<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 21:13:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 21:13:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انسان پہلے کہاں آباد ہوا، ایشیا یا امریکا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1056821/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;سکرامنٹو: اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ اتنی ہی پرانی ہے، جتنی قدیم یہ کائنات اور انسان ہے، بلکہ کئی ماہرین تاریخ کو انسان سے بھی قدیم مانتے ہیں، مگر پھر بھی آج تک تاریخ پر تحقیق ہوتی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاریخ دانوں اور سائنسدانوں میں یہ بحث بھی پرانی ہے کہ انسان سب سے پہلے دنیا کے کس خطے میں آباد ہوا؟&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;زیادہ تر سائنسدانوں، آرکیالوجی ماہرین، ماہرعمرانیات اور تاریخ دانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سب سے پہلے انسان ایشیا یا افریقا میں آباد ہوا، تاہم اب امریکی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ایشیا سے پہلے شمالی امریکا میں انسان آباد ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سائنسی جریدے &amp;#39;نیچر&amp;#39; میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے امریکی ماہرین نے متنازع دعویٰ کیا ہے کہ شمالی امریکا میں انسان کم سے ایک لاکھ سال پہلے آباد ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سائنسدانوں کے دعوے کو سائنسی جریدے نے متنازع قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ماہرین کے مطابق شمالی امریکا میں پہلے پہل ایک لاکھ 30 ہزار سال قبل انسان آباد ہوئے، تاہم یہاں قدیم انسانی زندگی کی ایک لاکھ سالہ پرانی تاریخ کے آثار ملتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جریدے کے مطابق آرکیالوجی اور تاریخی ماہرین پر مشتمل ٹیم نے یہ دعویٰ 1992 میں کیلیفورنیا کے قریب ایک سڑک کی تعمیر کے دوران ملنے والی جانوروں کی باقیات پر طویل تحقیق کے بعد کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سائنسدانوں کے مطابق جانوروں کی باقیات ایک لاکھ سال پرانی ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس خطے میں انسان بستے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/5903868267ebb.jpg'  alt='ماہرین نے 1992 میں ملنے والے جانوروں کی باقیات پر تحقیقات کیں&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ماہرین نے 1992 میں ملنے والے جانوروں کی باقیات پر تحقیقات کیں—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جریدے نے لکھا کہ اس سے پہلے ہونے والی زیادہ تر تحقیقات میں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شمالی امریکا میں انسان 20 ہزار سال پہلے آئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جریدے نے امریکی اور برطانوی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ شمالی امریکا میں آباد ہونے والے انسان 15 ہزار سال قبل ایشیا سے یہاں منتقل ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شمالی امریکا میں ایک لاکھ برس قبل انسانی زندگی کا دعویٰ کرنے والے ماہرین نے 1992 میں دریافت ہونے والی جانوروں کی باقیات پر سان ڈیاگو نیچرل ہسٹری میوزیم میں کئی ماہ تک تحقیقات کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ماہرین کے مطابق تحقیق سے پتہ چلا کہ جانوروں کی باقیات ایک لاکھ 30 ہزار اور ایک لاکھ سال پرانی ہیں، ممکنہ طور پر ان جانوروں کے گوشت کو انسانوں نے اپنی غذا کے لیے استعمال کیا ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سائنسی جریدے کے مطابق ماہرین کو اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق کرنا ہوگی، کیوں کہ اب تک کی زیادہ تر تحقیقات یہی کہتی ہیں کہ امریکا میں 20 ہزار سال قبل پہلے پہل الاسکا میں انسان آباد ہوئے، جو بعد ازاں جنوبی امریکی ممالک کی جانب منتقل ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سائنسی جریدے نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ماضی میں کچھ دیگر ماہرین کو بھی امریکا میں 40 ہزار سال قبل انسانوں کے آباد ہونے کے ثبوت ملے تھے، جنہیں دیگر ماہرین نے شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا، جب کہ حالیہ دعوے میں ایک لاکھ برس کا دعویٰ کیا گیا، جو قدرے متنازع لگتا ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>سکرامنٹو: اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ اتنی ہی پرانی ہے، جتنی قدیم یہ کائنات اور انسان ہے، بلکہ کئی ماہرین تاریخ کو انسان سے بھی قدیم مانتے ہیں، مگر پھر بھی آج تک تاریخ پر تحقیق ہوتی رہتی ہے۔