<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 22 May 2026 02:48:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 22 May 2026 02:48:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خون بہا: حقیقت اور افسانے کے درمیان ہم آہنگی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1060687/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;واشنگٹن: لاہور میں 2 پاکستانی شہریوں کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر ہلاک کرنے والے امریکا کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کی کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی آئی اے پاکستان میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کارروائیوں میں ملوث ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&amp;#39;The Contractor: How I Landed in a Pakistani Prison and Ignited a Diplomatic Crisis&amp;#39; نامی کتاب میں سی آئی اے کے سابق ملازم ریمنڈ ڈیوس نے پاکستان میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/06/5956c586b811d.jpg'  alt='ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کا سرورق&amp;mdash;۔' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کا سرورق—۔&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کے مطابق پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) احمد شجاع پاشا نے اسلام آباد میں سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر میں ادارے کے اسٹیشن مینیجر سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے سوال کیا تھا کہ کیا امریکا اپنی معمول کی حدود کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان میں خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کو پاکستان بھیج رہا ہے؟‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈان اخبار کی ایک &lt;a href='https://www.dawn.com/news/1343352/blood-money-eerie-parallels-between-fact-and-fiction' &gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ریمنڈ ڈیوس کی کتاب میں انکشاف کیا گیا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ احمد شجاع پاشا نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا امریکا پاکستان کے خلاف کوئی نئی سازش تو نہیں کر رہا؟&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید دیکھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060519' &gt;&amp;#39;ریمنڈ ڈیوس کے الزامات ریاست پاکستان پر حملہ ہیں&amp;#39;&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سوال کے جواب میں سی آئی اے کے اسٹیشن چیف ہومر بارکین نے کہا ’آپ جانتے ہیں کہ ہم اس طرح کے سوالات کے جوابات نہیں دے سکتے، میرا مطلب ہے کہ ہم ہر قسم کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کارروائیاں کرتے ہیں جیسا کہ آپ کرتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریمنڈ ڈیوس کا کہنا تھا کہ احمد شجاع پاشا نے واشنگٹن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیون پنیٹا سے ملاقات کی اور سوال کیا کہ کیا ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کے لیے کام کرتا ہے، جس کے جواب میں پنیٹا نے کہا کہ نہیں وہ سی آئی اے کے لیے نہیں بلکہ امریکی محمکہ خارجہ کا اہلکار ہے اور وہی اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریمنڈ ڈیوس کے مطابق لیون پنیٹا کے اس جواب سے احمد شجاع پاشا غصہ میں آگئے اور یہ غصہ اُس وقت مزید بڑھ گیا جب اس وقت کے پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے محکمہ خارجہ کی اجازت سے ریمنڈ کے کام کی نوعیت کے بارے میں واضح طور پر بتایا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سے قبل یہ الفاظ واشنگٹن پوسٹ کے سینئر صحافی ڈیوڈ اگنیٹیئس نے اپنے ناول ’بلڈ منی‘ میں بھی لکھے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060471' &gt;لواحقین کو خون بہا لینے پر مجبور کیا گیا: ریمنڈ ڈیوس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریمنڈ ڈیوس کا کہنا ہے کہ وہ سی آئی اے کے لیے کام نہیں کرتا تھا اور زور دیا کہ وہ امریکی فوج کا ایک آزاد کنٹریکٹر ملازم تھا اور اس کا کام لاہور کا دورہ کرنے والے امریکیوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا، تاہم امریکی ذرائع ابلاغ ریمنڈ ڈیوس کو خفیہ ایجنسی کا ایک اہلکار کہتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امریکی ذرائع ابلاغ کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں ڈیوڈ اگنیٹیئس کا کہنا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ افسوس ناک طور پر ان کے ناول کی کہانی