<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:55:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:55:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ششانک منوہر 2018 تک آئی سی سی کے چیئرمین برقرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1057574/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;بھارت سے تعلق رکھنے والے ششانک منوہر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیئرمین کے عہدے پر اپنی مقررہ مدت جون 2018 تک برقرار رہیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ششانک منوہر نے رواں سال مارچ میں ‘ذاتی وجوہات’ پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا تاہم وہ اپریل میں اہم اصلاحات کے لیے ووٹنگ تک کام جاری رکھنے کے لیے آمادہ ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1053980' &gt;ششانک منوہر آئی سی سی چیئرمین کے عہدے سے مستعفی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;گزشتہ سال آئی سی سی کے سربراہ مقرر ہونے کے بعد انھوں نے بطور چیئرمین بورڈ میں بڑی تبدیلیاں کیں اور بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی بالادستی کو ختم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کی کوششیں گزشتہ ماہ رنگ لے آئیں، جب آئی سی سی نے تمام اراکین کے درمیان سرمائے کی منصفانہ تقسیم کا فیصلہ کیا جہاں بھارت کو ایک بڑا حصہ مل رہا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ششانک منوہر کی جانب سے ان اصلاحات کو ‘کرکٹ کی دنیا میں ایک قدم آگے بڑھنے’ سے تعبیر کیا گیا تھا جبکہ یہ فیصلہ رواں سال فروری میں انگلینڈ اور آسٹریلیا سمیت تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی رضامندی سے کیا گیا تھا لیکن بھارت نے اس کی مخالفت کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1056676' &gt;بگ تھری کا خاتمہ: نیا مالیاتی ماڈل منظور&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;ہندوستانی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کو نئی تبدیلیوں سے آئندہ آٹھ برسوں میں 27 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا ہوگا اور اسے ٹیسٹ کھیلنے والی چھوٹی ٹیموں اور آئرلینڈ اور افغانستان جیسے ایسوسی ایٹ ارکان کے برابر آمدنی ہوگی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ بھارت نے چمپیئنز ٹرافی کے لیے اپنی ٹیم کے اعلان میں احتجاجاً تاخیر کی تھی اور انگلینڈ میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ سے دستبر دار ہونے کی دھمکی دیتے ہوئے مقررہ وقت تک ٹیم کااعلان نہیں کیا تھا لیکن پھر بعدازاں رواں ہفتے اپنی ٹیم کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئی سی سی کے نئے مالی اور انتظامی نظام کی رواں سال جون میں آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں توثیق کی جائے گی۔ &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ رپورٹ 11مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>بھارت سے تعلق رکھنے والے ششانک منوہر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیئرمین کے عہدے پر اپنی مقررہ مدت جون 2018 تک برقرار رہیں گے۔</p><p class=''>ششانک منوہر نے رواں سال مارچ میں ‘ذاتی وجوہات’ پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا تاہم وہ اپریل میں اہم اصلاحات کے لیے ووٹنگ تک کام جاری رکھنے کے لیے آمادہ ہوگئے تھے۔</p><h6>مزید پڑھیں:<a href='https://www.dawnnews.tv/news/1053980' >ششانک منوہر آئی سی سی چیئرمین کے عہدے سے مستعفی</a></h6>
<p class=''>گزشتہ سال آئی سی سی کے سربراہ مقرر ہونے کے بعد انھوں نے بطور چیئرمین بورڈ میں بڑی تبدیلیاں کیں اور بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی بالادستی کو ختم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔</p><p class=''>ان کی کوششیں گزشتہ ماہ رنگ لے آئیں، جب آئی سی سی نے تمام اراکین کے درمیان سرمائے کی منصفانہ تقسیم کا فیصلہ کیا جہاں بھارت کو ایک بڑا حصہ مل رہا تھا۔</p><p class=''>ششانک منوہر کی جانب سے ان اصلاحات کو ‘کرکٹ کی دنیا میں ایک قدم آگے بڑھنے’ سے تعبیر کیا گیا تھا جبکہ یہ فیصلہ رواں سال فروری میں انگلینڈ اور آسٹریلیا سمیت تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی رضامندی سے کیا گیا تھا لیکن بھارت نے اس کی مخالفت کی تھی۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں:<a href='https://www.dawnnews.tv/news/1056676' >بگ تھری کا خاتمہ: نیا مالیاتی ماڈل منظور</a></h6>
<p class=''>ہندوستانی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کو نئی تبدیلیوں سے آئندہ آٹھ برسوں میں 27 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا ہوگا اور اسے ٹیسٹ کھیلنے والی چھوٹی ٹیموں اور آئرلینڈ اور افغانستان جیسے ایسوسی ایٹ ارکان کے برابر آمدنی ہوگی۔</p><p class=''>خیال رہے کہ بھارت نے چمپیئنز ٹرافی کے لیے اپنی ٹیم کے اعلان میں احتجاجاً تاخیر کی تھی اور انگلینڈ میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ سے دستبر دار ہونے کی دھمکی دیتے ہوئے مقررہ وقت تک ٹیم کااعلان نہیں کیا تھا لیکن پھر بعدازاں رواں ہفتے اپنی ٹیم کا اعلان کردیا۔</p><p class=''>آئی سی سی کے نئے مالی اور انتظامی نظام کی رواں سال جون میں آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں توثیق کی جائے گی۔ </p><hr>
<p class=''><strong><em>یہ رپورٹ 11مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1057574</guid>
      <pubDate>Thu, 11 May 2017 09:33:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/59137ffee0d3b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/59137ffee0d3b.jpg?0.2961483864682839"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
