<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:01:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:01:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک فوج نے ڈان خبر کی تحقیقات سے متعلق ٹوئیٹ واپس لے لی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1057541/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;راولپنڈی: پاک فوج نے ڈان اخبار میں &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1044728/' &gt;شائع ہونے والی خبر&lt;/a&gt; سے متعلق حکومتی احکامات کو ’مسترد‘ کیے جانے کے حوالے سے کی جانے والی ٹوئیٹ واپس لے لی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’29 اپریل کا ٹوئیٹ غیر موثر ہوگیا ہے، فوج جمہوری عمل کی حمایت اور آئینی بالادستی کےعزم کا اعادہ کرتی ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ ’29 اپریل کا ٹوئیٹ کسی ادارے یا شخصیت کے خلاف نہیں تھا‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈان کی خبر کے حوالے سے قائم کی جانے والی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے پیرا 18 میں کی جانے والی سفارشات کی وزیراعظم نے باضابطہ طور پر منظوری دی پھر اس کا نفاذ ہوا جس کے بعد ڈان کی خبر کا معاملہ نمٹ گیا۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057020' &gt;طارق فاطمی کا الوداعی خط، تمام الزامات مسترد کردیئے&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ’اس سلسلے میں کی جانے والی ٹوئیٹ واپس لے لی گئی اور اب وہ غیر موثر ہوچکی ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاک فوج کی جانب سے ٹوئیٹ سے دستبرداری سے کچھ دیر قبل ہی وزیراعظم نواز شریف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ذرائع کے مطابق ملاقات میں ڈان خبر کے معاملے پر حکومت اور پاک فوج کے درمیان تحفظات دور کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا جبکہ وزیر داخلہ چوہدری نثار کو پریس کانفرنس بھی کرنی تھی جو انہوں نے اچانک منسوخ کردی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;فوج جمہوریت کی مضبوطی چاہتی ہے، آصف غفور&lt;/h3&gt;
&lt;p class=''&gt;بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈان کی خبر کے حوالے سے جاری ہونے والے حکومتی احکامات انکوائری بورڈ کی سفارشات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ اس کے جواب میں فوج کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری ہوا اور ٹوئیٹ بھی کی گئی لیکن یہ ٹوئیٹ نوٹیفکیشن کے ادھورے ہونے کے حوالے سے کسی ادارے کے خلاف نہیں تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس ٹوئیٹ اور پریس ریلیز کو بنیاد بناکر حکومت اور فوج کو آمنے سامنے لاکر کھڑا کردیا گیا حالانکہ وہ کسی ادارے یا حکومتی شخصیت کے خلاف نہیں تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ اب وزارت داخلہ نے پیرا 18 کے مطابق جو سفارشات تھیں ان کی مکمل ہدایات جاری کردیں، ہم حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہیں، وہ نہ صرف مکمل حقائق سامنے لے کر آئی بلکہ جو غلط فہمیاں تھیں انہیں بھی دور کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج پاکستان کا ایک مضبوط ادارہ ہے، ادارے کی حیثیت سے دیگر تمام اداروں کے ساتھ ملک کر ملک کی بہتری کے لیے جو ممکن ہوا کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج بھی جمہوریت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے جتنا ہر پاکستانی کرتا ہے، فوج جمہوریت کی مضبوطی کی خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;ڈان کی خبر کا معاملہ طے پاگیا، وزارت داخلہ&lt;/h3&gt;
&lt;p class=''&gt;آئی ایس پی آر کی جانب سے 29 اپریل کو کی جانے والی ٹوئیٹ واپس لیے جانے کے بعد وزارت داخلہ نے بھی ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ چونکہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد ہوگیا لہٰذا ڈان کی خبر کا معاملہ طے پاگیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اعلامیے کے مطابق انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی وزیراعظم کی جانب سے منظوری کے بعد متعلقہ اداروں نے اس پر عمل درآمد کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ بھی کہا گیا کہ تمام وزارتوں اور اداروں نے وزیراعظم کے احکامات پر عمل درآمد کیا جبکہ پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین علی خان نے معاملے کو پیشہ ورانہ طریقے سے ہینڈل نہیں کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اعلامیے کے مطابق راؤ تحسین کے خلاف ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن رولز 1973 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی جبکہ  انکوائری کمیٹی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی سے قلمدان واپس لینے کی بھی سفارش کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وزارت داخلہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کے خلاف کارروائی کی بھی کمیٹی نےتوثیق کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اعلامیے کے مطابق 29 اپریل کو وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آخر میں اعلامیے میں یہ کہا گیا کہ چونکہ وزیراعظم کے جاری کردہ احکامات پر متعلقہ وزارتیں اور محکمے عمل کرچکے ہیں لہٰذا ڈان کی خبر کا معاملہ نمٹ گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ 29 اپریل کو  ڈان اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر کے معاملے میں مبینہ طور پر کردار ادا کرنے پر وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1056859/' &gt;طارق فاطمی کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا&lt;/a&gt; تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین علی خان کے خلاف بھی ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن (ای اینڈ ڈی) رولز 1973 کے تحت کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;لیکن کچھ دیر بعد ہی پاک فوج نے ڈان کی خبر کے معاملے پر حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
