<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:06:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:06:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یمن، ’ہیضے کی وباء سے ہلاکتیں 989 تک پہنچ گئیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1059790/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;صنعاء: عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ یمن کے 20 اضلاع میں 27 اپریل سے اب تک ہیضے کی بیماری کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر989 ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن میں 1 لاکھ 40 ہزار افراد کے مذکورہ مرض میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بیان کے مطابق یہ بیماری دارالحکومت صنعاء کے ساتھ حدیدہ، آمران اور حجاج کے صوبوں میں تیزی سے پھیلی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یمن میں 2 سال سے زائد عرصے سے جاری جھڑپوں کی وجہ سے ملک میں تقریباً 3 ملین افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;صاف پانی کی عدم دستیابی اور کچرہ نہ اٹھائے جانے کی وجہ سے ہر روز ہیضے کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057793' &gt;یمن: ہیضے کی وبا پھوٹنے سے 115 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ رواں سال مئی میں یمن میں ہیضے کی وبا پھوٹنے سے 115 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں انتظامیہ کو مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یمن کی وزارت صحت کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار میں بتایا گیا تھا کہ 27 اپریل سے لے کر 13 مئی تک ہیضے کے مرض میں مبتلا 115 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ ملک کے ساحلی علاقوں سے خوراک کی درآمدات پر پابندی کے سبب غذائی قلت کا بھی سامنا ہے اور اقوام متحدہ نے وارننگ جاری کی ہے ملک کی دو تہائی آبادی یقینی ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد غذائی قلت کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ یمن میں حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان 2015 سے جاری جنگ میں اب تک 8ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>صنعاء: عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ یمن کے 20 اضلاع میں 27 اپریل سے اب تک ہیضے کی بیماری کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر989 ہوگئی ہے۔</p><p class=''>پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن میں 1 لاکھ 40 ہزار افراد کے مذکورہ مرض میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔</p><p class=''>بیان کے مطابق یہ بیماری دارالحکومت صنعاء کے ساتھ حدیدہ، آمران اور حجاج کے صوبوں میں تیزی سے پھیلی ہے۔</p><p class=''>یمن میں 2 سال سے زائد عرصے سے جاری جھڑپوں کی وجہ سے ملک میں تقریباً 3 ملین افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ </p><p class=''>صاف پانی کی عدم دستیابی اور کچرہ نہ اٹھائے جانے کی وجہ سے ہر روز ہیضے کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057793' >یمن: ہیضے کی وبا پھوٹنے سے 115 افراد ہلاک</a></strong></p><p class=''>خیال رہے کہ رواں سال مئی میں یمن میں ہیضے کی وبا پھوٹنے سے 115 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں انتظامیہ کو مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔</p><p class=''>یمن کی وزارت صحت کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار میں بتایا گیا تھا کہ 27 اپریل سے لے کر 13 مئی تک ہیضے کے مرض میں مبتلا 115 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p><p class=''>واضح رہے کہ ملک کے ساحلی علاقوں سے خوراک کی درآمدات پر پابندی کے سبب غذائی قلت کا بھی سامنا ہے اور اقوام متحدہ نے وارننگ جاری کی ہے ملک کی دو تہائی آبادی یقینی ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد غذائی قلت کا شکار ہیں۔</p><p class=''>یاد رہے کہ یمن میں حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان 2015 سے جاری جنگ میں اب تک 8ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1059790</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Jun 2017 16:23:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/06/5943bec96f5ed.jpg?r=365302156" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/06/5943bec96f5ed.jpg?r=806172072"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
