<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 13:07:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 13:07:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیمپئنز ٹرافی: ڈیڈلائن ختم، بھارتی ٹیم کا اعلان نہ ہوا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1056646/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;ممبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے زیر اہتمام ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرنے والے اسکواڈ کے اعلان کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود بھارت نے اپنی ٹیم کا اعلان نہیں کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق چیمپئنز ٹرافی کے لیے اسکواڈ کا اعلان کرنے کی ڈیڈلائن 25 اپریل رات 12 بجے تک تھی تاہم بھارت نے ٹیم کا اعلان نہیں کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کا آمدنی میں معقول حصہ لینے کے لیے آئی سی سی سے جھگڑا بھی چل رہا ہے اور بھارت نے چیمپئنز ٹرافی کا بائیکاٹ کرنے کا امکان بھی رد نہیں کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئی سی سی کے چیئرمین ششناک منوہر خود بھی بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا پر مشتمل بگ تھری ماڈل کے سخت خلاف ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1056599/' &gt;چیمپیئنز ٹرافی کیلئے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان، کامران ڈراپ&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا نے 2014 میں آئی سی سی میں ’بگ تھری ماڈل‘ نافذ کردیا تھا جس کے تحت تینوں ملکوں کو کرکٹ کا مالی اور انتظامی کنٹرول مل گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ویب سائٹ &lt;a href='http://www.espncricinfo.com/ci-icc/content/story/1080557.html' &gt;کرک انفو&lt;/a&gt; کی رپورٹ کے مطابق اس ماڈل کے مطابق آئندہ 8 برس تک آئی سی سی کی ہونے والی کل آمدنی کا 27.4 فیصد حصہ بھارت،آسٹریلیا اور انگلینڈ میں تقسیم ہونا تھا جس میں سب سے زیادہ حصہ (20.3 فیصد) بھارت کو، 4.4 فیصد انگلینڈ اور 2.7 فیصد آسٹریلیا کو ملنا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم رواں برس فروری میں آئی سی سی نے اپنے 2014 کے فیصلے کو واپس لے لیا تھا اور نیا گورننس اور ریوینیو کی تقسیم کا ماڈل پیش کیا تھا لیکن بھارت اس پر سخت ناراض ہے اور اس نئے ماڈل کو تسلیم نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سلسلے میں بھارت کے خدشات کو دور کرنے اور بگ تھری کا تنازع نمٹانے کے لیے دبئی میں آئی سی سی کا اجلاس 24 سے 27 اپریل تک ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رپورٹس کے مطابق بھارت کا مطالبہ ہے کہ اسے کرکٹ سے ہونے والی آمدنی کا مخصوص حصہ دے دیا جائے تو بگ تھری ختم کرنے پر اسے کوئی اعتراض نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1051744' &gt;آئی سی سی کی بگ تھری ختم کرنے کی منظوری&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;بھارت کا دعویٰ ہے کہ آئی سی سی کو بھارتی کرکٹ ٹیم کی وجہ سے سب سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے کیوں کہ بھارت کی آبادی بہت زیادہ ہے اور زیادہ تر اسپانسرز بھی بھارت ہی کی وجہ سے پیسہ لگاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اب بھارت کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی کے لیے اسکواڈ کا اعلان نہ کرنے کو بعض حلقے آئی سی سی پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں تاکہ وہ بھارت کے ساتھ سمجھوتہ کرلے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو بھی بھارت کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی کا بائیکاٹ ایک خطرناک فیصلہ ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے معاملات دیکھنے والی کمیٹی کے سربراہ ونود رائے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رکن ممالک کی شرکت کے معاہدے (ایم پی اے) کے تحت چیمپئنز ٹرافی کے لیے اسکواڈ کے اعلان کی ڈیڈلائن 25 اپریل رات 12 بجے تک تھی تاہم اس معاہدے میں پابندیوں یا جرمانوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1056285' &gt;بھارت کا چیمپیئنز ٹرافی کے بائیکاٹ پر غور&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ بھارت نے 2013 میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کی تھی اور اس کی عدم شرکت سے ٹورنامنٹ کو شدید دھچکہ لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کرک انفو کے مطابق آئی سی سی کے چیئرمین ششناک منوہر نے اجلاس کے دوران پیشکش کی ہے وہ بھارت کے موجودہ شیئر میں 10 کروڑ ڈالر اضافہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم بھارت نے یہ پیشکش قبول کی یا نہیں یہ واضح نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چیمپیئنز ٹرافی کا انعقاد انگلینڈ میں یکم جون سے 18 جون تک منعقد ہوگی جس میں 8 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستانی ٹیم گروپ بی میں ہندوستان، سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے ساتھ موجود ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایونٹ میں پاکستانی ٹیم اپنا پہلا میچ چار جون کو روایتی حریف ہندوستان کے خلاف برمنگھم میں کھیلے گی جس کے بعد دوسرا میچ سات جون کو جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا جائے گا جبکہ آخری راؤنڈ میچ سری لنکا سے 12جون کو ہو گا۔