</p><p class=''>تاریخ دانوں اور سائنسدانوں میں یہ بحث بھی پرانی ہے کہ انسان سب سے پہلے دنیا کے کس خطے میں آباد ہوا؟</p><p class=''>زیادہ تر سائنسدانوں، آرکیالوجی ماہرین، ماہرعمرانیات اور تاریخ دانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سب سے پہلے انسان ایشیا یا افریقا میں آباد ہوا، تاہم اب امریکی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ایشیا سے پہلے شمالی امریکا میں انسان آباد ہوئے۔</p><p class=''>سائنسی جریدے &#39;نیچر&#39; میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے امریکی ماہرین نے متنازع دعویٰ کیا ہے کہ شمالی امریکا میں انسان کم سے ایک لاکھ سال پہلے آباد ہوئے۔</p><p class=''>سائنسدانوں کے دعوے کو سائنسی جریدے نے متنازع قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ماہرین کے مطابق شمالی امریکا میں پہلے پہل ایک لاکھ 30 ہزار سال قبل انسان آباد ہوئے، تاہم یہاں قدیم انسانی زندگی کی ایک لاکھ سالہ پرانی تاریخ کے آثار ملتے ہیں۔</p><p class=''>جریدے کے مطابق آرکیالوجی اور تاریخی ماہرین پر مشتمل ٹیم نے یہ دعویٰ 1992 میں کیلیفورنیا کے قریب ایک سڑک کی تعمیر کے دوران ملنے والی جانوروں کی باقیات پر طویل تحقیق کے بعد کیا۔</p><p class=''>سائنسدانوں کے مطابق جانوروں کی باقیات ایک لاکھ سال پرانی ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس خطے میں انسان بستے تھے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/04/5903868267ebb.jpg'  alt='ماہرین نے 1992 میں ملنے والے جانوروں کی باقیات پر تحقیقات کیں&mdash;فوٹو: رائٹرز' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ماہرین نے 1992 میں ملنے والے جانوروں کی باقیات پر تحقیقات کیں—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>جریدے نے لکھا کہ اس سے پہلے ہونے والی زیادہ تر تحقیقات میں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شمالی امریکا میں انسان 20 ہزار سال پہلے آئے تھے۔</p><p class=''>جریدے نے امریکی اور برطانوی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ شمالی امریکا میں آباد ہونے والے انسان 15 ہزار سال قبل ایشیا سے یہاں منتقل ہوئے تھے۔</p><p class=''>شمالی امریکا میں ایک لاکھ برس قبل انسانی زندگی کا دعویٰ کرنے والے ماہرین نے 1992 میں دریافت ہونے والی جانوروں کی باقیات پر سان ڈیاگو نیچرل ہسٹری میوزیم میں کئی ماہ تک تحقیقات کی۔</p><p class=''>ماہرین کے مطابق تحقیق سے پتہ چلا کہ جانوروں کی باقیات ایک لاکھ 30 ہزار اور ایک لاکھ سال پرانی ہیں، ممکنہ طور پر ان جانوروں کے گوشت کو انسانوں نے اپنی غذا کے لیے استعمال کیا ہوگا۔</p><p class=''>سائنسی جریدے کے مطابق ماہرین کو اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق کرنا ہوگی، کیوں کہ اب تک کی زیادہ تر تحقیقات یہی کہتی ہیں کہ امریکا میں 20 ہزار سال قبل پہلے پہل الاسکا میں انسان آباد ہوئے، جو بعد ازاں جنوبی امریکی ممالک کی جانب منتقل ہوئے۔</p><p class=''>سائنسی جریدے نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ماضی میں کچھ دیگر ماہرین کو بھی امریکا میں 40 ہزار سال قبل انسانوں کے آباد ہونے کے ثبوت ملے تھے، جنہیں دیگر ماہرین نے شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا، جب کہ حالیہ دعوے میں ایک لاکھ برس کا دعویٰ کیا گیا، جو قدرے متنازع لگتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1056821</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Apr 2017 10:30:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/04/590385e60814c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/04/590385e60814c.jpg?0.7803824786168245"/>
        <media:title>آرکیالوجی ماہر سان ڈیاگو میوزیم میں تحقیقات کرتے ہوئے—فوٹو: رائٹرز</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
