<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:47:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:47:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الجزیرہ سمیت 20ویب سائٹس بلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1058458/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;قاہرہ: آزادی اظہار رائے پر قدغن اور صدر عبدالفتح السیسی کے مخالفین کے خلاف کارروائی کیلئے مشہور مصری حکومت نے قطر کے مشہور نشریاتی ادارے الجزیرہ سمیت 20 بڑے اداروں کی نیوز ویب سائٹس کو بلاک کردیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بدھ کی رات سے بحرین اور قطر میں 20 ویب سائٹس بلاک ہیں جس میں الجزیرہ، دوہا کے اخبارات الوطن اور الریا، سابقہ مصری حکوت کی حامی اخوان نیوز اور الشرق ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس پر پابندی عائد ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مصری کے عوام کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے مشہور آزاد ادارے کی ویب سائٹ مدا مصر اور ہف پوسٹ عربی تک بھی رسائی سے محروم ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ پہلا موقع نہیں کہ السیسی کی زیر قیادت انتظامیہ نے الجزیرہ پر پابندی عائد کی ہو جہاں مصری حخومت ان تمام چینلز پر سابقہ حکومت کی حمایت کا الزام عائد کرتی رہی ہے جنہیں 2013 میں سیسی نے طاقت کے زور پر برطرف کردیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;2013 اور 2015 میں ایک کینیڈین اور آسٹریلین سمیت الجزیرہ کے تین صحافیوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا جس پر عالمی سطح پر بہت احتجاج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ مصری حکومت کی جانب سے صحافتی اداروں پر سخت پابندیاں عائد ہیں جہاں حکومت کی جانب سے پیش کردہ اطلاعات کے خلاف کوئی بھی خبر چلانے پر سخت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں ملک بھر میں ایک عرصے سے کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مشرق وسطیٰ کے صحافتی معاملات پر مہارت رکھنے والے ٹموتھی کلدس نے کہا کہ مصر میں لوگ حکومت سے بہت مایوس ہیں لہٰذا حکومت مایوسی کو بڑھنے سے روکنے کیلئے اہم اور نازک مسائل کی اطلاعات کی عوام تک رسائی روکنا چاہتی ہے اور اس کیلئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2017 کے پریس فریڈم انڈیکس میں دنیا کے 180 ممالک میں مصر کا آزادی اظہار رائے میں 161واں نمبر ہے جو ملک میں صحافتی برادری کو درپیش مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>قاہرہ: آزادی اظہار رائے پر قدغن اور صدر عبدالفتح السیسی کے مخالفین کے خلاف کارروائی کیلئے مشہور مصری حکومت نے قطر کے مشہور نشریاتی ادارے الجزیرہ سمیت 20 بڑے اداروں کی نیوز ویب سائٹس کو بلاک کردیا ہے۔</p><p class=''>بدھ کی رات سے بحرین اور قطر میں 20 ویب سائٹس بلاک ہیں جس میں الجزیرہ، دوہا کے اخبارات الوطن اور الریا، سابقہ مصری حکوت کی حامی اخوان نیوز اور الشرق ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس پر پابندی عائد ہے۔</p><p class=''>مصری کے عوام کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے مشہور آزاد ادارے کی ویب سائٹ مدا مصر اور ہف پوسٹ عربی تک بھی رسائی سے محروم ہو گئے ہیں۔</p><p class=''>یہ پہلا موقع نہیں کہ السیسی کی زیر قیادت انتظامیہ نے الجزیرہ پر پابندی عائد کی ہو جہاں مصری حخومت ان تمام چینلز پر سابقہ حکومت کی حمایت کا الزام عائد کرتی رہی ہے جنہیں 2013 میں سیسی نے طاقت کے زور پر برطرف کردیا تھا۔</p><p class=''>2013 اور 2015 میں ایک کینیڈین اور آسٹریلین سمیت الجزیرہ کے تین صحافیوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا جس پر عالمی سطح پر بہت احتجاج کیا گیا تھا۔</p><p class=''>یاد رہے کہ مصری حکومت کی جانب سے صحافتی اداروں پر سخت پابندیاں عائد ہیں جہاں حکومت کی جانب سے پیش کردہ اطلاعات کے خلاف کوئی بھی خبر چلانے پر سخت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں ملک بھر میں ایک عرصے سے کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔</p><p class=''>مشرق وسطیٰ کے صحافتی معاملات پر مہارت رکھنے والے ٹموتھی کلدس نے کہا کہ مصر میں لوگ حکومت سے بہت مایوس ہیں لہٰذا حکومت مایوسی کو بڑھنے سے روکنے کیلئے اہم اور نازک مسائل کی اطلاعات کی عوام تک رسائی روکنا چاہتی ہے اور اس کیلئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔</p><p class=''>یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2017 کے پریس فریڈم انڈیکس میں دنیا کے 180 ممالک میں مصر کا آزادی اظہار رائے میں 161واں نمبر ہے جو ملک میں صحافتی برادری کو درپیش مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1058458</guid>
      <pubDate>Thu, 25 May 2017 21:48:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/592708984f897.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/592708984f897.jpg"/>
        <media:title>مصر میں بدھ کی رات سے الجزیرہ سمیت 20 اداروں کی ویب سائٹس بلاک ہیں— فوٹو: رائٹرز</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