			&lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
				&lt;a href="https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/858257576210952192"&gt;&lt;/a&gt;
			&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’ڈان کی خبر کے حوالے سے جاری ہونے والا اعلامیہ نامکمل اور انکوائری بورڈ کی سفارشات سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;ڈان اخبار کی خبر کا معاملہ&lt;/h3&gt;
&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ 6 اکتوبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہونے والی ایک &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1044728/' &gt;خبر&lt;/a&gt; کی تحقیقات کے لیے حکومت نے نومبر 2016 میں جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا خان کی سربراہی میں &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1046477' &gt;7 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل&lt;/a&gt; دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مذکورہ خبر سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کا سبب بنی تھی، جس کے بعد وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے 3 دفعہ اس کی تردید بھی جاری کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سے قبل اہم خبر کے حوالے سے کوتاہی برتنے پر وزیراعظم نوازشریف نے اکتوبر 2016 میں ہی پرویز رشید سے و&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1046002' &gt;فاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا قلم دان واپس&lt;/a&gt; لے لیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سرکاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اخبار میں چھپنے والی خبر قومی سلامتی کے منافی تھی اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پرویز رشید نے کوتاہی برتی، یہی وجہ ہے کہ انہیں آزادانہ تحقیقات کے لیے وزارت چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب خبر رپورٹ کرنے والے صحافی سرل المیڈا کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا گیا تھا، جسے بعدازاں خارج کردیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اپنے اداریے میں ڈان نے اپنے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1045034' &gt;موقف کی وضاحت کرتے ہوئے&lt;/a&gt; کہا تھا کہ ’خبر تصدیق شدہ تھی جس میں موجود حقائق کو مختلف ذرائع سے جانچا گیا تھا‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ ڈان اخبار کی خبر کے معاملے پر انکوائری کمیٹی کی سفارشات رواں ہفتے ہی وزیراعظم نواز شریف کو ارسال کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>راولپنڈی: پاک فوج نے ڈان اخبار میں <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1044728/' >شائع ہونے والی خبر</a> سے متعلق حکومتی احکامات کو ’مسترد‘ کیے جانے کے حوالے سے کی جانے والی ٹوئیٹ واپس لے لی۔</p><p class=''>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’29 اپریل کا ٹوئیٹ غیر موثر ہوگیا ہے، فوج جمہوری عمل کی حمایت اور آئینی بالادستی کےعزم کا اعادہ کرتی ہے‘۔</p><p class=''>آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ ’29 اپریل کا ٹوئیٹ کسی ادارے یا شخصیت کے خلاف نہیں تھا‘۔</p><p class=''>پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈان کی خبر کے حوالے سے قائم کی جانے والی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے پیرا 18 میں کی جانے والی سفارشات کی وزیراعظم نے باضابطہ طور پر منظوری دی پھر اس کا نفاذ ہوا جس کے بعد ڈان کی خبر کا معاملہ نمٹ گیا۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057020' >طارق فاطمی کا الوداعی خط، تمام الزامات مسترد کردیئے</a></h6>
<p class=''>آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ’اس سلسلے میں کی جانے والی ٹوئیٹ واپس لے لی گئی اور اب وہ غیر موثر ہوچکی ہے‘۔</p><p class=''>پاک فوج کی جانب سے ٹوئیٹ سے دستبرداری سے کچھ دیر قبل ہی وزیراعظم نواز شریف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے ملاقات کی تھی۔</p><p class=''>ذرائع کے مطابق ملاقات میں ڈان خبر کے معاملے پر حکومت اور پاک فوج کے درمیان تحفظات دور کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا جبکہ وزیر داخلہ چوہدری نثار کو پریس کانفرنس بھی کرنی تھی جو انہوں نے اچانک منسوخ کردی تھی۔</p><h3>فوج جمہوریت کی مضبوطی چاہتی ہے، آصف غفور</h3>
<p class=''>بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈان کی خبر کے حوالے سے جاری ہونے والے حکومتی احکامات انکوائری بورڈ کی سفارشات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ اس کے جواب میں فوج کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری ہوا اور ٹوئیٹ بھی کی گئی لیکن یہ ٹوئیٹ نوٹیفکیشن کے ادھورے ہونے کے حوالے سے کسی ادارے کے خلاف نہیں تھا۔</p><p class=''>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس ٹوئیٹ اور پریس ریلیز کو بنیاد بناکر حکومت اور فوج کو آمنے سامنے لاکر کھڑا کردیا گیا حالانکہ وہ کسی ادارے یا حکومتی شخصیت کے خلاف نہیں تھی۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ اب وزارت داخلہ نے پیرا 18 کے مطابق جو سفارشات تھیں ان کی مکمل ہدایات جاری کردیں، ہم حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہیں، وہ نہ صرف مکمل حقائق سامنے لے کر آئی بلکہ جو غلط فہمیاں تھیں انہیں بھی دور کیا۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج پاکستان کا ایک مضبوط ادارہ ہے، ادارے کی حیثیت سے دیگر تمام اداروں کے ساتھ ملک کر ملک کی بہتری کے لیے جو ممکن ہوا کرتے رہیں گے۔</p><p class=''>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج بھی جمہوریت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے جتنا ہر پاکستانی کرتا ہے، فوج جمہوریت کی مضبوطی کی خواہاں ہے۔</p><h3>ڈان کی خبر کا معاملہ طے پاگیا، وزارت داخلہ</h3>
