<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 15:07:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 15:07:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے عہدیدار انسانی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1058677/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے تین افغان خواتین کی غیرقانونی اسمگلنگ کے الزام میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے دو عہدیداروں کو گرفتار کر کے ان پر باضابطہ الزامات عائد کردیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;افغان خواتین کو اسلام آباد کے بے نظیربھٹو انٹرنیشنل ائرپورٹ پرجعلی کاغذات پر برطانیہ جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایجنسی کی ابتدائی تفتیش میں انسانی ٹریفکنگ کے نیٹ ورک کا پتہ چلایا گیا اور اس نیٹ ورک کے سرغنہ کی شناخت ڈاکٹر الطاف کے نام سے ہوئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تفتیش کے دوران افغان خواتین نے انکشاف کیا کہ انھوں نے لندن جانے کی غرض سے کابل میں ہی 20 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پی آئی اے کے ایک عہدیدار ملک نعیم جنھوں نے افغان خواتین کو جعلی بورڈنگ پاس جاری کیے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے یہ کام پی آئی اے کے ٹاسک فورس کے رکن اسرار کے حکم پر کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی بورڈنگ پاس کے اجراء کے لیے تین برطانوی پاسپورٹ استعمال کیے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مزید کارروائی کے لیے عدالت سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ پاکستان کو انسانی اسمگلنگ کے لیے اہم راستہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ 2002 میں پریوینشن اینڈ کنٹرول آف ہیومن ٹریفکنگ آرڈیننس (پی سی ایچ ٹی او) جاری کیا گیا تھا  اور اس سے قبل انسانی ٹریفکنگ میں ملوث افراد سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ کوئی قانون موجود نہیں تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایف آئی اے کی فہرست میں اس وقت 90 کے قریب افراد انسانی ٹریفکنگ کے الزام میں’مطلوب’ ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058667/' &gt;پی آئی اے&lt;/a&gt; کو گزشتہ دوہفتوں کے دوران مسافروں اور فلائٹ سے منشیات کی برآمدگی جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں 22 مئی کو برطانیہ جانے والی فلائٹ سے &lt;a href='https://www.dawn.com/news/1334712' &gt;20 کلوگرام ہیروئین&lt;/a&gt; پکڑی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے تین افغان خواتین کی غیرقانونی اسمگلنگ کے الزام میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے دو عہدیداروں کو گرفتار کر کے ان پر باضابطہ الزامات عائد کردیے۔</p><p class=''>افغان خواتین کو اسلام آباد کے بے نظیربھٹو انٹرنیشنل ائرپورٹ پرجعلی کاغذات پر برطانیہ جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔</p><p class=''>ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایجنسی کی ابتدائی تفتیش میں انسانی ٹریفکنگ کے نیٹ ورک کا پتہ چلایا گیا اور اس نیٹ ورک کے سرغنہ کی شناخت ڈاکٹر الطاف کے نام سے ہوئی۔</p><p class=''>تفتیش کے دوران افغان خواتین نے انکشاف کیا کہ انھوں نے لندن جانے کی غرض سے کابل میں ہی 20 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔</p><p class=''>پی آئی اے کے ایک عہدیدار ملک نعیم جنھوں نے افغان خواتین کو جعلی بورڈنگ پاس جاری کیے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے یہ کام پی آئی اے کے ٹاسک فورس کے رکن اسرار کے حکم پر کیا۔</p><p class=''>ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی بورڈنگ پاس کے اجراء کے لیے تین برطانوی پاسپورٹ استعمال کیے گئے۔</p><p class=''>ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مزید کارروائی کے لیے عدالت سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ پاکستان کو انسانی اسمگلنگ کے لیے اہم راستہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ 2002 میں پریوینشن اینڈ کنٹرول آف ہیومن ٹریفکنگ آرڈیننس (پی سی ایچ ٹی او) جاری کیا گیا تھا  اور اس سے قبل انسانی ٹریفکنگ میں ملوث افراد سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ کوئی قانون موجود نہیں تھا۔</p><p class=''>ایف آئی اے کی فہرست میں اس وقت 90 کے قریب افراد انسانی ٹریفکنگ کے الزام میں’مطلوب’ ہیں۔</p><p class=''>دوسری جانب <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058667/' >پی آئی اے</a> کو گزشتہ دوہفتوں کے دوران مسافروں اور فلائٹ سے منشیات کی برآمدگی جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں 22 مئی کو برطانیہ جانے والی فلائٹ سے <a href='https://www.dawn.com/news/1334712' >20 کلوگرام ہیروئین</a> پکڑی گئی تھی۔</p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1058677</guid>
      <pubDate>Mon, 29 May 2017 20:59:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شکیل قرار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/592c3fcb41814.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/592c3fcb41814.jpg?0.4533506472000546"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
