<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 15 May 2026 06:36:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 15 May 2026 06:36:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گستاخی کے ملزم نے تمام الزامات مسترد کر دیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1056898/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: توہین مذہب کے الزام میں گرفتار شخص نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے عائد کردہ تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کی درخواست کی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایف آئی اے نے گزشتہ مبینہ گستاخی کے ایک مقدمے میں اس شخص کو گرفتار کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر موجود گستاخانہ مواد کی تشہیر پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد سے ایف آئی اے اب تک 4 لوگوں کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h5&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1053661' &gt;سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کی گستاخی پر مقدمہ درج&lt;/a&gt;&lt;/h5&gt;
&lt;p class=''&gt;ملزم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر موجود کسی بھی گستاخانہ مواد کی اشاعت میں میں ملوث نہیں ہے تاہم اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر موجود اس کی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر تبدیلیاں کر کے گستاخانہ مواد شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ مبینہ گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقدمات کے اندراج، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) اور مشتبہ افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم دیا تھا جبکہ سوشل میڈیا سے گستاخانہ مواد کو ہٹانے کے لیے سرکاری مشینری استعمال کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;h5&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1053599/' &gt;سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد شائع کرنے والوں کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/h5&gt;
&lt;p class=''&gt;عدالت نے متعلقہ حکام کو یہ ہدایات بھی دی تھیں کہ وہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون میں توہین مذہب اور پورنوگرافی سے متعلق شقیں شامل کریں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقننہ سے موجودہ قوانین میں ترمیم کرنے کی بھی سفارش کی ہے تاکہ گستاخی کے جھوٹے الزامات لگانے والوں کو بھی گستاخی کرنے والے کے برابر سزا دی جاسکے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 30 اپریل کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد: توہین مذہب کے الزام میں گرفتار شخص نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے عائد کردہ تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کی درخواست کی ہے۔</p><p class=''>ایف آئی اے نے گزشتہ مبینہ گستاخی کے ایک مقدمے میں اس شخص کو گرفتار کیا تھا۔</p><p class=''>سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر موجود گستاخانہ مواد کی تشہیر پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد سے ایف آئی اے اب تک 4 لوگوں کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کر چکی ہے۔</p><h5>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1053661' >سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کی گستاخی پر مقدمہ درج</a></h5>
<p class=''>ملزم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر موجود کسی بھی گستاخانہ مواد کی اشاعت میں میں ملوث نہیں ہے تاہم اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر موجود اس کی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر تبدیلیاں کر کے گستاخانہ مواد شامل کیا گیا ہے۔</p><p class=''>واضح رہے کہ مبینہ گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقدمات کے اندراج، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) اور مشتبہ افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم دیا تھا جبکہ سوشل میڈیا سے گستاخانہ مواد کو ہٹانے کے لیے سرکاری مشینری استعمال کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔</p><h5>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1053599/' >سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد شائع کرنے والوں کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم</a></h5>
<p class=''>عدالت نے متعلقہ حکام کو یہ ہدایات بھی دی تھیں کہ وہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون میں توہین مذہب اور پورنوگرافی سے متعلق شقیں شامل کریں۔</p><p class=''>خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقننہ سے موجودہ قوانین میں ترمیم کرنے کی بھی سفارش کی ہے تاکہ گستاخی کے جھوٹے الزامات لگانے والوں کو بھی گستاخی کرنے والے کے برابر سزا دی جاسکے۔</p><p class=''><strong><em>یہ خبر 30 اپریل کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1056898</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Apr 2017 11:14:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/04/59057b448f766.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/04/59057b448f766.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
