<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:10:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:10:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دی نیوز کے رپورٹر نے اپنی خبر پر معافی مانگ لی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1061122/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان کے انگریزی زبان میں شائع ہونے والے روزنامہ ’دی نیوز‘ کے رپورٹر نے سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان کے منی ٹریل اور اثاثوں کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں وزیراعظم نواز شریف کو قصور وار قرار نہ دینے پر معافی مانگ لی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی کی جانب سے رپورٹ پیش کیے جانے سے قبل 10 جولائی کو دی نیوز میں ’پاناما جے آئی ٹی نے وزیراعظم کو قصور وار نہیں پایا، لیکن ان کے بیٹوں کو‘ یا ’ Panama JIT ‘doesn’t find PM guilty,’ but his sons‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں تجویز دی گئی تھی کہ جے آئی ٹی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ وہ وزیراعظم نواز شریف کو غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے ذمہ دار قرار دیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رپورٹ میں جے آئی ٹی کے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ جے آئی ٹی نے نواز شریف کے بیٹوں — حسین نواز اور حسن نواز — کو لندن میں ان کے خاندان کی رقم منتقل کے ثبوت میہا نہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060974/' &gt;جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعد ازاں 12 جولائی کو دی نیوز کے فرنٹ پیچ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں مذکورہ رپورٹ کے رپورٹر احمد نورانی نے کہا کہ ’واضح طور پر میری رپورٹ کا سب سے اہم اور خبردار کرنے والا حصہ، جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کو کسی بھی غلطی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا، مکمل طور پر غلط ثابت ہوا ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پروفیشنل صحافی ہونے کے ناطے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری رپورٹ نے نہ صرف میرے قارئین کے جذبات کو مجروح کیا ہے جبکہ ساتھ ہی میری ذاتی حیثیت کو بھی نقصان پہنچایا ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ رواں ہفتے پیر کے روز سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی اور پاناما کیس کی سماعت کرتے ہوئے مذکورہ بینچ نے ایک علیحدہ رپورٹ پر دی نیوز کے رپورٹر، پبلشر اور پرنٹر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مذکورہ رپورٹ کے بارے میں عدالت کا کہنا تھا کہ یہ جے آئی ٹی کی گذشتہ 60 روز کی سماعت کے متصادم ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عدالت نے احمد نوارنی کی جانب سے پاناما پیپرز کے کیس کی سماعت کرنے والے بینچ سے رابطہ کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جسٹس اعجاز افضال کے مطابق احمد نورانی نے انہیں کال کی اور ’سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کو جے آئی ٹی معاملات کو دیکھنے کی ہدایت کردی‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ پر سوال کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060986/' &gt;جے آئی ٹی کی شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سفارش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بینچ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک رپورٹر نے اس عدالت کے ارکان سے رابطہ کرنے کی ہمت کیسے کی‘&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ادھر اپنی معذرت میں احمد نورانی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جنگ گروپ اور ان کے خلاف جاری مہم کو ’تجدید مہم‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ ’مجھ پر الزام ہے کہ میں نے جان بوجھ کر غلط رپورٹ شائع کی جس میں وزیراعظم کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا کہ میں نے واضح طور پر تحریر کیا تھا کہ شریف خاندان منی ٹریل کو ثابت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے‘، تاہم انہوں نے اپنی معذرت میں کہیں بھی اس رپورٹ کا ذکر نہیں کیا جس پر انہیں توہین عدالت کا نوٹس ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;احمد نورانی نے کہا کہ ’انسان غلطی کرتے ہیں اور میں اس سے مستثنیٰ نہیں ہوں‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علاوہ ازیں دی نیوز نے اپنے ایک علیحدہ ایڈیٹوریل میں مذکورہ رپورٹ پر معذرت کی جو کہ ’مکمل طور پر غلط تھی‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: گذشتہ روز غلط فہمی کے باعث مندرجہ بالا رپورٹ میں یہ تحریر کردیا گیا تھا کہ احمد نورانی کو توہین عدالت کا نوٹس ’پاناما جے آئی ٹی نے وزیراعظم کو قصور وار نہیں پایا، لیکن ان کے بیٹوں کو‘ یا ’ Panama JIT ‘doesn’t find PM guilty,’ but his sons‘ پر ہوا ہے جو اصل میں درست نہیں، مندرجہ بالا رپورٹ میں اس غلطی کو درست کردیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>پاکستان کے انگریزی زبان میں شائع ہونے والے روزنامہ ’دی نیوز‘ کے رپورٹر نے سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان کے منی ٹریل اور اثاثوں کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں وزیراعظم نواز شریف کو قصور وار قرار نہ دینے پر معافی مانگ لی۔