<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:09:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:09:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ سے متعلق چند ضروری سوالات کی وضاحت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1058542/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;آئندہ مالی سال 18-2017 کا بجٹ گذشتہ روز پیش کیا گیا، لیکن بجٹ کی بہت سی اصطلاحات اور پہلو ایسے ہوتے ہیں، جن کا جاننا ہمارے لیے ضروری ہے، یہاں ایسی ہی کچھ باتوں کی وضاحت کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;سوال: ہم اس بجٹ کو خسارے کا بجٹ کیوں کہتے ہیں جبکہ آمدنی کا حصہ اخراجات سے زیادہ ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جواب: چونکہ آمدنی کی مد میں وفاقی حکومت کو حاصل ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں تک منتقل کر دیا جاتا ہے لہٰذا آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی حکومت نے 2,926.1 ارب روپے آمدنی کا ہدف مقرر کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h5&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058506/' &gt;47 کھرب 50 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش&lt;/a&gt;&lt;/h5&gt;
&lt;p class=''&gt;حکومتی اکاؤنٹنگ کنونشن کے مطابق صوبوں کو منتقل کی جانے والی رقم کو اخراجات میں شمار نہیں کیا جاتا لہٰذا جب آپ صوبوں کو منتقل کیے جانے والی رقم کو وفاق کی کل آمدنی میں سے نکال دیتے ہیں تو آپ کے پاس جو اعداد و شمار باقی رہ جاتے ہیں انہیں وفاق کی نیٹ آمدن کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جس کے بعد وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے امید کرتی ہے کہ وہ 347.3 ارب روپے کا سرپلس چلائیں گی کیونکہ یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ صوبوں کے پاس وفاق کی جانب سے موصول ہونے والے تمام فنڈز کو خرچ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;سوال: یہ خسارہ اتنا اثر انداز کیوں ہوتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جواب: اگر حکومت قومی خزانے میں موجود رقم سے زیادہ خرچ کرتی ہے تو اس کے پاس یہ خلاء پر کرنے کے لیے صرف تین آپشن موجود ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پہلا یہ کہ حکومت اس خسارے کو کم کرنے کے لیے مزید کرنسی نوٹ چھاپے اور یہ عمل افراط زر میں اضافے کا باعث ہوتا ہے کیونکہ آپ کے پاس پیسے تو زیادہ ہو جاتے ہیں لیکن سامان کم ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسرا آپشن یہ ہے کہ مستقبل کے لیے قرضے لیے جائیں، لیکن اس سے قومی قرضوں میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;h5&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058512/' &gt;دفاع کے بجٹ میں 7 فیصد اضافہ&lt;/a&gt;&lt;/h5&gt;
&lt;p class=''&gt;تیسرا آپشن یہ ہے کہ عوام پر لاگو ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے یا پھر دیگر ذرائع سے فنڈز میں اضافہ کیا جائے، جیسے کہ پاور ٹیرف، لیکن اس سے ان لوگوں پر زیادہ بوجھ آجاتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم ان تمام آپشنز کے ناخوشگوار نتائج ہوتے ہیں، لہٰذا جتنا زیادہ خسارہ ہوگا اتنا ہی زیادہ ان آپشن کا اثر ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;سوال: وفاقی بجٹ میں صحت اور تعلیم کے لیے اتنی کم رقم کیوں مختص کی گئی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جواب: پاکستان میں صحت اور تعلیی اخراجات کی سب سے زیادہ ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہوتی ہے جبکہ وفاقی حکومت کا ان اخراجات میں بہت کم حصہ ہوتا ہے جن میں کچھ ہسپتال، ہائیر ایجوکیشن کمیشن، وزارتوں کے اخراجات اور چند پروگرام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;صحت اور تعلیم کے اخراجات صوبائی حکومتوں کے بجٹ میں نمایاں ہوتے ہیں جو وفاقی بجٹ کے بعد جاری کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 27 مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>آئندہ مالی سال 18-2017 کا بجٹ گذشتہ روز پیش کیا گیا، لیکن بجٹ کی بہت سی اصطلاحات اور پہلو ایسے ہوتے ہیں، جن کا جاننا ہمارے لیے ضروری ہے، یہاں ایسی ہی کچھ باتوں کی وضاحت کی جارہی ہے۔</p><hr>
