<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 15:30:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 15:30:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گستاخانہ مواد کیخلاف پی ٹی اے کی آگاہی مہم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1057523/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایس ایم ایس سروس کے ذریعے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1054538' &gt;گستاخانہ مواد انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پر&lt;/a&gt; اپ لوڈ کرنے کے خلاف آگاہی مہم شروع کردی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس آگاہی مہم کے دوران پی ٹی اے سوشل میڈیا صارفین کو مطلع کررہا ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر موجود گستاخانہ مواد کو پہچانیں اور جو لوگ غفلت میں اس پر رد عمل ظاہر کردیتے ہیں وہ بھی ایسا کرنے سے باز رہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ پاکستان میں چلنے والی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر گستاخانہ مواد کی موجودگی کی رپورٹس منظر عام پر آنے کے بعد &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1053661/' &gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیا&lt;/a&gt; تھا اور پی ٹی اے سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو ٹھوس اقدامات کی ہدایت جاری کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1054067' &gt;گستاخانہ مواد: فیس بک اپنا وفد پاکستان بھیجنے پر رضامند&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اس کے علاوہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی سربراہی میں کام کرنے والی قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن، ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن بھی پی ٹی اے پر گستاخانہ مواد کے خلاف ایکشن لینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;موبائل فون پر صارفین کو پی ٹی اے کی جانب سے جو میسج بھیجا جارہا ہے اس میں لکھا ہے کہ : ’انٹرنیٹ پر کسی بھی قسم کا گستاخانہ مواد اپ لوڈ کرنا یا شیئر کرنا قانون کے تحت قابل تعزیر جرم ہے۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے قانونی کارروائی کے لیے پی ٹی اے کو  &lt;a href="mailto:info@pta.gov.pk"&gt;info@pta.gov.pk&lt;/a&gt;  پر رپوٹ درج کرائیں‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر (لیگل) ناصر ایاز نے پارلیمانی کمیٹی کو یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اپ لوڈنگ کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایس ایم ایس سروس کے ذریعے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1054538' >گستاخانہ مواد انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پر</a> اپ لوڈ کرنے کے خلاف آگاہی مہم شروع کردی۔</p><p class=''>اس آگاہی مہم کے دوران پی ٹی اے سوشل میڈیا صارفین کو مطلع کررہا ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر موجود گستاخانہ مواد کو پہچانیں اور جو لوگ غفلت میں اس پر رد عمل ظاہر کردیتے ہیں وہ بھی ایسا کرنے سے باز رہیں۔</p><p class=''>خیال رہے کہ پاکستان میں چلنے والی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر گستاخانہ مواد کی موجودگی کی رپورٹس منظر عام پر آنے کے بعد <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1053661/' >اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیا</a> تھا اور پی ٹی اے سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو ٹھوس اقدامات کی ہدایت جاری کی تھی۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1054067' >گستاخانہ مواد: فیس بک اپنا وفد پاکستان بھیجنے پر رضامند</a></h6>
<p class=''>اس کے علاوہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی سربراہی میں کام کرنے والی قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن، ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن بھی پی ٹی اے پر گستاخانہ مواد کے خلاف ایکشن لینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔</p><p class=''>موبائل فون پر صارفین کو پی ٹی اے کی جانب سے جو میسج بھیجا جارہا ہے اس میں لکھا ہے کہ : ’انٹرنیٹ پر کسی بھی قسم کا گستاخانہ مواد اپ لوڈ کرنا یا شیئر کرنا قانون کے تحت قابل تعزیر جرم ہے۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے قانونی کارروائی کے لیے پی ٹی اے کو  <a href="mailto:info@pta.gov.pk">info@pta.gov.pk</a>  پر رپوٹ درج کرائیں‘۔</p><p class=''>وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر (لیگل) ناصر ایاز نے پارلیمانی کمیٹی کو یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اپ لوڈنگ کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1057523</guid>
      <pubDate>Wed, 10 May 2017 11:27:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/5912b1baafd1f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/5912b1baafd1f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