</p><p class=''>سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی کی جانب سے رپورٹ پیش کیے جانے سے قبل 10 جولائی کو دی نیوز میں ’پاناما جے آئی ٹی نے وزیراعظم کو قصور وار نہیں پایا، لیکن ان کے بیٹوں کو‘ یا ’ Panama JIT ‘doesn’t find PM guilty,’ but his sons‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں تجویز دی گئی تھی کہ جے آئی ٹی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ وہ وزیراعظم نواز شریف کو غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے ذمہ دار قرار دیں۔</p><p class=''>رپورٹ میں جے آئی ٹی کے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ جے آئی ٹی نے نواز شریف کے بیٹوں — حسین نواز اور حسن نواز — کو لندن میں ان کے خاندان کی رقم منتقل کے ثبوت میہا نہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060974/' >جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش</a></strong></p><p class=''>بعد ازاں 12 جولائی کو دی نیوز کے فرنٹ پیچ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں مذکورہ رپورٹ کے رپورٹر احمد نورانی نے کہا کہ ’واضح طور پر میری رپورٹ کا سب سے اہم اور خبردار کرنے والا حصہ، جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کو کسی بھی غلطی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا، مکمل طور پر غلط ثابت ہوا ہے‘۔</p><p class=''>ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پروفیشنل صحافی ہونے کے ناطے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری رپورٹ نے نہ صرف میرے قارئین کے جذبات کو مجروح کیا ہے جبکہ ساتھ ہی میری ذاتی حیثیت کو بھی نقصان پہنچایا ہے‘۔</p><p class=''>خیال رہے کہ رواں ہفتے پیر کے روز سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی اور پاناما کیس کی سماعت کرتے ہوئے مذکورہ بینچ نے ایک علیحدہ رپورٹ پر دی نیوز کے رپورٹر، پبلشر اور پرنٹر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔</p><p class=''>مذکورہ رپورٹ کے بارے میں عدالت کا کہنا تھا کہ یہ جے آئی ٹی کی گذشتہ 60 روز کی سماعت کے متصادم ہے۔</p><p class=''>عدالت نے احمد نوارنی کی جانب سے پاناما پیپرز کے کیس کی سماعت کرنے والے بینچ سے رابطہ کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔</p><p class=''>جسٹس اعجاز افضال کے مطابق احمد نورانی نے انہیں کال کی اور ’سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کو جے آئی ٹی معاملات کو دیکھنے کی ہدایت کردی‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ پر سوال کیا۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060986/' >جے آئی ٹی کی شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سفارش</a></strong></p><p class=''>بینچ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک رپورٹر نے اس عدالت کے ارکان سے رابطہ کرنے کی ہمت کیسے کی‘</p><p class=''>ادھر اپنی معذرت میں احمد نورانی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جنگ گروپ اور ان کے خلاف جاری مہم کو ’تجدید مہم‘ قرار دیا۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ ’مجھ پر الزام ہے کہ میں نے جان بوجھ کر غلط رپورٹ شائع کی جس میں وزیراعظم کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا کہ میں نے واضح طور پر تحریر کیا تھا کہ شریف خاندان منی ٹریل کو ثابت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے‘، تاہم انہوں نے اپنی معذرت میں کہیں بھی اس رپورٹ کا ذکر نہیں کیا جس پر انہیں توہین عدالت کا نوٹس ہوا تھا۔</p><p class=''>احمد نورانی نے کہا کہ ’انسان غلطی کرتے ہیں اور میں اس سے مستثنیٰ نہیں ہوں‘۔</p><p class=''>علاوہ ازیں دی نیوز نے اپنے ایک علیحدہ ایڈیٹوریل میں مذکورہ رپورٹ پر معذرت کی جو کہ ’مکمل طور پر غلط تھی‘۔</p><p class=''><strong>نوٹ: گذشتہ روز غلط فہمی کے باعث مندرجہ بالا رپورٹ میں یہ تحریر کردیا گیا تھا کہ احمد نورانی کو توہین عدالت کا نوٹس ’پاناما جے آئی ٹی نے وزیراعظم کو قصور وار نہیں پایا، لیکن ان کے بیٹوں کو‘ یا ’ Panama JIT ‘doesn’t find PM guilty,’ but his sons‘ پر ہوا ہے جو اصل میں درست نہیں، مندرجہ بالا رپورٹ میں اس غلطی کو درست کردیا گیا ہے۔</strong> </p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1061122</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Jul 2017 12:38:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/07/59660f6caa350.jpg?r=121832747" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/07/59660f6caa350.jpg?r=1848867738"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
