<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 18:47:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Apr 2026 18:47:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیرستان:کھلونا بم پھٹنے سے 6 بچےجاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1060281/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;وفاق کے زیرانتظام قبائل کے علاقے وزیرستان میں کھلونا بم پھٹنے سے 6 بچے جاں بحق ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خبررساں ادارے اے ایف پی کو مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدارنےشناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے گاؤں اسپین مارک میں بم سے مشابہت رکھنے والے کھلونے سے بچے کھیل رہے تھے کہ کھلونا اچانک پھٹ گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ &amp;#39;کھلونا بم پھٹنے سے 6 سے12 سال کی عمر کے 6 بچے جاں بحق  ہوئے اور دو بچے شدید زخمی ہوگئے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مقامی انتظامیہ کے ایک اور عہدیدار نے واقعے اور ہلاکتوں کی تصدیق کی تاہم بم کے حوالے سے حقیقت تاحال واضح نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ قبائلی علاقوں میں ماضی میں بھی کھلونا بم پھٹنے سے کئی بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ ہمسایہ ملک افغانستان میں 1980 کی دہائی میں روسی فوج نے &amp;#39;کھلونا&amp;#39; بم کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے &amp;#39;کھلونا&amp;#39; بم گرائے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جنوبی وزیرستان میں پاک فوج گزشتہ چند برسوں سے کالعدم طالبان سمیت دیگر دہشت گرد گرپوں کے خلاف لڑ رہی ہے تاہم 2014 میں شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب کے بعد بڑی حد تک کامیابی حاصل کی گئی ہے اور معمول زندگی بحال ہوئی ہے تاہم وقتاً فوقتاً ناخوش گوار واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ 2004 میں شروع ہونے والی اس دہشت گردی سے ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں جبکہ کئی زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>وفاق کے زیرانتظام قبائل کے علاقے وزیرستان میں کھلونا بم پھٹنے سے 6 بچے جاں بحق ہوگئے۔</p><p class=''>خبررساں ادارے اے ایف پی کو مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدارنےشناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے گاؤں اسپین مارک میں بم سے مشابہت رکھنے والے کھلونے سے بچے کھیل رہے تھے کہ کھلونا اچانک پھٹ گیا۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ &#39;کھلونا بم پھٹنے سے 6 سے12 سال کی عمر کے 6 بچے جاں بحق  ہوئے اور دو بچے شدید زخمی ہوگئے&#39;۔</p><p class=''>مقامی انتظامیہ کے ایک اور عہدیدار نے واقعے اور ہلاکتوں کی تصدیق کی تاہم بم کے حوالے سے حقیقت تاحال واضح نہیں۔</p><p class=''>خیال رہے کہ قبائلی علاقوں میں ماضی میں بھی کھلونا بم پھٹنے سے کئی بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔</p><p class=''>یاد رہے کہ ہمسایہ ملک افغانستان میں 1980 کی دہائی میں روسی فوج نے &#39;کھلونا&#39; بم کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے &#39;کھلونا&#39; بم گرائے تھے۔</p><p class=''>جنوبی وزیرستان میں پاک فوج گزشتہ چند برسوں سے کالعدم طالبان سمیت دیگر دہشت گرد گرپوں کے خلاف لڑ رہی ہے تاہم 2014 میں شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب کے بعد بڑی حد تک کامیابی حاصل کی گئی ہے اور معمول زندگی بحال ہوئی ہے تاہم وقتاً فوقتاً ناخوش گوار واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔</p><p class=''>خیال رہے کہ 2004 میں شروع ہونے والی اس دہشت گردی سے ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں جبکہ کئی زخمی ہوئے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1060281</guid>
      <pubDate>Sun, 25 Jun 2017 20:47:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/06/594fd83542d08.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/06/594fd83542d08.jpg?0.2743168056120151"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
