<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:58:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:58:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قابل اعتراض فلم کو نمائش کی اجازت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1060553/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں:  بھارت میں پابندی کا سامنا کرنے والی فلم ہولی وڈ جا پہنچی&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_1"&gt;مزید پڑھیں:  بھارتی فلم کو سنسر بورڈ کا سرٹیفیکیٹ دینے سے انکار&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;ویسے تو بھارتی فلم انڈسٹری میں قابل اعتراض  موویز بنانا معمول کی بات ہے، اور ایسی کئی فلموں کو وہاں کا سینسر بورڈ ریلیز سے پہلے ایسے مناظر ہٹانے کی ہدایات بھی جاری کرتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جب کہ بولی وڈ کی کچھ ایسی فلمیں بھی ہیں، جنہیں وہاں کا سینسر بورڈ ریلیز کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتا، ان پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اور بھارتی فلم انڈسٹری میں تیار ہونے والی تیسری قسم کی فلمیں ایسی ہوتی ہیں، جنہیں ریلیز ہونے کی اجازت تو دی جاتی ہے، لیکن انہیں بھارت میں نمائش کے لیے پیش نہیں کیا جاتا، اور اگر انہیں ہندوستان میں بھی نمائش کے لیے پیش کیا جانا ہو تو اس کے قابل اعتراض مناظر خارج کردیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں:  &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1055674' &gt;بھارت میں پابندی کا سامنا کرنے والی فلم ہولی وڈ جا پہنچی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/07/59591a1fcd97a.jpg'  alt='&amp;mdash;پرومو فوٹو' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—پرومو فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایسی ہی قابل اعتراض مناظر پر مبنی فلم  ’لپ اسٹک انڈر مائے برقعہ&amp;#39; بھی ہے، جسے پہلے پہل تو بھارت کے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی) نے ریلیز کیے جانے کا سرٹفیکیٹ جاری کرنے سے ہی انکار کردیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم فلم کی ٹیم کی جانب سے سی بی ایف سی کے خلاف فلم سرٹیفکیٹ اپیلیٹ ٹربیونل (ایف سی اے ٹی) میں درخواست دائر کی گئی تھی، جس کے بعد اب فلم کو ’اے‘ سرٹفکیٹ جاری کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اے سرٹیفکیٹ اس فلم کو دیا جاتا ہے، جو صرف بالغوں تک محدود ہوتی ہے، جب کہ اس فلم کے قابل اعتراض، متنازع اور خوفناک مناظر خارج کردیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بولی وڈ لائف کے مطابق’لپ اسٹک انڈر مائے برقعہ&amp;#39; کو اے سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے کے بعد اسے 21 جولائی کو ریلیز کے لیے بھارت بھر میں پیش کردیا جائے گا، جب کہ پاکستان میں اس کی اسکریننگ کے حوالے سے تاحال کوئی خبر سامنے نہیں آسکی۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_1"&gt;مزید پڑھیں:  &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1052831' &gt;بھارتی فلم کو سنسر بورڈ کا سرٹیفیکیٹ دینے سے انکار&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;فلم پر تو تنازع جاری ہی تھا، مگر فلم کی ٹیم کی جانب سے 27 جون کو مووی کی نئی پرومو تصویر جاری کیے جانے پر بھی بھارت میں تنازع کھڑا ہوگیا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/LipstickMovie/status/879678041462456321"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;’لپ اسٹک انڈر مائے برقعہ&amp;#39; فلم میں &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1038286' &gt;&lt;strong&gt;قابل اعتراض رومانوی مناظر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہیں، یہ فلم 4 خواتین کی زندگی کے ارد گرد گھومتی ہے، جو معاشرے میں کچھ آزادی حاصل کرنا چاہتی ہیں، اور اپنی مرضی کے مطابق رومانوی تعلقات بھی بڑھاتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فلم کے تازہ جاری کیے گئے ٹریلر میں فلم میں کالج کی طالبہ کا کردار ادا کرنے والی ایک لڑکی کو کالج کے لڑکوں کے ساتھ نڈر انداز میں بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;لڑکی کہتے ہوئی نظر آتی ہے کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ’ لپ اسٹک مت لگاؤ افیئر ہوجائے گا‘’ جینز مت پہنو اسکینڈل ہوجائے گا‘ میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ ایسا کیا ہوجائے گا، آپ ہماری آزادی سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ اس فلم کی ہدایات بھی خاتون ایلانکریتا شریواستوا دے رہی ہیں، اس فلم میں کونکنا سین شرما، اہانا کمارا، پلابیتا بارٹھاکراور رتنا پاٹھک نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">یہ بھی پڑھیں:  بھارت میں پابندی کا سامنا کرنے والی فلم ہولی وڈ جا پہنچی</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_1">مزید پڑھیں:  بھارتی فلم کو سنسر بورڈ کا سرٹیفیکیٹ دینے سے انکار</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>ویسے تو بھارتی فلم انڈسٹری میں قابل اعتراض  موویز بنانا معمول کی بات ہے، اور ایسی کئی فلموں کو وہاں کا سینسر بورڈ ریلیز سے پہلے ایسے مناظر ہٹانے کی ہدایات بھی جاری کرتا رہتا ہے۔