<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 08:23:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 04 Apr 2026 08:23:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>راولپنڈی کے بھابرہ بازار میں یادگار ماضی کے ساتھ گپ شپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1057666/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;دوپہر ایک بجے راولپنڈی میں واقع بنی چوک کی گلیوں میں کافی چہل پہل نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وہ علاقہ جو کبھی اپنے شاندار حویلیوں اور دلفریب فنِ تعمیر کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا وہ آج ٹریفک کی بد انتظامی اور غیر قانونی تجاوزات کی وجہ سے ماند پڑ گیا ہے۔ آلودہ گلیاں اور بے ترتیب تعمیرات نئے آنے والوں کے لیے کسی جگہ کو تلاش کرنا محال بنا دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہمارے سفر کا آغاز مرکزی راولپنڈی میں واقع کرتارپور مارکیٹ سے ہوا جہاں سے پھر پھولوں اور مصالحوں کی بازار عبور کرتے ہوئے، سید پوری گیٹ کی تلاش اور حویلی سجان سنگھ حویلی کا راستہ پوچھنے میں آدھے گھنٹے کا وقت لگ گیا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ea25008a.jpg'  alt='علاقے میں جا بجا کولونیل دور کے پرانے گھروں کی بالکونیاں نظر آ رہی تھیں.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;علاقے میں جا بجا کولونیل دور کے پرانے گھروں کی بالکونیاں نظر آ رہی تھیں.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ea282841.jpg'  alt='ایک تنگ، ٹیڑھی میڑھی سیڑھیاں محفوظ کی گئی حویلی کی طرف لے جاتی ہیں، جس میں اس کی 1893 میں ہونے والی شاندار تعمیر کے اب بھی آثار موجود ہیں.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ایک تنگ، ٹیڑھی میڑھی سیڑھیاں محفوظ کی گئی حویلی کی طرف لے جاتی ہیں، جس میں اس کی 1893 میں ہونے والی شاندار تعمیر کے اب بھی آثار موجود ہیں.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کسی زمانے میں راولپنڈی شہر کے دروازے بھی ہوا کرتے تھے وقت کی مار کھاتے اب ان کا نام و نشان ہی موجود نہیں۔ البتہ سید دروازہ ماضی کی یاگار بنا ہوا ہے۔ چہل پہل سے بھرپور چھوٹی بازار آتی ہے جہاں کولونیل وقت کی بالکونیوں سے آراستہ سرخ رنگ میں رنگی حویلی اور برابر موجود شیشوں والی مسجد کا منظر ماضی کی شاندار یادگار سے ہم کنار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گیٹ میں داخل ہونے پر تنگ گلیاں 19 ویں صدی کے بنے گھروں کی  طرف لے جاتی ہیں۔ لکڑی پر ماہرانہ دستکاری کے نمونوں سے مزین دروازے اور سحن کو راہداریاں ہیں، برٹش دور کے زیادہ تر ان دو یا تین مالے کے گھر عمدہ طرز تعمیر کے داخلی حصے کے ساتھ رنگے ہوئے ٹائلس اور چھت سے آراستہ ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ecd6b32f.jpg'  alt='سجان سنگھ حویلی کی تنگ گلیاں، جو اپنے دور میں شہر کا ایک مشہور علاقہ ہوا کرتا تھا.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سجان سنگھ حویلی کی تنگ گلیاں، جو اپنے دور میں شہر کا ایک مشہور علاقہ ہوا کرتا تھا.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ebfaf8e7.jpg'  alt='پرانے گھروں کے بیرونی منظر اور تنگ گلیاں.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پرانے گھروں کے بیرونی منظر اور تنگ گلیاں.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ابھی آپ گھروں کی فن تعمیر کے سحر میں گرفتار ہوتا ہی کہ گلی کا ایک تنگ موڑ آپ کو ایک کھلے صحن کی طرف لے جاتا ہے۔ آپ کے سامنے اپنے دور کی ایک شاہکار عمارت سجان سنگھ حویلی کا دلکش بیرونی حصہ نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کسی دور میں حویلی کے اندرونی حصے کو سونے، ہاتھی دانت اور نفیس لکڑی کے کام کے ساتھ آراستہ کیا گیا تھا، حویلی کی خستہ حالی شاندار ماضی، طاقت اور وقار کو بیان کر رہی تھی۔ اس حویلی کو ایک امیر تاجر رائے بہادر سجان سنگھ نے 1893 میں تعمیر کروایا تھا، یہ عمارت تاریخ اورفن تعمیر میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک بہترین جگہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ecd23475.jpg'  alt='پرانے وقتوں کے فن تعمیر کے رنگ خوبصورتی بکھیر دیتے ہیں.