<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:59:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:59:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای او بی آئی میں اربوں کی چوری کی ذمے دار حکومت: سپریم کورٹ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1056642/</link>
      <description>&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/l7AC0r3yWpw?enablejsapi=1&amp;showinfo=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوشن (ای او بی آئی) میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن اور پنشنرز کے کیس کی سماعت کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عدالت عظمیٰ نے ای او بی آئی کے مالی معاملات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز اور نیب پراسیکیوٹر کو طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت رپورٹس نہیں بلکہ مسئلے کا حل چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1009989' &gt;ای او بی آئی کرپشن اسکینڈل کا مرکزی ملزم گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ ای او بی آئی میں جو اربوں کی چوری ہوئی اس کی ذمے دار حکومت ہے، اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے 18 ویں آئینی ترمیم کو چھ سال گزر چکے لیکن اب تک ای او بی آئی کو صوبوں کے حوالے نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آئین پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس موقع پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ 35 سال کی خدمات کے بعد صرف پانچ ہزار روپے کی پنشن دینا ظلم کی انتہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ای او بی آئی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا، اس کی جائیدادیں اونے پونے داموں فروخت کی گئیں لیکن اس میں اس میں پیشنر کا کیا قصور ہے جس نے اپنی امانت سرکاری ادارے کے پاس رکھی۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/105601' &gt;ای او بی آئی کیس: دس روز میں تحقیقات مکمل کرنیکی ہدایت&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ای او بی آئی کا انتظام صوبوں کو منتقل کرنے کے حوالے سے قانون سازی کے لیے فائل وزیر اعظم کے پاس پڑی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سماعت کے دوران جسٹس عظمت نے خبردار کیا کہ اگر مسلہ حل نہ ہوا تو وزارت خزانہ کے فنڈز بند کرنے کا حکم جاری کر سکتے ہیں جبکہ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ حکومت فنڈز کہاں کہاں استعمال کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ہم یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ ایوان پر کتنے اخراجات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعد ازاں کیس کی سماعت 11 مئی تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/l7AC0r3yWpw?enablejsapi=1&showinfo=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوشن (ای او بی آئی) میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن اور پنشنرز کے کیس کی سماعت کی۔</p><p class=''>عدالت عظمیٰ نے ای او بی آئی کے مالی معاملات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز اور نیب پراسیکیوٹر کو طلب کرلیا۔</p><p class=''>سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت رپورٹس نہیں بلکہ مسئلے کا حل چاہتی ہے۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1009989' >ای او بی آئی کرپشن اسکینڈل کا مرکزی ملزم گرفتار</a></h6>
<p class=''>انہوں نے کہا کہ ای او بی آئی میں جو اربوں کی چوری ہوئی اس کی ذمے دار حکومت ہے، اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے 18 ویں آئینی ترمیم کو چھ سال گزر چکے لیکن اب تک ای او بی آئی کو صوبوں کے حوالے نہیں کیا گیا۔</p><p class=''>جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آئین پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔</p><p class=''>اس موقع پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ 35 سال کی خدمات کے بعد صرف پانچ ہزار روپے کی پنشن دینا ظلم کی انتہا ہے۔</p><p class=''>جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ای او بی آئی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا، اس کی جائیدادیں اونے پونے داموں فروخت کی گئیں لیکن اس میں اس میں پیشنر کا کیا قصور ہے جس نے اپنی امانت سرکاری ادارے کے پاس رکھی۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/105601' >ای او بی آئی کیس: دس روز میں تحقیقات مکمل کرنیکی ہدایت</a></h6>
<p class=''>اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ای او بی آئی کا انتظام صوبوں کو منتقل کرنے کے حوالے سے قانون سازی کے لیے فائل وزیر اعظم کے پاس پڑی ہوئی ہے۔</p><p class=''>سماعت کے دوران جسٹس عظمت نے خبردار کیا کہ اگر مسلہ حل نہ ہوا تو وزارت خزانہ کے فنڈز بند کرنے کا حکم جاری کر سکتے ہیں جبکہ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ حکومت فنڈز کہاں کہاں استعمال کر رہی ہے۔</p><p class=''>جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ہم یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ ایوان پر کتنے اخراجات کیے جا رہے ہیں۔</p><p class=''>بعد ازاں کیس کی سماعت 11 مئی تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1056642</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Apr 2017 15:28:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/04/590057fea75da.jpg?r=337370429" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/04/590057fea75da.jpg?r=1407758181"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