</p><p class=''>جب کہ بولی وڈ کی کچھ ایسی فلمیں بھی ہیں، جنہیں وہاں کا سینسر بورڈ ریلیز کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتا، ان پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔</p><p class=''>اور بھارتی فلم انڈسٹری میں تیار ہونے والی تیسری قسم کی فلمیں ایسی ہوتی ہیں، جنہیں ریلیز ہونے کی اجازت تو دی جاتی ہے، لیکن انہیں بھارت میں نمائش کے لیے پیش نہیں کیا جاتا، اور اگر انہیں ہندوستان میں بھی نمائش کے لیے پیش کیا جانا ہو تو اس کے قابل اعتراض مناظر خارج کردیے جاتے ہیں۔</p><h6 id="toc_0">یہ بھی پڑھیں:  <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1055674' >بھارت میں پابندی کا سامنا کرنے والی فلم ہولی وڈ جا پہنچی</a></h6>
<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/07/59591a1fcd97a.jpg'  alt='&mdash;پرومو فوٹو' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—پرومو فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>ایسی ہی قابل اعتراض مناظر پر مبنی فلم  ’لپ اسٹک انڈر مائے برقعہ&#39; بھی ہے، جسے پہلے پہل تو بھارت کے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی) نے ریلیز کیے جانے کا سرٹفیکیٹ جاری کرنے سے ہی انکار کردیا تھا۔</p><p class=''>تاہم فلم کی ٹیم کی جانب سے سی بی ایف سی کے خلاف فلم سرٹیفکیٹ اپیلیٹ ٹربیونل (ایف سی اے ٹی) میں درخواست دائر کی گئی تھی، جس کے بعد اب فلم کو ’اے‘ سرٹفکیٹ جاری کردیا گیا ہے۔</p><p class=''>اے سرٹیفکیٹ اس فلم کو دیا جاتا ہے، جو صرف بالغوں تک محدود ہوتی ہے، جب کہ اس فلم کے قابل اعتراض، متنازع اور خوفناک مناظر خارج کردیے جاتے ہیں۔</p><p class=''>بولی وڈ لائف کے مطابق’لپ اسٹک انڈر مائے برقعہ&#39; کو اے سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے کے بعد اسے 21 جولائی کو ریلیز کے لیے بھارت بھر میں پیش کردیا جائے گا، جب کہ پاکستان میں اس کی اسکریننگ کے حوالے سے تاحال کوئی خبر سامنے نہیں آسکی۔</p><h6 id="toc_1">مزید پڑھیں:  <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1052831' >بھارتی فلم کو سنسر بورڈ کا سرٹیفیکیٹ دینے سے انکار</a></h6>
<p class=''>فلم پر تو تنازع جاری ہی تھا، مگر فلم کی ٹیم کی جانب سے 27 جون کو مووی کی نئی پرومو تصویر جاری کیے جانے پر بھی بھارت میں تنازع کھڑا ہوگیا۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/LipstickMovie/status/879678041462456321"></a>
            </blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>’لپ اسٹک انڈر مائے برقعہ&#39; فلم میں <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1038286' ><strong>قابل اعتراض رومانوی مناظر</strong></a> ہیں، یہ فلم 4 خواتین کی زندگی کے ارد گرد گھومتی ہے، جو معاشرے میں کچھ آزادی حاصل کرنا چاہتی ہیں، اور اپنی مرضی کے مطابق رومانوی تعلقات بھی بڑھاتی ہیں۔</p><p class=''>فلم کے تازہ جاری کیے گئے ٹریلر میں فلم میں کالج کی طالبہ کا کردار ادا کرنے والی ایک لڑکی کو کالج کے لڑکوں کے ساتھ نڈر انداز میں بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔</p><p class=''>لڑکی کہتے ہوئی نظر آتی ہے کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ’ لپ اسٹک مت لگاؤ افیئر ہوجائے گا‘’ جینز مت پہنو اسکینڈل ہوجائے گا‘ میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ ایسا کیا ہوجائے گا، آپ ہماری آزادی سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں۔</p><p class=''>خیال رہے کہ اس فلم کی ہدایات بھی خاتون ایلانکریتا شریواستوا دے رہی ہیں، اس فلم میں کونکنا سین شرما، اہانا کمارا، پلابیتا بارٹھاکراور رتنا پاٹھک نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1060553</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Jul 2017 00:38:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/07/595919560a910.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/07/595919560a910.jpg?0.253072042046226"/>
        <media:title>—پرومو فوٹو</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
