<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:11:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:11:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ وسائل کی کمی کا شکار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1061685/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/6DS_QwG6_Uo?enablejsapi=1&amp;showinfo=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد: پاکستان میں آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات کے حوالے سے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی نگہت داد کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے پاس وسائل اور اسٹاف کی کمی ہے، اگرچہ ان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کیا جاتا ہے لیکن یہ عمل سست روی کا شکار رہتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈان نیوز کے پروگرام &amp;#39;نیوز وائز&amp;#39; میں گفتگو کرتے ہوئے نگہت داد نے کہا کہ اگرچہ اس قسم کے مسائل کے حل کے لیے قانونی طریقہ کار بہتر ہوا ہے لیکن اس وقت اس میں بہت سی چیزیں واضح نہیں ہیں، جیسا کہ تفتیشی افسران بہت کم ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے بتایا کہ میرے خیال میں پورے پنجاب کے لیے 9 کے قریب تفتیشی افسران موجود ہیں، ساتھ ہی انہوں نے وزارت داخلہ پر زور دیا کہ وہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو مکمل وسائل فراہم کرے تاکہ وہ یہ مسائل حل کرسکے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی نے اپنی تنظیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دسمبر 2016 میں ٹال فری ہیلپ لائن کا آغاز کیا، جس کا مقصد آن لائن ہراساں ہونے والی خواتین کو مدد فراہم کرنا تھا، اگست 2016 میں سائبر کرائم بل منظور ہونے کے بعد ہمارا مقصد عوام کو آگاہی فراہم کرنا ہے کہ ہراساں ہونے کی صورت میں وہ کس قسم کی چارہ جوئی کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نگہت داد کے مطابق آن لائن ہراساں ہونے کے بعد بہت سی خواتین اس معاملے پر بات کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ کر نہیں پاتیں کیوں کہ اسے معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا، لیکن ہم ان کی بات سن کر انھیں رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور بہت سی کالز کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے سپرد کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزیر پڑھیں:&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1015112' &gt;سائبر کرائم : آپ کو کیا معلوم ہونا چاہیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ہم ذہنی دباؤ کی شکار خواتین کو کونسلنگ فراہم کرتے ہیں جو ان کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی طور پر ان کی مدد کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے سابق اہلکار عون عباس نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس آنے والی شکایات میں سے 65 فیصد شکایات ہراساں کیے جانے کی آتی ہیں، ہراساں ہونے والی 80 فیصد خواتین معلومات ہونے کے باعث اپنا کیس رپورٹ نہیں کر پاتیں اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ خواتین ایف آئی اے کے پاس آنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتی ہیں کہ معلوم نہیں انہیں بعد میں کس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عون عباس کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ایف آئی اے نے سائبر کرائم ڈپارٹمنٹ میں لیڈی آفیسر یونٹ بنائی ہوئی ہے جو شکایات لے کر آنے والی خواتین کے مسائل حل کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1007781' &gt;آن لائن سائبر کرائم کے قوانین کی عدم موجودگی خواتین کے لیے خطرہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہراساں ہونی والی خاتون کی جانب سے سب سے پہلے یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند کر دیا جائے لیکن اس میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پھر ثبوت کے طور پر اسے عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات متاثرہ شخص میں ڈپریشن اور دیگر ذہنی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ ہراساں کرنے کے واقعات فیس بک پر پیش آتے ہیں، اس ادارے کو 6 ماہ کے دوران ہراساں کرنے کی 763 شکایات موصول ہوئیں جس میں سے 67 فیصد خواتین اور 37 فیصد مردوں نے شکایات کا اندراج کروایا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/6DS_QwG6_Uo?enablejsapi=1&showinfo=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''><strong>اسلام آباد: پاکستان میں آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات کے حوالے سے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی نگہت داد کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے پاس وسائل اور اسٹاف کی کمی ہے، اگرچہ ان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کیا جاتا ہے لیکن یہ عمل سست روی کا شکار رہتا ہے۔