<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 01:25:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 01:25:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مستونگ دھماکے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1057736/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفور حیدری پر مستونگ میں ہونے والے خودکش حملے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ایف آ ئی آر اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) سفر خان زہری نے درج کی، جس میں قتل، اقدام قتل اور دہشتگردی کی دفعات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر گزشتہ روز ایک خود کش حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں &lt;strong&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057668/' &gt;26 افراد جاں بحق اور مولانا عبدالغفور حیدری سمیت 40 سے زائد افراد زخمی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;h5&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1008810' &gt;مستونگ: صوفی بزرگ کے مزار پر دھماکا&lt;/a&gt;&lt;/h5&gt;
&lt;p class=''&gt;جے یو آئی ف کے پارٹی ذرائع کے مطابق مولانا عبدالغفورحیدری اپنے ساتھیوں سمیت دستار بندی کی تقریب میں شرکت کے بعد ساتھیوں کے ہمراہ اپنے آبائی علاقے قلات جارہے تھے جب کوئٹہ کراچی نیشنل ہائی وے پر ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’ہم واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;&lt;h5&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1056717' &gt;بلوچستان: پاک ایران سرحدی علاقے میں 5 ’شرپسند‘ ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/h5&gt;
&lt;p class=''&gt; مستونگ واقعہ میں جاں بحق ہونے والے اکثر افراد کا تعلق مستونگ، قلات اور کوئٹہ سے ہے جنہیں سخت سیکیورٹی میں اپنے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس دہشت گرد کارروائی کے بعد مستوگ سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا جبکہ جے یو آئی (ف) کے کارکنان اپنے ساتھیوں کی ہلاکت پر کوئٹہ کی سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت پر زور دیا کہ اس واقع میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس واقع میں ملوث مبینہ خودکش بمبار کے اعضا کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) بھیج دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفور حیدری پر مستونگ میں ہونے والے خودکش حملے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا۔</p><p class=''>پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ایف آ ئی آر اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) سفر خان زہری نے درج کی، جس میں قتل، اقدام قتل اور دہشتگردی کی دفعات شامل ہیں۔</p><p class=''>یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر گزشتہ روز ایک خود کش حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں <strong><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057668/' >26 افراد جاں بحق اور مولانا عبدالغفور حیدری سمیت 40 سے زائد افراد زخمی</a></strong> ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی تھی۔</p><h5>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1008810' >مستونگ: صوفی بزرگ کے مزار پر دھماکا</a></h5>
<p class=''>جے یو آئی ف کے پارٹی ذرائع کے مطابق مولانا عبدالغفورحیدری اپنے ساتھیوں سمیت دستار بندی کی تقریب میں شرکت کے بعد ساتھیوں کے ہمراہ اپنے آبائی علاقے قلات جارہے تھے جب کوئٹہ کراچی نیشنل ہائی وے پر ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔</p><p class=''>وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’ہم واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں‘۔</p><h5>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1056717' >بلوچستان: پاک ایران سرحدی علاقے میں 5 ’شرپسند‘ ہلاک</a></h5>
<p class=''> مستونگ واقعہ میں جاں بحق ہونے والے اکثر افراد کا تعلق مستونگ، قلات اور کوئٹہ سے ہے جنہیں سخت سیکیورٹی میں اپنے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔</p><p class=''>اس دہشت گرد کارروائی کے بعد مستوگ سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا جبکہ جے یو آئی (ف) کے کارکنان اپنے ساتھیوں کی ہلاکت پر کوئٹہ کی سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت پر زور دیا کہ اس واقع میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔</p><p class=''>اس واقع میں ملوث مبینہ خودکش بمبار کے اعضا کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) بھیج دیا گیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1057736</guid>
      <pubDate>Sat, 13 May 2017 18:59:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید علی شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/5916fc7784e72.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/5916fc7784e72.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
