<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 16:05:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 16:05:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس: صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 2 امیدوار کامیاب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1056483/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;پیرس: فرانس میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے ابتدائی اندازوں کے مطابق خاتون امیدوار مارین لے پین اورایمانوئل ماکروں کامیاب ہوگئے ہیں،تاہم حتمی نتائج کچھ بھی ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ ان 2 امیدواروں کی کامیابی کے اندازے فرانس کے مقامی ٹی وی چینلز پر نشر کیے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فرانس کے حتمی صدارتی انتخابات آئندہ ماہ 7 مئی کو ہوں گے، تاہم دوسرے مرحلے میں وہی امیدوار حصہ لینے کے اہل ہوں گے جو پہلے مرحلے میں کامیاب ہوں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مختلف جماعتوں اور نظریات کے 11 امیدوار حصہ لے رہیں، جن میں سے صرف 3 امیدواروں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کا امکان کیا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تین بڑے امیدواروں میں سابق وزیر اعظم فرانسواں فیوں، 40 سالہ بینکار اور حالیہ صدر کے مشیر ایمانوئل ماکروں اور نیشنل فرنٹ کی 48 سالہ مارین لے پین ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58fd008c78def.jpg'  alt='خاتون امیدوار مارین پین کو نسل پرست تصور کیا جاتا ہے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;خاتون امیدوار مارین پین کو نسل پرست تصور کیا جاتا ہے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;صدارتی امیدوار اور سابق وزیر اعظم فرانسواں فیوں کو قدامت پسند، جب کہ خاتون امیدوار مارین لے پین کو قدرے نسل پرست اور ایمانول ماکروں کو اعتدال پسند رہنما سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے بتایا کہ ابتدائی اندازوں اور تجزیوں کے مطابق خاتون امیدوار مارین لے پین اور ایمانول ماکروں کامیاب ہوگئے ہیں، اب ان دونوں کا مقابلہ 7 مئی کو ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خبر رساں ادارے کے مطابق ابتدائی اندازوں کے مطابق ایمانوئل ماکروں نے پہلے مرحلے میں 23 سے 24 فیصد جب کہ مارین لے پین نے  21 سے 23 فیصد ووٹ حاصل کیے، تاہم حتمی نتائج آنے تک نتائج تبدیل بھی ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ابتدائی رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے کی پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی، جو شام 8 بجے تک جاری رہی، پولنگ کے لیے ملک بھر میں 70 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے، جب کہ 50 ہزار سیکیورٹی اہلکاراور 7ہزار فوجی تعینات کیے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58fd028d35be7.jpg'  alt='ایمانول ماکروں کو اعتدال پسند تصور کیا جاتا ہے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ایمانول ماکروں کو اعتدال پسند تصور کیا جاتا ہے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فرانس میں ووٹرز کی تعداد 47 ملین ہے، جب کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولنگ کا ٹرن آؤٹ 80 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ سخت سیکیورٹی میں ہونے والے فرانسیسی صدارتی انتخابات نہ صرف یورپی یونین بلکہ امریکا اور برطانیہ کے لیے بھی نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسامے کی جانب سے یورپی یونین کو خداحافظ کہنےجیسے جذبات رکھنے کی وجہ سے فرانس کے حالیہ انتخابات کو یورپی یونین کے مستقبل کے لیے نہایت ہی اہم سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ خاتون امیدوار مارین لے پین کی کامیابی ممکنہ طور پر یورپی یونین کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، وہ سب سے پہلے فرانس مفاد کی بات کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سیاسی مبصرین کے مطابق خاتون امیدوار کے مقابلے ایمانوئل ماکروں کی جیت یورپی یونین کے لیے فائدہ مند رہے گی، وہ اتحاد کے حمایتی تصور کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58fd04d45401f.jpg'  alt='ایمانوئل ماکروں اور مارین لے پین ممکنہ طور پر 7 مئی کو آمنے سامنے ہوں گے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ایمانوئل ماکروں اور مارین لے پین ممکنہ طور پر 7 مئی کو آمنے سامنے ہوں گے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt; 			
