<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 01:47:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 01:47:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: سوشل میڈیا تبصرے پر ایف آئی اے نے صحافی کو گرفتار کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1060422/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;کوئٹہ: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر قومی سلامتی اداروں کے خلاف لکھنے والے صحافی کو گرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گرفتار رپورٹر کے اہل خانہ کے مطابق ظفراللہ اچکزئی کو اتوار (25 جون) کو حراست میں لیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب ایف آئی اے حکام کے مطابق کوئٹہ سے نکلنے والے اخبار &amp;#39;قدرت&amp;#39; کے رپورٹر ظفراللہ اچکزئی کو انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت حراست میں لے کر جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت 6 روزہ ریمانڈ پر رپورٹر کو ایف آئی اے کے حوالے کرچکی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058226' &gt;ایف آئی اےکی &amp;#39;دھمکی آمیز&amp;#39; کال:صحافی طحہٰ صدیقی کا عدالت سے رجوع&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گرفتار ہونے والے ظفراللہ کے والد اور روزنامہ قدرت کے ایڈیٹر ان چیف نعمت اللہ اچکزئی کا کہنا تھا کہ &amp;#39;گرفتاری سے قبل سیکیورٹی ایجنسی نے ہمارے ہمسائے کو محصور کیے رکھا&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی نے جمعرات (29 جون) کو ہمیں آگاہ کیا کہ ظفراللہ اچکزئی کو انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور دیگر تنظیموں کے مشترکہ اجلاس میں رپورٹر کے اہل خانہ نے بتایا کہ &amp;#39;سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکار&amp;#39; اتوار کی صبح ظفراللہ کو ان کے گھر سے گرفتار کرکے لے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058343' &gt;ایف آئی اے کو صحافیوں کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اجلاس میں ظفراللہ کی گرفتاری کے طریقے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ &amp;#39;اگر صحافی کے خلاف کوئی شکایت تھی، تو انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ وہ معاملے کو مناسب فورم پر اٹھاتے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اجلاس میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی صحافی کسی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہو تو اسے گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 30 جون 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>کوئٹہ: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر قومی سلامتی اداروں کے خلاف لکھنے والے صحافی کو گرفتار کرلیا۔</p><p class=''>گرفتار رپورٹر کے اہل خانہ کے مطابق ظفراللہ اچکزئی کو اتوار (25 جون) کو حراست میں لیا گیا۔</p><p class=''>دوسری جانب ایف آئی اے حکام کے مطابق کوئٹہ سے نکلنے والے اخبار &#39;قدرت&#39; کے رپورٹر ظفراللہ اچکزئی کو انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت حراست میں لے کر جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت 6 روزہ ریمانڈ پر رپورٹر کو ایف آئی اے کے حوالے کرچکی ہے۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058226' >ایف آئی اےکی &#39;دھمکی آمیز&#39; کال:صحافی طحہٰ صدیقی کا عدالت سے رجوع</a></strong></p><p class=''>گرفتار ہونے والے ظفراللہ کے والد اور روزنامہ قدرت کے ایڈیٹر ان چیف نعمت اللہ اچکزئی کا کہنا تھا کہ &#39;گرفتاری سے قبل سیکیورٹی ایجنسی نے ہمارے ہمسائے کو محصور کیے رکھا&#39;۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی نے جمعرات (29 جون) کو ہمیں آگاہ کیا کہ ظفراللہ اچکزئی کو انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔</p><p class=''>بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور دیگر تنظیموں کے مشترکہ اجلاس میں رپورٹر کے اہل خانہ نے بتایا کہ &#39;سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکار&#39; اتوار کی صبح ظفراللہ کو ان کے گھر سے گرفتار کرکے لے گئے۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058343' >ایف آئی اے کو صحافیوں کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت</a></strong></p><p class=''>اجلاس میں ظفراللہ کی گرفتاری کے طریقے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ &#39;اگر صحافی کے خلاف کوئی شکایت تھی، تو انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ وہ معاملے کو مناسب فورم پر اٹھاتے&#39;۔</p><p class=''>اجلاس میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی صحافی کسی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہو تو اسے گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔</p><hr>
<p class=''><strong><em>یہ خبر 30 جون 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1060422</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Jun 2017 11:01:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/06/5955d2e0ca527.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/06/5955d2e0ca527.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