جیسا ہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈیوڈ ایگنیٹیئس نے کہا کہ ایک حقیقی زندگی کا سی آئی اے کنٹریکٹر، جسے پاکستانی حکام نے گرفتار کیا اور جس کی صلاحتیوں کے بارے میں نہ تو امریکی جانتے ہیں اور نہ ہی پاکستانی اس سے پہلے جانتے تھے جبکہ آخر میں اس کنٹریکٹر کو خون بہا لے کر رہا کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈیوڈ اگنیٹیئس امریکا کے واحد جرنلسٹ ہیں جنہوں نے آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کیا اور پھر ان ہی کی مدد سے اگنیٹیئس نے وزیرستان کا دورہ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060571/' &gt;پاکستانی حکام نے میری رہائی کیلئے قانون کا مذاق بنادیا:ریمنڈ ڈیوس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امریکی صحافی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ناول میں جن خفیہ کارروائیوں کا ذکر کیا ہے وہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں قابل الذکر نقطہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں ہی ایک دوسرے کے خلاف خفیہ کارروائی کرتے ہیں، نہ ہی امریکی پاکستانیوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور نہ ہی پاکستانی امریکیوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اگنیٹیئس کا کہنا تھا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہمیشہ سرحد کے دونوں جانب کارروائیاں کرتی رہی ہے جبکہ امریکا بھی کچھ اسی طرح کا کام کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے بتایا کہ سی آئی اے نے آئی ایس آئی کے ساتھ کئی مشترکہ کارروائیاں کی ہیں جبکہ کئی کارروائیاں ایسی ہیں، جن کے بارے میں امریکا نے کبھی بھی آئی ایس آئی کو آگاہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ سی آئی اے کے سابق اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ ان کی رہائی کے معاملے میں پاکستان میں موجود قصاص اور دیت کے قانون کا غلط استعمال کیا گیا تھا اور لواحقین کو خون بہا لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سی آئی اے کے سابق اہلکار نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا کہ پاکستانی خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ شجاع پاشا ان کی رہائی کی ڈیل کامیاب بنانے میں &amp;#39;واضح طور پر مصروف عمل&amp;#39; تھے اور مقتولین کے ورثاء کو شدت پسند اسلامی سوچ سے دور رکھنے کے لیے آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے اس معاملے میں مداخلت کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>واشنگٹن: لاہور میں 2 پاکستانی شہریوں کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر ہلاک کرنے والے امریکا کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کی کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی آئی اے پاکستان میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کارروائیوں میں ملوث ہے۔</p><p class=''>&#39;The Contractor: How I Landed in a Pakistani Prison and Ignited a Diplomatic Crisis&#39; نامی کتاب میں سی آئی اے کے سابق ملازم ریمنڈ ڈیوس نے پاکستان میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/06/5956c586b811d.jpg'  alt='ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کا سرورق&mdash;۔' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کا سرورق—۔</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کے مطابق پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) احمد شجاع پاشا نے اسلام آباد میں سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر میں ادارے کے اسٹیشن مینیجر سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے سوال کیا تھا کہ کیا امریکا اپنی معمول کی حدود کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان میں خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کو پاکستان بھیج رہا ہے؟‘۔</p><p class=''>ڈان اخبار کی ایک <a href='https://www.dawn.com/news/1343352/blood-money-eerie-parallels-between-fact-and-fiction' ><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ریمنڈ ڈیوس کی کتاب میں انکشاف کیا گیا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ احمد شجاع پاشا نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا امریکا پاکستان کے خلاف کوئی نئی سازش تو نہیں کر رہا؟</p><p class=''><strong>مزید دیکھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060519' >&#39;ریمنڈ ڈیوس کے الزامات ریاست پاکستان پر حملہ ہیں&#39;</a></strong></p><p class=''>اس سوال کے جواب میں سی آئی اے کے اسٹیشن چیف ہومر بارکین نے کہا ’آپ جانتے ہیں کہ ہم اس طرح کے سوالات کے جوابات نہیں دے سکتے، میرا مطلب ہے کہ ہم ہر قسم کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کارروائیاں کرتے ہیں جیسا کہ آپ کرتے ہیں‘۔