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پرانے وقتوں کے فن تعمیر کے رنگ خوبصورتی بکھیر دیتے ہیں.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ed588e23.jpg'  alt='شام کے وقت سجان سنگھ حویلی سے پرانے شہر کا دلکش نظارہ۔.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شام کے وقت سجان سنگھ حویلی سے پرانے شہر کا دلکش نظارہ۔.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تنگ گلی میں ہر قدم کے ساتھ خستہ حالی کا شکار پرانے گھر اپنی خوبصورتی دھوپ میں چمکتے کسی ہیرے کی طرح نمایاں کرتے جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہم بالآخر بھابرہ بازار پہنچ گئے تھے، جو اپنے دور میں امیر ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا تھا اور فن تعمیر کے حوالے سے اپنی مثال آپ تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس علاقے کی آبادی 18 ہزار افراد پر مشتمل ہے جو یہاں واقع کئی حویلیوں اور گھروں میں رہائش پذیر ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دیگر دیکھنے لائق جگہوں میں صدیوں پرانی شاہ دن چراغ امام بارگاہ اور صرافہ بازار شامل ہیں، صرافہ بازار میں آپ  آج بھی روایتی انداز میں زیورات بنائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9eb57bcc7.jpg'  alt='صرافہ بازار سے ملحق شاہ چن چراغ کے قریب موجود گلیوں میں چہل قدمی کرتے ہوئے.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;صرافہ بازار سے ملحق شاہ چن چراغ کے قریب موجود گلیوں میں چہل قدمی کرتے ہوئے.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ed672088.jpg'  alt='جمعرات کو شاہ چن چراغ میں جاری تقریب میں شرکت.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جمعرات کو شاہ چن چراغ میں جاری تقریب میں شرکت.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
  &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بھابرہ لفظ سنسکرت سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے کہ جین مذہب سے تعلق رکھنے والی تاجر برادری۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بھابرہ تاجر اور سنار تھے جو موجودہ صرافہ بازار اور موتی بازار میں کام کرتے تھے۔ ان کی دولت اور امیری کا اندازہ ان کی حویلیوں اور مندروں سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔ جن کے آثار جھروکوں، نفیس دستکاری سے بنائی گئی راہداریوں اور سجے دھجے بیرونی حصوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تقسیم ہند نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ سکھوں اور ہندوؤں کی ہی طرح بھابرہ برادری کو بھی فوراً اپنے علاقے چھوڑ دینے پڑے۔ تاہم کئی علاقوں کے نام وہی کے وہی رہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9eb502c35.jpg'  alt='لکڑی کے نفیس کام سے بنائے گئے پرانے گھروں کے جھروکے جہاں سنار اور تاجر رہا کرتے تھے.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لکڑی کے نفیس کام سے بنائے گئے پرانے گھروں کے جھروکے جہاں سنار اور تاجر رہا کرتے تھے.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ea209a83.jpg'  alt='محلہ بھابرہ کے ایک گھر میں نصب دروازہ.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;محلہ بھابرہ کے ایک گھر میں نصب دروازہ.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ebf47352.jpg'  alt='لکڑی کے ایک پرانے دروازے کنندہ نفیس دستکاری.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لکڑی کے ایک پرانے دروازے کنندہ نفیس دستکاری.