<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 08:41:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 09 Jun 2026 08:41:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کا اپنا وکی پیڈیا متعارف کرانے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1057053/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;بیجنگ: آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین میں جہاں سوشل ویب سائٹس سمیت دیگر ویب سائٹس بھی وہاں کی مقامی ہیں، اب وہاں وکی پیڈیا کا بھی لوکل ورژن متعارف کرایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چین کی حکومت ’چائنیز انسائیکلوپیڈیا‘ پر کام کر رہی ہے، جسے 2018 میں آن لائن کردیا جائے گا، اس ویب سائٹ پر مواد لکھنے کے لیے 20 ہزار افراد کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چائنیز وکی پیڈیا کو انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کی طرح ایک آن لائین ڈکشنری کے طور پر چلایا جائے گا، اس کے لیے ایک ایڈیٹر ان چیف کی خدمات بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چینی انسائیکلو پیڈیا کے ایڈیٹر ان چیف یانگ موشی نے ساؤتھ چائنا مورننگ پوسٹ نامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ چین کی کمیونسٹ حکومت اپنی آن لائین ڈائریکٹری متعارف کرانے کے لیے 20 ہزار طلبہ، اسکالر، اساتذہ اور لکھاریوں کی خدمات حاصل کرے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایڈیٹر ان چیف کے مطابق چینی انسائیکلو پیڈیا کو 2018 تک آن لائین کردیا جائے گا، اس وقت تک اس میں 100 شعبوں کے کم سے کم 3 لاکھ آرٹیکل شامل کیے جائیں گے، جب کہ ہر آرٹیکل کم سے کم ایک ہزار الفاظ پر مشتمل ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چینی حکام کے مطابق اس ویب سائیٹ کا مقصد دنیا تک چین کے حوالے سے سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، سیاحت، سیاست اور دیگر معاملات سے متعلق مصدقہ معلومات کو پہنچانا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس ویب سائیٹ کے ایڈیٹر ان چیف نے اس منصوبے کو ثقافتی انقلاب کا نام دیتے ہوئے کہا کہ اس ویب سائیٹ میں انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے مقابلے دگنا مواد دستیاب ہوگا، جو مستند اور حقائق پر مبنی ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ چین میں وکی پیڈیا سمیت فیس بک اور ٹوئٹر جیسی ویب سائیٹ پر پابندی عائد ہے، چین میں لوکل سوشل و ڈیٹنگ ویب سائیٹس تیار کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چین جہاں آبادی کے لحاظ سے دنیا ک سب سے بڑا ملک ہے، وہیں یہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کے حوالے سے بھی سب سے بڑا ملک ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علاوہ ازیں چائینیز انسائیکلو پیڈیا کے بھی اب تک 74 والیوم آچکے ہیں، اس ڈکشنری پر 1970 میں کام کا آغاز کیا گیا تھا، اس میں بھی ہزاروں چینی سائنسدانوں، ماہرین، اساتذہ، طلبہ و اسکالرز کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>بیجنگ: آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین میں جہاں سوشل ویب سائٹس سمیت دیگر ویب سائٹس بھی وہاں کی مقامی ہیں، اب وہاں وکی پیڈیا کا بھی لوکل ورژن متعارف کرایا جا رہا ہے۔</p><p class=''>چین کی حکومت ’چائنیز انسائیکلوپیڈیا‘ پر کام کر رہی ہے، جسے 2018 میں آن لائن کردیا جائے گا، اس ویب سائٹ پر مواد لکھنے کے لیے 20 ہزار افراد کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔</p><p class=''>چائنیز وکی پیڈیا کو انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کی طرح ایک آن لائین ڈکشنری کے طور پر چلایا جائے گا، اس کے لیے ایک ایڈیٹر ان چیف کی خدمات بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔</p><p class=''>چینی انسائیکلو پیڈیا کے ایڈیٹر ان چیف یانگ موشی نے ساؤتھ چائنا مورننگ پوسٹ نامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ چین کی کمیونسٹ حکومت اپنی آن لائین ڈائریکٹری متعارف کرانے کے لیے 20 ہزار طلبہ، اسکالر، اساتذہ اور لکھاریوں کی خدمات حاصل کرے گی۔</p><p class=''>ایڈیٹر ان چیف کے مطابق چینی انسائیکلو پیڈیا کو 2018 تک آن لائین کردیا جائے گا، اس وقت تک اس میں 100 شعبوں کے کم سے کم 3 لاکھ آرٹیکل شامل کیے جائیں گے، جب کہ ہر آرٹیکل کم سے کم ایک ہزار الفاظ پر مشتمل ہوگا۔</p><p class=''>چینی حکام کے مطابق اس ویب سائیٹ کا مقصد دنیا تک چین کے حوالے سے سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، سیاحت، سیاست اور دیگر معاملات سے متعلق مصدقہ معلومات کو پہنچانا ہے۔</p><p class=''>اس ویب سائیٹ کے ایڈیٹر ان چیف نے اس منصوبے کو ثقافتی انقلاب کا نام دیتے ہوئے کہا کہ اس ویب سائیٹ میں انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے مقابلے دگنا مواد دستیاب ہوگا، جو مستند اور حقائق پر مبنی ہوگا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ چین میں وکی پیڈیا سمیت فیس بک اور ٹوئٹر جیسی ویب سائیٹ پر پابندی عائد ہے، چین میں لوکل سوشل و ڈیٹنگ ویب سائیٹس تیار کی گئی ہیں۔</p><p class=''>چین جہاں آبادی کے لحاظ سے دنیا ک سب سے بڑا ملک ہے، وہیں یہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کے حوالے سے بھی سب سے بڑا ملک ہے۔</p><p class=''>علاوہ ازیں چائینیز انسائیکلو پیڈیا کے بھی اب تک 74 والیوم آچکے ہیں، اس ڈکشنری پر 1970 میں کام کا آغاز کیا گیا تھا، اس میں بھی ہزاروں چینی سائنسدانوں، ماہرین، اساتذہ، طلبہ و اسکالرز کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1057053</guid>
      <pubDate>Wed, 03 May 2017 15:03:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/5908a7dea380e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/5908a7dea380e.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو رائیٹرز</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