<p class=''><strong>سوال: ہم اس بجٹ کو خسارے کا بجٹ کیوں کہتے ہیں جبکہ آمدنی کا حصہ اخراجات سے زیادہ ہے؟</strong></p><p class=''>جواب: چونکہ آمدنی کی مد میں وفاقی حکومت کو حاصل ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں تک منتقل کر دیا جاتا ہے لہٰذا آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی حکومت نے 2,926.1 ارب روپے آمدنی کا ہدف مقرر کیا ہے۔</p><h5>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058506/' >47 کھرب 50 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش</a></h5>
<p class=''>حکومتی اکاؤنٹنگ کنونشن کے مطابق صوبوں کو منتقل کی جانے والی رقم کو اخراجات میں شمار نہیں کیا جاتا لہٰذا جب آپ صوبوں کو منتقل کیے جانے والی رقم کو وفاق کی کل آمدنی میں سے نکال دیتے ہیں تو آپ کے پاس جو اعداد و شمار باقی رہ جاتے ہیں انہیں وفاق کی نیٹ آمدن کہا جاتا ہے۔</p><p class=''>جس کے بعد وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے امید کرتی ہے کہ وہ 347.3 ارب روپے کا سرپلس چلائیں گی کیونکہ یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ صوبوں کے پاس وفاق کی جانب سے موصول ہونے والے تمام فنڈز کو خرچ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔</p><p class=''><strong>سوال: یہ خسارہ اتنا اثر انداز کیوں ہوتا ہے؟</strong></p><p class=''>جواب: اگر حکومت قومی خزانے میں موجود رقم سے زیادہ خرچ کرتی ہے تو اس کے پاس یہ خلاء پر کرنے کے لیے صرف تین آپشن موجود ہوتے ہیں۔</p><p class=''>پہلا یہ کہ حکومت اس خسارے کو کم کرنے کے لیے مزید کرنسی نوٹ چھاپے اور یہ عمل افراط زر میں اضافے کا باعث ہوتا ہے کیونکہ آپ کے پاس پیسے تو زیادہ ہو جاتے ہیں لیکن سامان کم ہو جاتا ہے۔</p><p class=''>دوسرا آپشن یہ ہے کہ مستقبل کے لیے قرضے لیے جائیں، لیکن اس سے قومی قرضوں میں اضافہ ہوگا۔</p><h5>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058512/' >دفاع کے بجٹ میں 7 فیصد اضافہ</a></h5>
<p class=''>تیسرا آپشن یہ ہے کہ عوام پر لاگو ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے یا پھر دیگر ذرائع سے فنڈز میں اضافہ کیا جائے، جیسے کہ پاور ٹیرف، لیکن اس سے ان لوگوں پر زیادہ بوجھ آجاتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں۔</p><p class=''>تاہم ان تمام آپشنز کے ناخوشگوار نتائج ہوتے ہیں، لہٰذا جتنا زیادہ خسارہ ہوگا اتنا ہی زیادہ ان آپشن کا اثر ہوگا۔</p><p class=''><strong>سوال: وفاقی بجٹ میں صحت اور تعلیم کے لیے اتنی کم رقم کیوں مختص کی گئی ہے؟</strong></p><p class=''>جواب: پاکستان میں صحت اور تعلیی اخراجات کی سب سے زیادہ ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہوتی ہے جبکہ وفاقی حکومت کا ان اخراجات میں بہت کم حصہ ہوتا ہے جن میں کچھ ہسپتال، ہائیر ایجوکیشن کمیشن، وزارتوں کے اخراجات اور چند پروگرام شامل ہیں۔</p><p class=''>صحت اور تعلیم کے اخراجات صوبائی حکومتوں کے بجٹ میں نمایاں ہوتے ہیں جو وفاقی بجٹ کے بعد جاری کیے جاتے ہیں۔</p><hr>
<p class=''><strong><em>یہ خبر 27 مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1058542</guid>
      <pubDate>Mon, 29 May 2017 15:36:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/5929111c13a5b.jpg?r=404982370" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/5929111c13a5b.jpg?r=596385698"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