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس علاقے میں سنار اور تاجروں کے گھروں میں اب ان کی جگہ لدھیانہ دہلی اور فیروز پور سے آنے والے مہاجرین قیام پذیر ہیں جو اپنے ساتھ اپنی ثقافت لائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس پرانے محلے میں گھومتے پھرتے آپ کئی عمارتوں پر اوم اور جین مت میں سلام کرنے کے طریقے، &amp;#39;جے جنیندرا’ لکھا باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ مقامی رہائشی عبدالستار، جن کے والدین امبالا سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے اپنے گھر کی حال ہی میں مرمت کروائی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وہ یہ دیکھ کر حیران تھے کہ ان کے گھر کے گیٹ کے اوپر ہی جے جنیندرا لکھا ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ، ’میرا خیال ہے کہ یہ ہمارا ورثہ ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔&amp;#39;&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ecd0647a.jpg'  alt='گھر کے باہر جین مت میں سلام کرنے کا طریقہ جے جنیندرا لکھا ہوا ہے۔ تاریخی ورثے کے لیے احترام کی خاطر رہائشی آج بھی انہیں محفوظ رکھا ہے.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;گھر کے باہر جین مت میں سلام کرنے کا طریقہ جے جنیندرا لکھا ہوا ہے۔ تاریخی ورثے کے لیے احترام کی خاطر رہائشی آج بھی انہیں محفوظ رکھا ہے.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ed6109fd.jpg'  alt='سجان سنگھ حویلی سے جین مندر دیکھا جاسکتا ہے۔ ہجرت کر کے جانے والے ہندو اور سکھ خاندان آج بھی اس علاقے کو دیکھنے آتے ہیں۔.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سجان سنگھ حویلی سے جین مندر دیکھا جاسکتا ہے۔ ہجرت کر کے جانے والے ہندو اور سکھ خاندان آج بھی اس علاقے کو دیکھنے آتے ہیں۔.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے بتایا کہ ہجرت کر کے جانے والی سکھ اور ہندو خاندان آج بھی محلہ دیکھنے آتے ہیں۔ مزید کہتے ہیں کہ، ’ہم انہیں اپنے گھروں میں بٹھاتے ہیں اور اپنے بڑوں کے زمانے کی یادوں سے محظوظ ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں لدھیانہ، امبالا اور دہلی کے بارے میں بتاتے ہیں اور ہم انہیں وہ جگہیں دکھاتے ہیں جہاں ان کے اباؤ اجداد پلے بڑے ہوتے ہیں۔’&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہاں صرف طرز تعمیر ہی دیدنی نہیں۔ بھابرہ بازار ایک ایسی جگہ ہے جہاں اس شہر میں آپ کو  خالص برصغیر کی سب سے لذیذ اور کھانے چکھنے کو مل جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امرتسری اور کشمیری کلچھے، چاٹ کھانے سے آپ کو پرانی دہلی کی لذتیں یاد آ جائیں گی۔ امبالا کی کھیر اور مٹھائی، اور نرم حلوہ پوری اور کچوری، مطلب آپ سمجھیں کہ یہاں کا کھانا لاہور کی لذتوں کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;لاجواب دہی بھلے کے تازہ دہی بھلے اور میٹھی دہی اور چٹنی کے ساتھ  چنا چاٹ وہ بھی صرف 80 روپے میں، بازار آنے کے لیے آپ کو ایک اچھا بہانہ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9eccc7057.jpg'  alt='بھابرہ بازار میں آئیں تو کھانا پینا کبھی نہ بھولیں۔ میں بھی لاجواب دہی بھلے سینٹر نامی کھانے کی ایک جگہ پر رکا۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بھابرہ بازار میں آئیں تو کھانا پینا کبھی نہ بھولیں۔ میں بھی لاجواب دہی بھلے سینٹر نامی کھانے کی ایک جگہ پر رکا۔&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ecd6c867.jpg'  alt='لاجواب دہلی بھلے پر دستیاب چاٹ کافی خوش ذائقہ ہے۔.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لاجواب دہلی بھلے پر دستیاب چاٹ کافی خوش ذائقہ ہے۔.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
 
    
بھابرہ بازار سے ملحقہ علاقے بھی آپ کے لیے تاریخ کے دریچے کھول دیتے ہیں۔ گلیوں میں شاندار تعمیر کے نمونے اور ختم ہوتی روایتوں کو اب بھی زندہ دیکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تمام پرانی عمارتوں کے باہر محلے کے رہائشیوں کے بیٹھنے اور آپس میں مل جل کر بات چیت کرنے کے لیے ٹھارا بنے ہوئے ہیں۔ ٹھارا کلچر محلوں کی رونق میں اضافہ کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بڑھتی آبادی، کمرشل سرگرمیوں اور حکومت ک بے دھیانی کے سبب یہاں کی تاریخی خوبصورتی خطرے کی زد میں ہے۔ نئی تعمیرات کے لیے چند پرانے گھروں کو بھی گرا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہاں میرے ذہن میں جون ایلیا کا ایک شعر بے ساختہ گونج اٹھتا ہے:&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شہر دل میں عجب محلے تھے