گروپ اے میں آسٹریلیا، بنگلہ دیش، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>ممبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے زیر اہتمام ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرنے والے اسکواڈ کے اعلان کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود بھارت نے اپنی ٹیم کا اعلان نہیں کیا۔</p><p class=''>برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق چیمپئنز ٹرافی کے لیے اسکواڈ کا اعلان کرنے کی ڈیڈلائن 25 اپریل رات 12 بجے تک تھی تاہم بھارت نے ٹیم کا اعلان نہیں کیا۔</p><p class=''>بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کا آمدنی میں معقول حصہ لینے کے لیے آئی سی سی سے جھگڑا بھی چل رہا ہے اور بھارت نے چیمپئنز ٹرافی کا بائیکاٹ کرنے کا امکان بھی رد نہیں کیا ہے۔</p><p class=''>آئی سی سی کے چیئرمین ششناک منوہر خود بھی بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا پر مشتمل بگ تھری ماڈل کے سخت خلاف ہیں۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1056599/' >چیمپیئنز ٹرافی کیلئے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان، کامران ڈراپ</a></h6>
<p class=''>بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا نے 2014 میں آئی سی سی میں ’بگ تھری ماڈل‘ نافذ کردیا تھا جس کے تحت تینوں ملکوں کو کرکٹ کا مالی اور انتظامی کنٹرول مل گیا تھا۔</p><p class=''>ویب سائٹ <a href='http://www.espncricinfo.com/ci-icc/content/story/1080557.html' >کرک انفو</a> کی رپورٹ کے مطابق اس ماڈل کے مطابق آئندہ 8 برس تک آئی سی سی کی ہونے والی کل آمدنی کا 27.4 فیصد حصہ بھارت،آسٹریلیا اور انگلینڈ میں تقسیم ہونا تھا جس میں سب سے زیادہ حصہ (20.3 فیصد) بھارت کو، 4.4 فیصد انگلینڈ اور 2.7 فیصد آسٹریلیا کو ملنا تھا۔</p><p class=''>تاہم رواں برس فروری میں آئی سی سی نے اپنے 2014 کے فیصلے کو واپس لے لیا تھا اور نیا گورننس اور ریوینیو کی تقسیم کا ماڈل پیش کیا تھا لیکن بھارت اس پر سخت ناراض ہے اور اس نئے ماڈل کو تسلیم نہیں کرتا۔</p><p class=''>اس سلسلے میں بھارت کے خدشات کو دور کرنے اور بگ تھری کا تنازع نمٹانے کے لیے دبئی میں آئی سی سی کا اجلاس 24 سے 27 اپریل تک ہورہا ہے۔</p><p class=''>رپورٹس کے مطابق بھارت کا مطالبہ ہے کہ اسے کرکٹ سے ہونے والی آمدنی کا مخصوص حصہ دے دیا جائے تو بگ تھری ختم کرنے پر اسے کوئی اعتراض نہیں۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1051744' >آئی سی سی کی بگ تھری ختم کرنے کی منظوری</a></h6>
<p class=''>بھارت کا دعویٰ ہے کہ آئی سی سی کو بھارتی کرکٹ ٹیم کی وجہ سے سب سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے کیوں کہ بھارت کی آبادی بہت زیادہ ہے اور زیادہ تر اسپانسرز بھی بھارت ہی کی وجہ سے پیسہ لگاتے ہیں۔</p><p class=''>اب بھارت کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی کے لیے اسکواڈ کا اعلان نہ کرنے کو بعض حلقے آئی سی سی پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں تاکہ وہ بھارت کے ساتھ سمجھوتہ کرلے۔</p><p class=''>تاہم مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو بھی بھارت کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی کا بائیکاٹ ایک خطرناک فیصلہ ہوا۔</p><p class=''>سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے معاملات دیکھنے والی کمیٹی کے سربراہ ونود رائے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں۔</p><p class=''>رکن ممالک کی شرکت کے معاہدے (ایم پی اے) کے تحت چیمپئنز ٹرافی کے لیے اسکواڈ کے اعلان کی ڈیڈلائن 25 اپریل رات 12 بجے تک تھی تاہم اس معاہدے میں پابندیوں یا جرمانوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1056285' >بھارت کا چیمپیئنز ٹرافی کے بائیکاٹ پر غور</a></h6>
<p class=''>واضح رہے کہ بھارت نے 2013 میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کی تھی اور اس کی عدم شرکت سے ٹورنامنٹ کو شدید دھچکہ لگ سکتا ہے۔</p><p class=''>کرک انفو کے مطابق آئی سی سی کے چیئرمین ششناک منوہر نے اجلاس کے دوران پیشکش کی ہے وہ بھارت کے موجودہ شیئر میں 10 کروڑ ڈالر اضافہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم بھارت نے یہ پیشکش قبول کی یا نہیں یہ واضح نہیں۔</p><p class=''>چیمپیئنز ٹرافی کا انعقاد انگلینڈ میں یکم جون سے 18 جون تک منعقد ہوگی جس میں 8 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔</p><p class=''>پاکستانی ٹیم گروپ بی میں ہندوستان، سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے ساتھ موجود ہے۔</p><p class=''>ایونٹ میں پاکستانی ٹیم اپنا پہلا میچ چار جون کو روایتی حریف ہندوستان کے خلاف برمنگھم میں کھیلے گی جس کے بعد دوسرا میچ سات جون کو جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا جائے گا جبکہ آخری راؤنڈ میچ سری لنکا سے 12جون کو ہو گا۔
گروپ اے میں آسٹریلیا، بنگلہ دیش، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔</p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1056646</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Apr 2017 15:06:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/04/59006f0adabb1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/04/59006f0adabb1.jpg?0.007561913075858295"/>
        <media:title>ایونٹ میں شامل 8 ملکوں میں صرف بھارت نے اپنی ٹیم کا اعلان نہیں کیا— فائل فوٹو/ اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
