<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 18:11:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 18:11:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لندن برج واقعے کے تیسرے حملہ آور کا نام بھی جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1059144/</link>
      <description>&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;مزید پڑھیں:برطانوی پولیس کی جانب سے لندن حملہ آوروں کے دو نام جاری&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_1"&gt;یہ بھی پڑھیں:لندن حملے میں ’ملوث پاکستانی‘ کے عزیز کے ہوٹل میں سرچ آپریشن&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p class=''&gt;برطانوی پولیس نے لندن برج حملے میں سات افراد کو ہلاک کرنے میں ملوث تیسرے حملہ آور کا نام بھی جاری کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولیس کے مطابق تیسرے حملہ آور کی شناخت 22 سالہ اطالوی یوسف زیغبا کے نام سے ہوئی جس کا آبائی تعلق مراکش سے ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ برطانوی پولیس نے ایک روز قبل ہی دو دیگر حملہ آوروں کے نام جاری کیے تھےجن میں 27 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی خرم شہزاد بٹ اور دوسرے حملہ آور کی شناخت مراکش اور لیبیا کی دوہری شہریت کے حامل 30 سالہ راشد رضوان کے نام سے ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_0"&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1059097/' &gt;برطانوی پولیس کی جانب سے لندن حملہ آوروں کے دو نام جاری&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی لندن میں رات کے وقت کارروائی کرکے 27 سالہ شخص کو گرفتار کیا تھا جبکہ اس سے قبل بغیر کسی جرم کے 12 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا تھا کہ پاکستانی نژاد خرم شہزاد بٹ ماضی میں &amp;#39;پولیس اور ایم آئی فائیو کے لیے جانا پہچانا&amp;#39; نام تھا لیکن حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے کوئی خفیہ اطلاع نہیں تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ یوسف زیغبا &amp;#39;نہ پولیس کو اور نہ ہی ایم آئی فائیو کے لیے مطلوب تھے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;برطانیہ میں خرم شہزاد بٹ کی جانب سے حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے فوری طور پر تنقید سامنے آئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_1"&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1059137/' &gt;لندن حملے میں ’ملوث پاکستانی‘ کے عزیز کے ہوٹل میں سرچ آپریشن&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ خرم شہزاد بٹ ٹی وی چینل 4 کی &amp;#39;جہادیوں کی اگلی دستک&amp;#39; کے عنوان سے ایک ڈاکیومنٹری میں بھی نمودار ہوئے تھے جبکہ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ کئی افراد نے حکام کو ان کے خیالات سے آگاہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یوسف زیغبا کے ممکنہ دہشت گرد ہونے کی اطلاع برطانوی اور مراکش کی خفیہ ایجنسیوں کو دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">مزید پڑھیں:برطانوی پولیس کی جانب سے لندن حملہ آوروں کے دو نام جاری</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_1">یہ بھی پڑھیں:لندن حملے میں ’ملوث پاکستانی‘ کے عزیز کے ہوٹل میں سرچ آپریشن</a>
</li>
</ul>
<p class=''>برطانوی پولیس نے لندن برج حملے میں سات افراد کو ہلاک کرنے میں ملوث تیسرے حملہ آور کا نام بھی جاری کردیا۔</p><p class=''>پولیس کے مطابق تیسرے حملہ آور کی شناخت 22 سالہ اطالوی یوسف زیغبا کے نام سے ہوئی جس کا آبائی تعلق مراکش سے ہے۔</p><p class=''>خیال رہے کہ برطانوی پولیس نے ایک روز قبل ہی دو دیگر حملہ آوروں کے نام جاری کیے تھےجن میں 27 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی خرم شہزاد بٹ اور دوسرے حملہ آور کی شناخت مراکش اور لیبیا کی دوہری شہریت کے حامل 30 سالہ راشد رضوان کے نام سے ہوئی تھی۔</p><h6 id="toc_0">مزید پڑھیں:<a href='https://www.dawnnews.tv/news/1059097/' >برطانوی پولیس کی جانب سے لندن حملہ آوروں کے دو نام جاری</a></h6>
<p class=''>پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی لندن میں رات کے وقت کارروائی کرکے 27 سالہ شخص کو گرفتار کیا تھا جبکہ اس سے قبل بغیر کسی جرم کے 12 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔</p><p class=''>میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا تھا کہ پاکستانی نژاد خرم شہزاد بٹ ماضی میں &#39;پولیس اور ایم آئی فائیو کے لیے جانا پہچانا&#39; نام تھا لیکن حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے کوئی خفیہ اطلاع نہیں تھی۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ یوسف زیغبا &#39;نہ پولیس کو اور نہ ہی ایم آئی فائیو کے لیے مطلوب تھے&#39;۔</p><p class=''>برطانیہ میں خرم شہزاد بٹ کی جانب سے حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے فوری طور پر تنقید سامنے آئی تھی۔</p><h6 id="toc_1">یہ بھی پڑھیں:<a href='https://www.dawnnews.tv/news/1059137/' >لندن حملے میں ’ملوث پاکستانی‘ کے عزیز کے ہوٹل میں سرچ آپریشن</a></h6>
<p class=''>واضح رہے کہ خرم شہزاد بٹ ٹی وی چینل 4 کی &#39;جہادیوں کی اگلی دستک&#39; کے عنوان سے ایک ڈاکیومنٹری میں بھی نمودار ہوئے تھے جبکہ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ کئی افراد نے حکام کو ان کے خیالات سے آگاہ کیا تھا۔</p><p class=''>دوسری جانب اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یوسف زیغبا کے ممکنہ دہشت گرد ہونے کی اطلاع برطانوی اور مراکش کی خفیہ ایجنسیوں کو دی گئی تھی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1059144</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jun 2017 18:08:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/06/5936a6b69c8d9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/06/5936a6b69c8d9.jpg?0.6762661329879853"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/06/5936a6cb990e3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="386">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/06/5936a6cb990e3.jpg"/>
        <media:title>میٹروپولیٹن پولیس نے یوسف زیغبا کی ایک تصویر بھی جاری کردی—فوٹو:اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
