخت موقف اپناتے ہوئے اپنے خلاف فیصلہ آنے پر چیمپئنز ٹرافی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رواں سال آئی سی سی کے ورکنگ گروپ کی جانب سے آئینی اور مالی معاملات میں تبدیلیوں کی سفارش کی گئی جس کو آئی سی سی بورڈ نے قبول کرتے ہوئے تبدیلیوں پر غور وخوض اور اراکین کو شامل کرنے کے لیے اپریل میں ہونے والے بورڈ کے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سلسلے میں اجلاس رواں ماہ 24 اپریل کو ہو گا جس کے تحت ممکہ طور پر بگ تھری کے خاتمے کی منظوری دی جائے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1056296/' &gt;آملا کی آئی پی ایل میں تباہ کن بیٹنگ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئی سی سی نے 2014 میں تین ملکوں ہندوستان، آسٹریلیا اور انگلینڈ پر مشتمل بگ تھری کا ایک مضبوط نظام قائم کیا تھا جس کو آئی سی سی سے زیادہ فوائد حاصل ہورہے تھے تاہم اس پر کرکٹ کے غیرجانبدار حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس نظام کے تحت مالی اور انتظامی معاملات کے تمام تر اختیارات ہندوستان، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے پاس تھا اور بڑھتے ہوئے ٹی وی رائٹس، آئی پی ایل اور دیگر وجوہات کے سبب اس منصوبے کا سب سے زیادہ فائدہ ہندوستان نے اٹھایا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی سی سی کے ورکنگ گروپ نے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس صورت میں سب سے زیادہ نقصان بی سی سی آئی کو ہو گا جس کی وجہ سے انہوں نے ابھی سے منصوبے کے خلاف پراپیگنڈا شروع کردیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس معاملے پر بی سی سی آئی کا جنرل اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ انڈیا آئی سی سی کے نئے آئین کی مخالفت کرے گا جس میں ہندوستان کا مالی حصہ ممکنہ طور پر کم کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس وقت ہندوستان نے چھوٹے بورڈز کو ساتھ ملانے کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے اور سری لنکا، بنگلہ دیش اور زمبابوے اس کا ساتھ دینے پر رضامندی ظاہر کر چکے ہیں اور اسے بگ تھری کو برقرار رکھنے کیلئے صرف ایک تہائی اکثریت درکار ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم اگر آئی سی سی کا فیصلہ بی سی سی آئی کے خلاف آتا ہے تو بورڈ نے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چیمپئنز ٹرافی کے بائیکاٹ کا منصوبہ بنایا ہے اور اگر آئی سی سی نے بگ تھری کے خاتمے کی منظوری دی تو ہندوستان یکم جون سے شروع ہونے والے ایونٹ کا بائیکاٹ کر دے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چیمپئنز ٹرافی میں ہندوستان کی ٹیم گروپ بی میں موجود ہے جہاں اس کا مقابلہ روایتی حریف پاکستان، جنوبی افریقہ اور سری لنکا سے ہو گا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کی جانب سے بگ تھری کے خاتمے کی کوششوں پر ہندوستانی کرکٹ بورڈ(بی سی سی آئی) کی نے سخت موقف اپناتے ہوئے اپنے خلاف فیصلہ آنے پر چیمپئنز ٹرافی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔</p><p class=''>رواں سال آئی سی سی کے ورکنگ گروپ کی جانب سے آئینی اور مالی معاملات میں تبدیلیوں کی سفارش کی گئی جس کو آئی سی سی بورڈ نے قبول کرتے ہوئے تبدیلیوں پر غور وخوض اور اراکین کو شامل کرنے کے لیے اپریل میں ہونے والے بورڈ کے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔</p><p class=''>اس سلسلے میں اجلاس رواں ماہ 24 اپریل کو ہو گا جس کے تحت ممکہ طور پر بگ تھری کے خاتمے کی منظوری دی جائے گی۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1056296/' >آملا کی آئی پی ایل میں تباہ کن بیٹنگ</a></strong></p><p class=''>آئی سی سی نے 2014 میں تین ملکوں ہندوستان، آسٹریلیا اور انگلینڈ پر مشتمل بگ تھری کا ایک مضبوط نظام قائم کیا تھا جس کو آئی سی سی سے زیادہ فوائد حاصل ہورہے تھے تاہم اس پر کرکٹ کے غیرجانبدار حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔</p><p class=''>اس نظام کے تحت مالی اور انتظامی معاملات کے تمام تر اختیارات ہندوستان، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے پاس تھا اور بڑھتے ہوئے ٹی وی رائٹس، آئی پی ایل اور دیگر وجوہات کے سبب اس منصوبے کا سب سے زیادہ فائدہ ہندوستان نے اٹھایا۔</p><p class=''>اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی سی سی کے ورکنگ گروپ نے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس صورت میں سب سے زیادہ نقصان بی سی سی آئی کو ہو گا جس کی وجہ سے انہوں نے ابھی سے منصوبے کے خلاف پراپیگنڈا شروع کردیا ہے۔</p><p class=''>اس معاملے پر بی سی سی آئی کا جنرل اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ انڈیا آئی سی سی کے نئے آئین کی مخالفت کرے گا جس میں ہندوستان کا مالی حصہ ممکنہ طور پر کم کردیا جائے گا۔</p><p class=''>اس وقت ہندوستان نے چھوٹے بورڈز کو ساتھ ملانے کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے اور سری لنکا، بنگلہ دیش اور زمبابوے اس کا ساتھ دینے پر رضامندی ظاہر کر چکے ہیں اور اسے بگ تھری کو برقرار رکھنے کیلئے صرف ایک تہائی اکثریت درکار ہے۔</p><p class=''>تاہم اگر آئی سی سی کا فیصلہ بی سی سی آئی کے خلاف آتا ہے تو بورڈ نے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چیمپئنز ٹرافی کے بائیکاٹ کا منصوبہ بنایا ہے اور اگر آئی سی سی نے بگ تھری کے خاتمے کی منظوری دی تو ہندوستان یکم جون سے شروع ہونے والے ایونٹ کا بائیکاٹ کر دے گا۔</p><p class=''>چیمپئنز ٹرافی میں ہندوستان کی ٹیم گروپ بی میں موجود ہے جہاں اس کا مقابلہ روایتی حریف پاکستان، جنوبی افریقہ اور سری لنکا سے ہو گا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1056285</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Apr 2017 21:53:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/04/58f8cbb6046c9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/04/58f8cbb6046c9.jpg"/>
        <media:title>ہندوستان کی ٹیم 2013 کی چیمپیئنز ٹرافی کی چیمپیئن ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