&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>پیرس: فرانس میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے ابتدائی اندازوں کے مطابق خاتون امیدوار مارین لے پین اورایمانوئل ماکروں کامیاب ہوگئے ہیں،تاہم حتمی نتائج کچھ بھی ہوسکتے ہیں۔</p><p class=''>خیال رہے کہ ان 2 امیدواروں کی کامیابی کے اندازے فرانس کے مقامی ٹی وی چینلز پر نشر کیے گئے۔</p><p class=''>فرانس کے حتمی صدارتی انتخابات آئندہ ماہ 7 مئی کو ہوں گے، تاہم دوسرے مرحلے میں وہی امیدوار حصہ لینے کے اہل ہوں گے جو پہلے مرحلے میں کامیاب ہوں گے۔</p><p class=''>صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مختلف جماعتوں اور نظریات کے 11 امیدوار حصہ لے رہیں، جن میں سے صرف 3 امیدواروں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کا امکان کیا جا رہا تھا۔</p><p class=''>صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تین بڑے امیدواروں میں سابق وزیر اعظم فرانسواں فیوں، 40 سالہ بینکار اور حالیہ صدر کے مشیر ایمانوئل ماکروں اور نیشنل فرنٹ کی 48 سالہ مارین لے پین ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58fd008c78def.jpg'  alt='خاتون امیدوار مارین پین کو نسل پرست تصور کیا جاتا ہے&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">خاتون امیدوار مارین پین کو نسل پرست تصور کیا جاتا ہے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>صدارتی امیدوار اور سابق وزیر اعظم فرانسواں فیوں کو قدامت پسند، جب کہ خاتون امیدوار مارین لے پین کو قدرے نسل پرست اور ایمانول ماکروں کو اعتدال پسند رہنما سمجھا جاتا ہے۔</p><p class=''>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے بتایا کہ ابتدائی اندازوں اور تجزیوں کے مطابق خاتون امیدوار مارین لے پین اور ایمانول ماکروں کامیاب ہوگئے ہیں، اب ان دونوں کا مقابلہ 7 مئی کو ہوگا۔</p><p class=''>خبر رساں ادارے کے مطابق ابتدائی اندازوں کے مطابق ایمانوئل ماکروں نے پہلے مرحلے میں 23 سے 24 فیصد جب کہ مارین لے پین نے  21 سے 23 فیصد ووٹ حاصل کیے، تاہم حتمی نتائج آنے تک نتائج تبدیل بھی ہوسکتے ہیں۔</p><p class=''>ابتدائی رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے کی پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی، جو شام 8 بجے تک جاری رہی، پولنگ کے لیے ملک بھر میں 70 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے، جب کہ 50 ہزار سیکیورٹی اہلکاراور 7ہزار فوجی تعینات کیے گئے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58fd028d35be7.jpg'  alt='ایمانول ماکروں کو اعتدال پسند تصور کیا جاتا ہے&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ایمانول ماکروں کو اعتدال پسند تصور کیا جاتا ہے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>فرانس میں ووٹرز کی تعداد 47 ملین ہے، جب کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولنگ کا ٹرن آؤٹ 80 فیصد رہا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ سخت سیکیورٹی میں ہونے والے فرانسیسی صدارتی انتخابات نہ صرف یورپی یونین بلکہ امریکا اور برطانیہ کے لیے بھی نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں۔</p><p class=''>تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسامے کی جانب سے یورپی یونین کو خداحافظ کہنےجیسے جذبات رکھنے کی وجہ سے فرانس کے حالیہ انتخابات کو یورپی یونین کے مستقبل کے لیے نہایت ہی اہم سمجھا جا رہا ہے۔</p><p class=''>تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ خاتون امیدوار مارین لے پین کی کامیابی ممکنہ طور پر یورپی یونین کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، وہ سب سے پہلے فرانس مفاد کی بات کرتی ہیں۔</p><p class=''>سیاسی مبصرین کے مطابق خاتون امیدوار کے مقابلے ایمانوئل ماکروں کی جیت یورپی یونین کے لیے فائدہ مند رہے گی، وہ اتحاد کے حمایتی تصور کیے جاتے ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/58fd04d45401f.jpg'  alt='ایمانوئل ماکروں اور مارین لے پین ممکنہ طور پر 7 مئی کو آمنے سامنے ہوں گے&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ایمانوئل ماکروں اور مارین لے پین ممکنہ طور پر 7 مئی کو آمنے سامنے ہوں گے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p> 			
</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1056483</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Apr 2017 00:57:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/04/58fd019488ca6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/04/58fd019488ca6.jpg?0.828461882646252"/>
        <media:title>ووٹرز ٹیلی وژن پر نتائج دیکھتے ہوئے—فوٹواے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