</p><p class=''>ریمنڈ ڈیوس کا کہنا تھا کہ احمد شجاع پاشا نے واشنگٹن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیون پنیٹا سے ملاقات کی اور سوال کیا کہ کیا ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کے لیے کام کرتا ہے، جس کے جواب میں پنیٹا نے کہا کہ نہیں وہ سی آئی اے کے لیے نہیں بلکہ امریکی محمکہ خارجہ کا اہلکار ہے اور وہی اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔</p><p class=''>ریمنڈ ڈیوس کے مطابق لیون پنیٹا کے اس جواب سے احمد شجاع پاشا غصہ میں آگئے اور یہ غصہ اُس وقت مزید بڑھ گیا جب اس وقت کے پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے محکمہ خارجہ کی اجازت سے ریمنڈ کے کام کی نوعیت کے بارے میں واضح طور پر بتایا۔</p><p class=''>اس سے قبل یہ الفاظ واشنگٹن پوسٹ کے سینئر صحافی ڈیوڈ اگنیٹیئس نے اپنے ناول ’بلڈ منی‘ میں بھی لکھے تھے۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060471' >لواحقین کو خون بہا لینے پر مجبور کیا گیا: ریمنڈ ڈیوس</a></strong></p><p class=''>ریمنڈ ڈیوس کا کہنا ہے کہ وہ سی آئی اے کے لیے کام نہیں کرتا تھا اور زور دیا کہ وہ امریکی فوج کا ایک آزاد کنٹریکٹر ملازم تھا اور اس کا کام لاہور کا دورہ کرنے والے امریکیوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا، تاہم امریکی ذرائع ابلاغ ریمنڈ ڈیوس کو خفیہ ایجنسی کا ایک اہلکار کہتا ہے۔</p><p class=''>امریکی ذرائع ابلاغ کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں ڈیوڈ اگنیٹیئس کا کہنا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ افسوس ناک طور پر ان کے ناول کی کہانی جیسا ہی ہے۔</p><p class=''>ڈیوڈ ایگنیٹیئس نے کہا کہ ایک حقیقی زندگی کا سی آئی اے کنٹریکٹر، جسے پاکستانی حکام نے گرفتار کیا اور جس کی صلاحتیوں کے بارے میں نہ تو امریکی جانتے ہیں اور نہ ہی پاکستانی اس سے پہلے جانتے تھے جبکہ آخر میں اس کنٹریکٹر کو خون بہا لے کر رہا کر دیا گیا۔</p><p class=''>ڈیوڈ اگنیٹیئس امریکا کے واحد جرنلسٹ ہیں جنہوں نے آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کیا اور پھر ان ہی کی مدد سے اگنیٹیئس نے وزیرستان کا دورہ کیا۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060571/' >پاکستانی حکام نے میری رہائی کیلئے قانون کا مذاق بنادیا:ریمنڈ ڈیوس</a></strong></p><p class=''>امریکی صحافی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ناول میں جن خفیہ کارروائیوں کا ذکر کیا ہے وہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں قابل الذکر نقطہ ہے۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں ہی ایک دوسرے کے خلاف خفیہ کارروائی کرتے ہیں، نہ ہی امریکی پاکستانیوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور نہ ہی پاکستانی امریکیوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔</p><p class=''>اگنیٹیئس کا کہنا تھا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہمیشہ سرحد کے دونوں جانب کارروائیاں کرتی رہی ہے جبکہ امریکا بھی کچھ اسی طرح کا کام کرتا رہا ہے۔</p><p class=''>انہوں نے بتایا کہ سی آئی اے نے آئی ایس آئی کے ساتھ کئی مشترکہ کارروائیاں کی ہیں جبکہ کئی کارروائیاں ایسی ہیں، جن کے بارے میں امریکا نے کبھی بھی آئی ایس آئی کو آگاہ نہیں کیا۔</p><p class=''>یاد رہے کہ سی آئی اے کے سابق اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ ان کی رہائی کے معاملے میں پاکستان میں موجود قصاص اور دیت کے قانون کا غلط استعمال کیا گیا تھا اور لواحقین کو خون بہا لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔</p><p class=''>سی آئی اے کے سابق اہلکار نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا کہ پاکستانی خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ شجاع پاشا ان کی رہائی کی ڈیل کامیاب بنانے میں &#39;واضح طور پر مصروف عمل&#39; تھے اور مقتولین کے ورثاء کو شدت پسند اسلامی سوچ سے دور رکھنے کے لیے آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے اس معاملے میں مداخلت کی تھی۔</p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1060687</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Jul 2017 13:14:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/07/595c9239c098f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/07/595c9239c098f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
