<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:16:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:16:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوم تکبیر: پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 19سال مکمل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1058590/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے  کیے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;19 سال قبل ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی 7ویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایٹمی دھماکوں کے دن کو &lt;strong&gt;&amp;#39;یوم تکبیر&amp;#39;&lt;/strong&gt; کا نام دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دھماکوں کے بعد 1999 میں ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی کارگل جنگ جاری تھی، جس کی وجہ سے یوم تکبیر بہت زیادہ جوش و خروش سے منایا گیا، مگر اکتوبر 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت آ گئی تھی، جس کے بعد &lt;strong&gt;یوم تکبیر&lt;/strong&gt; اس جوش و جذبے سے نہیں منایا جا سکا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب بولٹن آف اٹامک سائنٹسٹ نامی ادارہ یہ بتا چکا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد پڑوسی ملک ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد &lt;strong&gt;120&lt;/strong&gt; ہے جب کہ ہندوستان کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کی تعداد &lt;strong&gt;110&lt;/strong&gt; ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--infogram  '&gt;			&lt;script id="infogram_0_global_warhead_stockpile_counts_2013" src="https://e.infogr.am/js/embed.js" type="text/javascript"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان اور ہندوستان دونوں نے ہی پہلی مرتبہ 1998 میں تین تین ہفتوں کے وقفے سے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کیے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;2014ء میں ایٹمی مواد کو لاحق خطرات کی سیکیورٹی کیلئے اقدامات کے حوالہ سے انڈیکس میں پاکستان کا درجہ ہندوستان سے بھی بہتر ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;2014 کے این ٹی آئی انڈیکس میں 9 ایٹمی مسلح قوتوں میں سے زیادہ تر کا درجہ وہی ہے، اس میں صرف ایک پوائنٹ کی کمی بیشی ہے جبکہ 2012 کے مقابلہ میں پاکستان کے ایٹمی مواد کی سیکیورٹی کے حوالہ سے تین درجے بہتری آئی ہے جو کہ کسی بھی ایٹمی ملک کی بہتری میں سب سے زیادہ ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہندوستان کا ایٹمی مواد کے قابل استعمال ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالہ سے 25 ممالک میں سے 23 واں درجہ رہا ہے جبکہ چین کوانڈیکس میں 20 ویں درجہ پر رکھا گیا پاکستان کا فہرست میں 22 واں نمبر تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کا جوہری پروگرام امریکا اور برطانیہ سے زیادہ محفوظ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈان نیوز کے پروگرام &amp;quot;فیصلہ عوام کا&amp;quot; میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف اور اس وقت کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز دھماکوں کے حق میں نہیں تھے اور ملکی مفاد میں انہیں ایسا کرنے کے لیے دونوں کو راضی کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سال بھی پنجاب سمیت سمیت سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرکاری سطح پر کسی تقریب کا انعقاد نہیں کیاگیا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد: ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے  کیے تھے۔</p><p class=''>19 سال قبل ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی 7ویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔</p><p class=''>ایٹمی دھماکوں کے دن کو <strong>&#39;یوم تکبیر&#39;</strong> کا نام دیا گیا۔</p><p class=''>دھماکوں کے بعد 1999 میں ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی کارگل جنگ جاری تھی، جس کی وجہ سے یوم تکبیر بہت زیادہ جوش و خروش سے منایا گیا، مگر اکتوبر 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت آ گئی تھی، جس کے بعد <strong>یوم تکبیر</strong> اس جوش و جذبے سے نہیں منایا جا سکا۔</p><p class=''>دوسری جانب بولٹن آف اٹامک سائنٹسٹ نامی ادارہ یہ بتا چکا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد پڑوسی ملک ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ ہے۔</p><p class=''>ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد <strong>120</strong> ہے جب کہ ہندوستان کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کی تعداد <strong>110</strong> ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--infogram  '>			<script id="infogram_0_global_warhead_stockpile_counts_2013" src="https://e.infogr.am/js/embed.js" type="text/javascript"></script></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>پاکستان اور ہندوستان دونوں نے ہی پہلی مرتبہ 1998 میں تین تین ہفتوں کے وقفے سے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کیے تھے۔</p><p class=''>2014ء میں ایٹمی مواد کو لاحق خطرات کی سیکیورٹی کیلئے اقدامات کے حوالہ سے انڈیکس میں پاکستان کا درجہ ہندوستان سے بھی بہتر ہے۔</p><p class=''>2014 کے این ٹی آئی انڈیکس میں 9 ایٹمی مسلح قوتوں میں سے زیادہ تر کا درجہ وہی ہے، اس میں صرف ایک پوائنٹ کی کمی بیشی ہے جبکہ 2012 کے مقابلہ میں پاکستان کے ایٹمی مواد کی سیکیورٹی کے حوالہ سے تین درجے بہتری آئی ہے جو کہ کسی بھی ایٹمی ملک کی بہتری میں سب سے زیادہ ہے۔ </p><p class=''>ہندوستان کا ایٹمی مواد کے قابل استعمال ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالہ سے 25 ممالک میں سے 23 واں درجہ رہا ہے جبکہ چین کوانڈیکس میں 20 ویں درجہ پر رکھا گیا پاکستان کا فہرست میں 22 واں نمبر تھا۔ </p><p class=''>پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کا جوہری پروگرام امریکا اور برطانیہ سے زیادہ محفوظ ہے۔</p><p class=''>ڈان نیوز کے پروگرام &quot;فیصلہ عوام کا&quot; میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف اور اس وقت کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز دھماکوں کے حق میں نہیں تھے اور ملکی مفاد میں انہیں ایسا کرنے کے لیے دونوں کو راضی کیا گیا۔</p><p class=''>اس سال بھی پنجاب سمیت سمیت سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرکاری سطح پر کسی تقریب کا انعقاد نہیں کیاگیا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1058590</guid>
      <pubDate>Sun, 28 May 2017 12:33:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/592a7c0e82e7c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/592a7c0e82e7c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/592a7bffd2aa1.png" type="image/png" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/592a7bffd2aa1.png"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
