<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:27:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:27:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سری لنکا میں شدید بارشوں سے 92 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1058526/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;سری لنکا میں مون سون کی بارشوں کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 92 افراد ہلاک اور 110 افراد لاپتہ ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ریکارڈ بارش ہوئی۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آفیشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ سینٹر (ڈی ایم سی) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے جنوبی اور مغربی حصے میں بارش کے باعث 60 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سری لنکا کے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کےڈپٹی وزیر نے کولمبو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘چند علاقے ایسے ہیں جہاں تک ہماری پہنچ نہیں ہے لیکن امدادی کام جاری ہے’۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہلاک افراد کی تعداد 92 تک پہنچ چکی ہے جس میں ایک فوجی بھی شامل ہے جو ایک متاثرہ شخص کو بچانے کی کوشش میں ہیلی کاپٹر سے گر گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب 110 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سری لنکا نے بارش سے تباہی پھیلتے ہی عالمی برادری سے مدد کے لیے اپیل جاری کی تھی جبکہ بھارت کی جانب سے فوری طور پر دو جہاز امدادی سامان اور میڈیکل ٹیمیں روانہ کی جا رہی ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سری لنکا کے سرکاری بیان کےمطابق بھارت کا پہلا جہاز ہفتے کو کولمبو پہنچے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ سری لنکا کا بارش سےمتاثرہ رتناپور کا یہ علاقہ قدرتی خزانے سے مالامال ہے اور کولمبو سے 100 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈی ایم سی کے ڈائریکٹر آپریشنز ریرایڈمرل اے اے پی لیانیگے نے اے ایف پی کو بتایا کہ پانچ سو کے قریب گھر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مکمل تباہ ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر ہلاکتیں رات کے وقت بارش کے دوران مکانات پر  پہاڑ گرنے سے واقع ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>سری لنکا میں مون سون کی بارشوں کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 92 افراد ہلاک اور 110 افراد لاپتہ ہوگئے۔</p><p class=''>اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ریکارڈ بارش ہوئی۔ </p><p class=''>آفیشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ سینٹر (ڈی ایم سی) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے جنوبی اور مغربی حصے میں بارش کے باعث 60 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔</p><p class=''>سری لنکا کے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کےڈپٹی وزیر نے کولمبو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘چند علاقے ایسے ہیں جہاں تک ہماری پہنچ نہیں ہے لیکن امدادی کام جاری ہے’۔</p><p class=''>حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہلاک افراد کی تعداد 92 تک پہنچ چکی ہے جس میں ایک فوجی بھی شامل ہے جو ایک متاثرہ شخص کو بچانے کی کوشش میں ہیلی کاپٹر سے گر گئے تھے۔</p><p class=''>دوسری جانب 110 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔</p><p class=''>سری لنکا نے بارش سے تباہی پھیلتے ہی عالمی برادری سے مدد کے لیے اپیل جاری کی تھی جبکہ بھارت کی جانب سے فوری طور پر دو جہاز امدادی سامان اور میڈیکل ٹیمیں روانہ کی جا رہی ہیں۔ </p><p class=''>سری لنکا کے سرکاری بیان کےمطابق بھارت کا پہلا جہاز ہفتے کو کولمبو پہنچے گا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ سری لنکا کا بارش سےمتاثرہ رتناپور کا یہ علاقہ قدرتی خزانے سے مالامال ہے اور کولمبو سے 100 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔</p><p class=''>ڈی ایم سی کے ڈائریکٹر آپریشنز ریرایڈمرل اے اے پی لیانیگے نے اے ایف پی کو بتایا کہ پانچ سو کے قریب گھر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مکمل تباہ ہوگئے ہیں۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر ہلاکتیں رات کے وقت بارش کے دوران مکانات پر  پہاڑ گرنے سے واقع ہوئی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1058526</guid>
      <pubDate>Fri, 26 May 2017 23:48:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/5928767723833.jpg?r=815438586" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/5928767723833.jpg?r=713865570"/>
        <media:title>سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ چند ایسے علاقے بھی جہاں تک ان کی رسائی نہیں ہے—فوٹو:اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/5928767c381d6.jpg?r=1260972926" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/5928767c381d6.jpg?r=56616343"/>
        <media:title>110 افراد تاحال لاپتہ ہیں—فوٹو: اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
