<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 01:48:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 01:48:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک نیوز فیڈ ایک بار پھر تبدیل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1060541/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;فیس بک نے اپنے صارفین کے لیے ایک بار پھر نیوفیڈ کو تبدیل کردیا ہے جس کا مقصد غیر معیاری مواد اور جعلی خبروں کی روک تھام کرنا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جی ہاں فیس بک &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1053362' &gt;نیوز فیڈ&lt;/a&gt; کے الگورتھم کو ایک بار پھر اپ ڈیٹ کردیا گیا ہے تاکہ صارفین جعلی خبروں اور غیر معیاری مواد سے بچ سکیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فیس بک کے مطابق بہت کم تعداد میں لوگ روزانہ بہت زیادہ پبلک پوسٹس شیئر کرتے ہیں اور دیگر صارفین کی نیوز فیڈ کر اسپام مواد کی بھرمار کردیتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فیس کے مطابق کچھ افراد غیر معیاری مواد کے لنکس کو شیئر کرتے ہیں اور اس حوالے سے نیوزفیڈ کو اپ دیٹ کیا جارہا ہے تاکہ صارفین ایسے لنکس سے بچ سکیں اور ایسی اسٹوریز دیکھ سکیں جو کہ معلوماتی اور تفریح سے بھرپور ہوں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ بھی پڑھیں : &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1035229' &gt;فیس بک کے 9 بہترین مگر گمنام فیچرز&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس تبدیلی کے نتیجے میں کمپنی کے مطابق صارفین پر اسپام مواد شیئر کرنے والوں کا اثر رسوخ کم ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کمپنی کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کا اطلاق صرف لنکس جیسے مضامین پر ہوگا اور اس سے پیجز، ویڈیوز، فوٹوز اور اسٹیٹس اپ ڈیٹس وغیرہ متاثر نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ گزشتہ دنوں فیس بک نے فائنڈ وائی فائی نامی فیچر بھی متعارف کرایا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مزید پڑھیں : &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060502/' &gt;کیا آپ نے فیس بک پر مفت وائی فائی استعمال کیا؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس فیچر کو استعمال کرکے فیس بک صارفین اپنے ارگرد مفت وائی فائی اسپاٹس کا پتہ لگاسکیں گے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>فیس بک نے اپنے صارفین کے لیے ایک بار پھر نیوفیڈ کو تبدیل کردیا ہے جس کا مقصد غیر معیاری مواد اور جعلی خبروں کی روک تھام کرنا ہے۔</p><p class=''>جی ہاں فیس بک <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1053362' >نیوز فیڈ</a> کے الگورتھم کو ایک بار پھر اپ ڈیٹ کردیا گیا ہے تاکہ صارفین جعلی خبروں اور غیر معیاری مواد سے بچ سکیں۔</p><p class=''>فیس بک کے مطابق بہت کم تعداد میں لوگ روزانہ بہت زیادہ پبلک پوسٹس شیئر کرتے ہیں اور دیگر صارفین کی نیوز فیڈ کر اسپام مواد کی بھرمار کردیتے ہیں۔</p><p class=''>فیس کے مطابق کچھ افراد غیر معیاری مواد کے لنکس کو شیئر کرتے ہیں اور اس حوالے سے نیوزفیڈ کو اپ دیٹ کیا جارہا ہے تاکہ صارفین ایسے لنکس سے بچ سکیں اور ایسی اسٹوریز دیکھ سکیں جو کہ معلوماتی اور تفریح سے بھرپور ہوں۔</p><p class=''>یہ بھی پڑھیں : <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1035229' >فیس بک کے 9 بہترین مگر گمنام فیچرز</a></p><p class=''>اس تبدیلی کے نتیجے میں کمپنی کے مطابق صارفین پر اسپام مواد شیئر کرنے والوں کا اثر رسوخ کم ہوگا۔</p><p class=''>کمپنی کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کا اطلاق صرف لنکس جیسے مضامین پر ہوگا اور اس سے پیجز، ویڈیوز، فوٹوز اور اسٹیٹس اپ ڈیٹس وغیرہ متاثر نہیں ہوں گے۔</p><p class=''>واضح رہے کہ گزشتہ دنوں فیس بک نے فائنڈ وائی فائی نامی فیچر بھی متعارف کرایا تھا۔</p><p class=''>مزید پڑھیں : <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060502/' >کیا آپ نے فیس بک پر مفت وائی فائی استعمال کیا؟</a></p><p class=''>اس فیچر کو استعمال کرکے فیس بک صارفین اپنے ارگرد مفت وائی فائی اسپاٹس کا پتہ لگاسکیں گے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1060541</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Jul 2017 18:02:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/07/5958eebf0c982.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/07/5958eebf0c982.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