&lt;br&gt;
ان میں اکثر نہیں رہے آباد &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9eb56389d.jpg'  alt='ایک بزرگ اپنے گھر کے باہر ٹھارے پر بیٹھے ہیں.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ایک بزرگ اپنے گھر کے باہر ٹھارے پر بیٹھے ہیں.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
 &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ebfa2dc7.jpg'  alt='کولونیل دور کی یاد دلاتی کھڑکیاں.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کولونیل دور کی یاد دلاتی کھڑکیاں.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9eb4e4845.jpg'  alt='دربار محل کی محراب جو اپنے شاندار ماضی کی گواہ ہے۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;دربار محل کی محراب جو اپنے شاندار ماضی کی گواہ ہے۔&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ebfc3168.jpg'  alt='چن چراغ کے قریب موجود پرکشش رنگوں سے رنگی حویلیاں.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;چن چراغ کے قریب موجود پرکشش رنگوں سے رنگی حویلیاں.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ebfe15c9.jpg'  alt='سجان سنگھ حویلی کے بیرونی حصے کی خستہ حالی۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سجان سنگھ حویلی کے بیرونی حصے کی خستہ حالی۔&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ed5de6e8.jpg'  alt='ایک خاتون مزار پر دعا مانگ رہی ہیں.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ایک خاتون مزار پر دعا مانگ رہی ہیں.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href='https://www.dawn.com/news/1331459/walking-through-rawalpindis-bhabra-bazaar-was-a-journey-into-a-majestic-past' &gt;انگلش میں پڑھیں۔&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/urdu/users/2379.jpg?170512082854'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			

.سیف طاہر پیشے کے لحاظ سے محقق ہیں اور فوٹوگرافری کا شوق رکھتے ہیں۔ وہ بحریہ یونیورسٹی اور پاکستان نیوی وار کے سابق فیکلٹی ممبر اور ٹرینر ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>دوپہر ایک بجے راولپنڈی میں واقع بنی چوک کی گلیوں میں کافی چہل پہل نظر آتی ہے۔</p><p class=''>وہ علاقہ جو کبھی اپنے شاندار حویلیوں اور دلفریب فنِ تعمیر کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا وہ آج ٹریفک کی بد انتظامی اور غیر قانونی تجاوزات کی وجہ سے ماند پڑ گیا ہے۔ آلودہ گلیاں اور بے ترتیب تعمیرات نئے آنے والوں کے لیے کسی جگہ کو تلاش کرنا محال بنا دیتی ہیں۔</p><p class=''>ہمارے سفر کا آغاز مرکزی راولپنڈی میں واقع کرتارپور مارکیٹ سے ہوا جہاں سے پھر پھولوں اور مصالحوں کی بازار عبور کرتے ہوئے، سید پوری گیٹ کی تلاش اور حویلی سجان سنگھ حویلی کا راستہ پوچھنے میں آدھے گھنٹے کا وقت لگ گیا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ea25008a.jpg'  alt='علاقے میں جا بجا کولونیل دور کے پرانے گھروں کی بالکونیاں نظر آ رہی تھیں.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">علاقے میں جا بجا کولونیل دور کے پرانے گھروں کی بالکونیاں نظر آ رہی تھیں.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ea282841.jpg'  alt='ایک تنگ، ٹیڑھی میڑھی سیڑھیاں محفوظ کی گئی حویلی کی طرف لے جاتی ہیں، جس میں اس کی 1893 میں ہونے والی شاندار تعمیر کے اب بھی آثار موجود ہیں.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ایک تنگ، ٹیڑھی میڑھی سیڑھیاں محفوظ کی گئی حویلی کی طرف لے جاتی ہیں، جس میں اس کی 1893 میں ہونے والی شاندار تعمیر کے اب بھی آثار موجود ہیں.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>کسی زمانے میں راولپنڈی شہر کے دروازے بھی ہوا کرتے تھے وقت کی مار کھاتے اب ان کا نام و نشان ہی موجود نہیں۔ البتہ سید دروازہ ماضی کی یاگار بنا ہوا ہے۔ چہل پہل سے بھرپور چھوٹی بازار آتی ہے جہاں کولونیل وقت کی بالکونیوں سے آراستہ سرخ رنگ میں رنگی حویلی اور برابر موجود شیشوں والی مسجد کا منظر ماضی کی شاندار یادگار سے ہم کنار کرتا ہے۔</p><p class=''>گیٹ میں داخل ہونے پر تنگ گلیاں 19 ویں صدی کے بنے گھروں کی  طرف لے جاتی ہیں۔ لکڑی پر ماہرانہ دستکاری کے نمونوں سے مزین دروازے اور سحن کو راہداریاں ہیں، برٹش دور کے زیادہ تر ان دو یا تین مالے کے گھر عمدہ طرز تعمیر کے داخلی حصے کے ساتھ رنگے ہوئے ٹائلس اور چھت سے آراستہ ہیں۔ </p><figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ecd6b32f.jpg'  alt='سجان سنگھ حویلی کی تنگ گلیاں، جو اپنے دور میں شہر کا ایک مشہور علاقہ ہوا کرتا تھا.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سجان سنگھ حویلی کی تنگ گلیاں، جو اپنے دور میں شہر کا ایک مشہور علاقہ ہوا کرتا تھا.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ebfaf8e7.jpg'  alt='پرانے گھروں کے بیرونی منظر اور تنگ گلیاں.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پرانے گھروں کے بیرونی منظر اور تنگ گلیاں.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>ابھی آپ گھروں کی فن تعمیر کے سحر میں گرفتار ہوتا ہی کہ گلی کا ایک تنگ موڑ آپ کو ایک کھلے صحن کی طرف لے جاتا ہے۔ آپ کے سامنے اپنے دور کی ایک شاہکار عمارت سجان سنگھ حویلی کا دلکش بیرونی حصہ نظر آتا ہے۔</p><p class=''>کسی دور میں حویلی کے اندرونی حصے کو سونے، ہاتھی دانت اور نفیس لکڑی کے کام کے ساتھ آراستہ کیا گیا تھا، حویلی کی خستہ حالی شاندار ماضی، طاقت اور وقار کو بیان کر رہی تھی۔ اس حویلی کو ایک امیر تاجر رائے بہادر سجان سنگھ نے 1893 میں تعمیر کروایا تھا، یہ عمارت تاریخ اورفن تعمیر میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک بہترین جگہ ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ecd23475.jpg'  alt='پرانے وقتوں کے فن تعمیر کے رنگ خوبصورتی بکھیر دیتے ہیں.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پرانے وقتوں کے فن تعمیر کے رنگ خوبصورتی بکھیر دیتے ہیں.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ed588e23.jpg'  alt='شام کے وقت سجان سنگھ حویلی سے پرانے شہر کا دلکش نظارہ۔.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شام کے وقت سجان سنگھ حویلی سے پرانے شہر کا دلکش نظارہ۔.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>تنگ گلی میں ہر قدم کے ساتھ خستہ حالی کا شکار پرانے گھر اپنی خوبصورتی دھوپ میں چمکتے کسی ہیرے کی طرح نمایاں کرتے جا رہے تھے۔</p><p class=''>ہم بالآخر بھابرہ بازار پہنچ گئے تھے، جو اپنے دور میں امیر ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا تھا اور فن تعمیر کے حوالے سے اپنی مثال آپ تھا۔</p><p class=''>اس علاقے کی آبادی 18 ہزار افراد پر مشتمل ہے جو یہاں واقع کئی حویلیوں اور گھروں میں رہائش پذیر ہے۔</p><p class=''>دیگر دیکھنے لائق جگہوں میں صدیوں پرانی شاہ دن چراغ امام بارگاہ اور صرافہ بازار شامل ہیں، صرافہ بازار میں آپ  آج بھی روایتی انداز میں زیورات بنائے جاتے ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9eb57bcc7.jpg'  alt='صرافہ بازار سے ملحق شاہ چن چراغ کے قریب موجود گلیوں میں چہل قدمی کرتے ہوئے.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">صرافہ بازار سے ملحق شاہ چن چراغ کے قریب موجود گلیوں میں چہل قدمی کرتے ہوئے.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ed672088.jpg'  alt='جمعرات کو شاہ چن چراغ میں جاری تقریب میں شرکت.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جمعرات کو شاہ چن چراغ میں جاری تقریب میں شرکت.</figcaption>
			</figure>
<p>			