<p class=''>آئی ایس پی آر کی جانب سے 29 اپریل کو کی جانے والی ٹوئیٹ واپس لیے جانے کے بعد وزارت داخلہ نے بھی ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ چونکہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد ہوگیا لہٰذا ڈان کی خبر کا معاملہ طے پاگیا ہے۔</p><p class=''>اعلامیے کے مطابق انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی وزیراعظم کی جانب سے منظوری کے بعد متعلقہ اداروں نے اس پر عمل درآمد کیا۔</p><p class=''>یہ بھی کہا گیا کہ تمام وزارتوں اور اداروں نے وزیراعظم کے احکامات پر عمل درآمد کیا جبکہ پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین علی خان نے معاملے کو پیشہ ورانہ طریقے سے ہینڈل نہیں کیا۔</p><p class=''>اعلامیے کے مطابق راؤ تحسین کے خلاف ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن رولز 1973 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی جبکہ  انکوائری کمیٹی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی سے قلمدان واپس لینے کی بھی سفارش کی۔</p><p class=''>وزارت داخلہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کے خلاف کارروائی کی بھی کمیٹی نےتوثیق کی۔</p><p class=''>اعلامیے کے مطابق 29 اپریل کو وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی۔</p><p class=''>آخر میں اعلامیے میں یہ کہا گیا کہ چونکہ وزیراعظم کے جاری کردہ احکامات پر متعلقہ وزارتیں اور محکمے عمل کرچکے ہیں لہٰذا ڈان کی خبر کا معاملہ نمٹ گیا ہے۔</p><p class=''>یاد رہے کہ 29 اپریل کو  ڈان اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر کے معاملے میں مبینہ طور پر کردار ادا کرنے پر وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1056859/' >طارق فاطمی کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا</a> تھا۔</p><p class=''>دوسری جانب پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین علی خان کے خلاف بھی ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن (ای اینڈ ڈی) رولز 1973 کے تحت کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔</p><p class=''>لیکن کچھ دیر بعد ہی پاک فوج نے ڈان کی خبر کے معاملے پر حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
			<blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
				<a href="https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/858257576210952192"></a>
			</blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’ڈان کی خبر کے حوالے سے جاری ہونے والا اعلامیہ نامکمل اور انکوائری بورڈ کی سفارشات سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہیں۔‘</p><h3>ڈان اخبار کی خبر کا معاملہ</h3>
<p class=''>واضح رہے کہ 6 اکتوبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہونے والی ایک <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1044728/' >خبر</a> کی تحقیقات کے لیے حکومت نے نومبر 2016 میں جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا خان کی سربراہی میں <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1046477' >7 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل</a> دی تھی۔</p><p class=''>مذکورہ خبر سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کا سبب بنی تھی، جس کے بعد وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے 3 دفعہ اس کی تردید بھی جاری کی گئی تھی۔</p><p class=''>اس سے قبل اہم خبر کے حوالے سے کوتاہی برتنے پر وزیراعظم نوازشریف نے اکتوبر 2016 میں ہی پرویز رشید سے و<a href='https://www.dawnnews.tv/news/1046002' >فاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا قلم دان واپس</a> لے لیا تھا۔</p><p class=''>سرکاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اخبار میں چھپنے والی خبر قومی سلامتی کے منافی تھی اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پرویز رشید نے کوتاہی برتی، یہی وجہ ہے کہ انہیں آزادانہ تحقیقات کے لیے وزارت چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔</p><p class=''>دوسری جانب خبر رپورٹ کرنے والے صحافی سرل المیڈا کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا گیا تھا، جسے بعدازاں خارج کردیا گیا۔</p><p class=''>اپنے اداریے میں ڈان نے اپنے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1045034' >موقف کی وضاحت کرتے ہوئے</a> کہا تھا کہ ’خبر تصدیق شدہ تھی جس میں موجود حقائق کو مختلف ذرائع سے جانچا گیا تھا‘۔</p><p class=''>واضح رہے کہ ڈان اخبار کی خبر کے معاملے پر انکوائری کمیٹی کی سفارشات رواں ہفتے ہی وزیراعظم نواز شریف کو ارسال کی گئی تھیں۔</p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1057541</guid>
      <pubDate>Wed, 10 May 2017 17:35:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/5912eb3420e02.jpg?r=322835401" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/5912eb3420e02.jpg?r=1176650470"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