</strong></p><p class=''>ڈان نیوز کے پروگرام &#39;نیوز وائز&#39; میں گفتگو کرتے ہوئے نگہت داد نے کہا کہ اگرچہ اس قسم کے مسائل کے حل کے لیے قانونی طریقہ کار بہتر ہوا ہے لیکن اس وقت اس میں بہت سی چیزیں واضح نہیں ہیں، جیسا کہ تفتیشی افسران بہت کم ہیں۔</p><p class=''>انہوں نے بتایا کہ میرے خیال میں پورے پنجاب کے لیے 9 کے قریب تفتیشی افسران موجود ہیں، ساتھ ہی انہوں نے وزارت داخلہ پر زور دیا کہ وہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو مکمل وسائل فراہم کرے تاکہ وہ یہ مسائل حل کرسکے۔</p><p class=''>ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی نے اپنی تنظیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دسمبر 2016 میں ٹال فری ہیلپ لائن کا آغاز کیا، جس کا مقصد آن لائن ہراساں ہونے والی خواتین کو مدد فراہم کرنا تھا، اگست 2016 میں سائبر کرائم بل منظور ہونے کے بعد ہمارا مقصد عوام کو آگاہی فراہم کرنا ہے کہ ہراساں ہونے کی صورت میں وہ کس قسم کی چارہ جوئی کرسکتی ہیں۔</p><p class=''>نگہت داد کے مطابق آن لائن ہراساں ہونے کے بعد بہت سی خواتین اس معاملے پر بات کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ کر نہیں پاتیں کیوں کہ اسے معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا، لیکن ہم ان کی بات سن کر انھیں رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور بہت سی کالز کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے سپرد کر دیتے ہیں۔</p><p class=''><strong>مزیر پڑھیں:<a href='https://www.dawnnews.tv/news/1015112' >سائبر کرائم : آپ کو کیا معلوم ہونا چاہیے</a></strong></p><p class=''>ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ہم ذہنی دباؤ کی شکار خواتین کو کونسلنگ فراہم کرتے ہیں جو ان کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی طور پر ان کی مدد کرتی ہیں۔</p><p class=''>اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے سابق اہلکار عون عباس نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس آنے والی شکایات میں سے 65 فیصد شکایات ہراساں کیے جانے کی آتی ہیں، ہراساں ہونے والی 80 فیصد خواتین معلومات ہونے کے باعث اپنا کیس رپورٹ نہیں کر پاتیں اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ خواتین ایف آئی اے کے پاس آنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتی ہیں کہ معلوم نہیں انہیں بعد میں کس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔</p><p class=''>عون عباس کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ایف آئی اے نے سائبر کرائم ڈپارٹمنٹ میں لیڈی آفیسر یونٹ بنائی ہوئی ہے جو شکایات لے کر آنے والی خواتین کے مسائل حل کرتی ہیں۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1007781' >آن لائن سائبر کرائم کے قوانین کی عدم موجودگی خواتین کے لیے خطرہ</a></strong></p><p class=''>انہوں نے مزید کہا کہ ہراساں ہونی والی خاتون کی جانب سے سب سے پہلے یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند کر دیا جائے لیکن اس میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پھر ثبوت کے طور پر اسے عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔</p><p class=''>واضح رہے کہ آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات متاثرہ شخص میں ڈپریشن اور دیگر ذہنی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔</p><p class=''>ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ ہراساں کرنے کے واقعات فیس بک پر پیش آتے ہیں، اس ادارے کو 6 ماہ کے دوران ہراساں کرنے کی 763 شکایات موصول ہوئیں جس میں سے 67 فیصد خواتین اور 37 فیصد مردوں نے شکایات کا اندراج کروایا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1061685</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Jul 2017 12:55:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/07/5973044aacf62.jpg?r=607499748" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/07/5973044aacf62.jpg?r=1258112494"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