  </p><p class=''>بھابرہ لفظ سنسکرت سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے کہ جین مذہب سے تعلق رکھنے والی تاجر برادری۔</p><p class=''>بھابرہ تاجر اور سنار تھے جو موجودہ صرافہ بازار اور موتی بازار میں کام کرتے تھے۔ ان کی دولت اور امیری کا اندازہ ان کی حویلیوں اور مندروں سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔ جن کے آثار جھروکوں، نفیس دستکاری سے بنائی گئی راہداریوں اور سجے دھجے بیرونی حصوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔</p><p class=''>تقسیم ہند نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ سکھوں اور ہندوؤں کی ہی طرح بھابرہ برادری کو بھی فوراً اپنے علاقے چھوڑ دینے پڑے۔ تاہم کئی علاقوں کے نام وہی کے وہی رہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9eb502c35.jpg'  alt='لکڑی کے نفیس کام سے بنائے گئے پرانے گھروں کے جھروکے جہاں سنار اور تاجر رہا کرتے تھے.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لکڑی کے نفیس کام سے بنائے گئے پرانے گھروں کے جھروکے جہاں سنار اور تاجر رہا کرتے تھے.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ea209a83.jpg'  alt='محلہ بھابرہ کے ایک گھر میں نصب دروازہ.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">محلہ بھابرہ کے ایک گھر میں نصب دروازہ.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ebf47352.jpg'  alt='لکڑی کے ایک پرانے دروازے کنندہ نفیس دستکاری.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لکڑی کے ایک پرانے دروازے کنندہ نفیس دستکاری.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>اس علاقے میں سنار اور تاجروں کے گھروں میں اب ان کی جگہ لدھیانہ دہلی اور فیروز پور سے آنے والے مہاجرین قیام پذیر ہیں جو اپنے ساتھ اپنی ثقافت لائے۔</p><p class=''>اس پرانے محلے میں گھومتے پھرتے آپ کئی عمارتوں پر اوم اور جین مت میں سلام کرنے کے طریقے، &#39;جے جنیندرا’ لکھا باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ مقامی رہائشی عبدالستار، جن کے والدین امبالا سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے اپنے گھر کی حال ہی میں مرمت کروائی ہے۔</p><p class=''>وہ یہ دیکھ کر حیران تھے کہ ان کے گھر کے گیٹ کے اوپر ہی جے جنیندرا لکھا ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ، ’میرا خیال ہے کہ یہ ہمارا ورثہ ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔&#39;</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ecd0647a.jpg'  alt='گھر کے باہر جین مت میں سلام کرنے کا طریقہ جے جنیندرا لکھا ہوا ہے۔ تاریخی ورثے کے لیے احترام کی خاطر رہائشی آج بھی انہیں محفوظ رکھا ہے.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">گھر کے باہر جین مت میں سلام کرنے کا طریقہ جے جنیندرا لکھا ہوا ہے۔ تاریخی ورثے کے لیے احترام کی خاطر رہائشی آج بھی انہیں محفوظ رکھا ہے.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ed6109fd.jpg'  alt='سجان سنگھ حویلی سے جین مندر دیکھا جاسکتا ہے۔ ہجرت کر کے جانے والے ہندو اور سکھ خاندان آج بھی اس علاقے کو دیکھنے آتے ہیں۔.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سجان سنگھ حویلی سے جین مندر دیکھا جاسکتا ہے۔ ہجرت کر کے جانے والے ہندو اور سکھ خاندان آج بھی اس علاقے کو دیکھنے آتے ہیں۔.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>انہوں نے بتایا کہ ہجرت کر کے جانے والی سکھ اور ہندو خاندان آج بھی محلہ دیکھنے آتے ہیں۔ مزید کہتے ہیں کہ، ’ہم انہیں اپنے گھروں میں بٹھاتے ہیں اور اپنے بڑوں کے زمانے کی یادوں سے محظوظ ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں لدھیانہ، امبالا اور دہلی کے بارے میں بتاتے ہیں اور ہم انہیں وہ جگہیں دکھاتے ہیں جہاں ان کے اباؤ اجداد پلے بڑے ہوتے ہیں۔’</p><p class=''>یہاں صرف طرز تعمیر ہی دیدنی نہیں۔ بھابرہ بازار ایک ایسی جگہ ہے جہاں اس شہر میں آپ کو  خالص برصغیر کی سب سے لذیذ اور کھانے چکھنے کو مل جاتے ہیں۔</p><p class=''>امرتسری اور کشمیری کلچھے، چاٹ کھانے سے آپ کو پرانی دہلی کی لذتیں یاد آ جائیں گی۔ امبالا کی کھیر اور مٹھائی، اور نرم حلوہ پوری اور کچوری، مطلب آپ سمجھیں کہ یہاں کا کھانا لاہور کی لذتوں کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔</p><p class=''>لاجواب دہی بھلے کے تازہ دہی بھلے اور میٹھی دہی اور چٹنی کے ساتھ  چنا چاٹ وہ بھی صرف 80 روپے میں، بازار آنے کے لیے آپ کو ایک اچھا بہانہ فراہم کرتا ہے۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9eccc7057.jpg'  alt='بھابرہ بازار میں آئیں تو کھانا پینا کبھی نہ بھولیں۔ میں بھی لاجواب دہی بھلے سینٹر نامی کھانے کی ایک جگہ پر رکا۔' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بھابرہ بازار میں آئیں تو کھانا پینا کبھی نہ بھولیں۔ میں بھی لاجواب دہی بھلے سینٹر نامی کھانے کی ایک جگہ پر رکا۔</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ecd6c867.jpg'  alt='لاجواب دہلی بھلے پر دستیاب چاٹ کافی خوش ذائقہ ہے۔.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لاجواب دہلی بھلے پر دستیاب چاٹ کافی خوش ذائقہ ہے۔.</figcaption>
			</figure>
<p>			
 
    
بھابرہ بازار سے ملحقہ علاقے بھی آپ کے لیے تاریخ کے دریچے کھول دیتے ہیں۔ گلیوں میں شاندار تعمیر کے نمونے اور ختم ہوتی روایتوں کو اب بھی زندہ دیکھ سکتے ہیں۔</p><p class=''>تمام پرانی عمارتوں کے باہر محلے کے رہائشیوں کے بیٹھنے اور آپس میں مل جل کر بات چیت کرنے کے لیے ٹھارا بنے ہوئے ہیں۔ ٹھارا کلچر محلوں کی رونق میں اضافہ کر دیتا ہے۔</p><p class=''>بڑھتی آبادی، کمرشل سرگرمیوں اور حکومت ک بے دھیانی کے سبب یہاں کی تاریخی خوبصورتی خطرے کی زد میں ہے۔ نئی تعمیرات کے لیے چند پرانے گھروں کو بھی گرا دیا گیا ہے۔</p><p class=''>یہاں میرے ذہن میں جون ایلیا کا ایک شعر بے ساختہ گونج اٹھتا ہے:</p><p class=''>شہر دل میں عجب محلے تھے
<br>
ان میں اکثر نہیں رہے آباد </p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9eb56389d.jpg'  alt='ایک بزرگ اپنے گھر کے باہر ٹھارے پر بیٹھے ہیں.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ایک بزرگ اپنے گھر کے باہر ٹھارے پر بیٹھے ہیں.</figcaption>
			</figure>
<p>			
 </p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ebfa2dc7.jpg'  alt='کولونیل دور کی یاد دلاتی کھڑکیاں.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کولونیل دور کی یاد دلاتی کھڑکیاں.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9eb4e4845.jpg'  alt='دربار محل کی محراب جو اپنے شاندار ماضی کی گواہ ہے۔' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">دربار محل کی محراب جو اپنے شاندار ماضی کی گواہ ہے۔</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 sm:w-3/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ebfc3168.jpg'  alt='چن چراغ کے قریب موجود پرکشش رنگوں سے رنگی حویلیاں.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">چن چراغ کے قریب موجود پرکشش رنگوں سے رنگی حویلیاں.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ebfe15c9.jpg'  alt='سجان سنگھ حویلی کے بیرونی حصے کی خستہ حالی۔' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سجان سنگھ حویلی کے بیرونی حصے کی خستہ حالی۔</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/05/590d9ed5de6e8.jpg'  alt='ایک خاتون مزار پر دعا مانگ رہی ہیں.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ایک خاتون مزار پر دعا مانگ رہی ہیں.</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><hr>
<p class=''><strong><a href='https://www.dawn.com/news/1331459/walking-through-rawalpindis-bhabra-bazaar-was-a-journey-into-a-majestic-past' >انگلش میں پڑھیں۔</a></strong></p><hr>
<figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/urdu/users/2379.jpg?170512082854'  alt='' /></div>
				
			</figure>
<p>			

.سیف طاہر پیشے کے لحاظ سے محقق ہیں اور فوٹوگرافری کا شوق رکھتے ہیں۔ وہ بحریہ یونیورسٹی اور پاکستان نیوی وار کے سابق فیکلٹی ممبر اور ٹرینر ہیں۔ </p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1057666</guid>
      <pubDate>Sat, 13 May 2017 14:29:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سیف طاہر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/591694a188a07.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/591694a188a07.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
