<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 23:34:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 23:34:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بوسہ دینے سے بچی کی موت واقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1061707/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: غریب کے بچے زیادہ بیمار کیوں ہوتے ہیں؟&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_1"&gt;مزید پڑھیں: پیدائش سے قبل بچے کی جنس کی پیشگوئی ممکن&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_2"&gt;یہ بھی پڑھیں: پہلی بار&amp;#39;تین افراد&amp;#39; کے بچے کی پیدائش&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;امریکی ریاست آئیووا میں بوسہ دینے سے ایک نوزائدہ بچی کی ہلاکت کے بعد غمزدہ والدین نے دیگر لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ نوزائدہ بچوں کو غیر افراد سے دور رکھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئیووا کے دارالحکومت دی موین سے تعلق رکھنے والے &lt;a href='https://www.facebook.com/shane.sifrit.50' &gt;&lt;strong&gt;شین سفرت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; اور نکولو سفرت کے ہاں رواں ماہ یکم جولائی کو بچی کی پیدائش ہوئی تھی، جس کے کے اگلے دن  ہی بچی کی طبیعت خراب ہوگئی،  اسے سانس لینے میں مشکل درپیش آ رہی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نشریاتی ادارے  ڈبلیو ایچ او ٹی وی نے خبر دی تھی کہ ماریانہ نامی بچی کی طبیعت خراب ہونے کے بعد اسے دی موین کے بلینک چلڈرن ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے  بچی میں ہرپس سمپلیکس وائرس  (ایچ ایس وی) ون کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057255' &gt;غریب کے بچے زیادہ بیمار کیوں ہوتے ہیں؟&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/07/5973526017366.jpg'  alt='&amp;mdash;فوٹو: فیس بک' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو: فیس بک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ وائرس ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے، خصوصی طور پر بڑی عمر کے افراد سے چھوٹے بچوں میں تیزی سے منتقل ہوتا ہے، اس وائرس کا سب سے پہلے ہونٹوں پر اثر ہوتا ہے، جہاں زخم ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بچے میں وائرس منتقل ہوتے ہی پہلے پہل بچوں کو بخار ہوتا ہے، مگر ہر ایک بچے کی حالت مختلف ہوتی ہے، کوئی بچہ سانس لینے کی تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے، تو کسی کو خارش اور زخم ہونے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ماریانہ کو ممکنہ طور پر ہاتھ پر بوسہ دیا گیا تھا، جس کے بعد بچی نے اپنے ہی ہاتھ کو اپنے منہ میں ڈالا، جس پر وائرس ان میں منتقل ہوگیا، اور اگلے 2 گھنٹے میں ہی اس کی طبیعت خراب ہوگئی، اسے سانس لینے میں مشکلات درپیش آ رہی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_1"&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1050425' &gt;پیدائش سے قبل بچے کی جنس کی پیشگوئی ممکن&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;ہسپتال میں ماریانہ کے والدین کا ٹیسٹ بھی کیا گیا، جن کے نتائج منفی آئے، بچی کی طبیعت خراب ہوجانے کے بعد اسے انتہائی نگہداشت والے کمرے (آئی سی یو) میں منتقل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جوں جوں دن گزرے گئے بچی کی طبیعت میں بہتری کے بجائے مزید خرابی پیدا ہوتی گئی، اور رفتہ رفتہ بچی کی کڈنی سمیت اندورونی اعضاء  نے کام کرنا چھوڑ دیا، اور بلآخر 18 جولائی کو ماریانہ چل بسیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/07/5973525fd1bca.jpg'  alt='&amp;mdash;فوٹو: فیس بک' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو: فیس بک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ماریانہ کے چل بسنے کے بعد ان کی والدہ نے فیس بک پر پوسٹ کرنے سمیت ان کی یاد میں آن لائن ویب پورٹل بھی تیار کیا، جس میں آن لائن تعزیت کرنے کی سہولت بھی دی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/nicole.sifrit/posts/491958194469860?pnref=story" data-width="650"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_2"&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1050778' &gt;پہلی بار&amp;#39;تین افراد&amp;#39; کے بچے کی پیدائش&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;ویب پورٹل میں بتایا گیا کہ &lt;a href='http://www.hamiltonsfuneralhome.com/services/services_detail.aspx?rid=25643#.WXE_1fCC0Gs.facebook' &gt;&lt;strong&gt;ماریانہ کی آخری رسومات&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; 24 جولائی کو  دو پہر 2 بجے آئیووا سٹی میں ادا کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ماریانہ کی ماں نے اپنے فیس صفحے پر دیگر والدین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے نوزائدہ بچوں کو بوسہ نہ دیں، اور نہ ہی کسی کو ان کے قریب آنے دیں،ا ور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو پہلے ان کے ہاتھ دھوئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بچی کی ہلاکت کے بعد والدین نے ان کی یاد میں اپنے فیس بک پروفائل پر بھی ’پرنسس ماریانہ‘ کے ربن کی تصویر لگائی، جس کے بعد سیکڑوں لوگوں نے ان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے اپنے پروفائل پر بھی وہی تصویر لگائی۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/07/597352601a215.jpg'  alt='&amp;mdash;فوٹو: فیس بک' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو: فیس بک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">یہ بھی پڑھیں: غریب کے بچے زیادہ بیمار کیوں ہوتے ہیں؟</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_1">مزید پڑھیں: پیدائش سے قبل بچے کی جنس کی پیشگوئی ممکن</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_2">یہ بھی پڑھیں: پہلی بار&#39;تین افراد&#39; کے بچے کی پیدائش</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>امریکی ریاست آئیووا میں بوسہ دینے سے ایک نوزائدہ بچی کی ہلاکت کے بعد غمزدہ والدین نے دیگر لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ نوزائدہ بچوں کو غیر افراد سے دور رکھیں۔</p><p class=''>آئیووا کے دارالحکومت دی موین سے تعلق رکھنے والے <a href='https://www.facebook.com/shane.sifrit.50' ><strong>شین سفرت</strong></a> اور نکولو سفرت کے ہاں رواں ماہ یکم جولائی کو بچی کی پیدائش ہوئی تھی، جس کے کے اگلے دن  ہی بچی کی طبیعت خراب ہوگئی،  اسے سانس لینے میں مشکل درپیش آ رہی تھی۔</p><p class=''>نشریاتی ادارے  ڈبلیو ایچ او ٹی وی نے خبر دی تھی کہ ماریانہ نامی بچی کی طبیعت خراب ہونے کے بعد اسے دی موین کے بلینک چلڈرن ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے  بچی میں ہرپس سمپلیکس وائرس  (ایچ ایس وی) ون کی تصدیق کی۔</p><h6 id="toc_0">یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057255' >غریب کے بچے زیادہ بیمار کیوں ہوتے ہیں؟</a></h6>
<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/07/5973526017366.jpg'  alt='&mdash;فوٹو: فیس بک' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو: فیس بک</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>یہ وائرس ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے، خصوصی طور پر بڑی عمر کے افراد سے چھوٹے بچوں میں تیزی سے منتقل ہوتا ہے، اس وائرس کا سب سے پہلے ہونٹوں پر اثر ہوتا ہے، جہاں زخم ہوجاتے ہیں۔</p><p class=''>بچے میں وائرس منتقل ہوتے ہی پہلے پہل بچوں کو بخار ہوتا ہے، مگر ہر ایک بچے کی حالت مختلف ہوتی ہے، کوئی بچہ سانس لینے کی تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے، تو کسی کو خارش اور زخم ہونے لگتے ہیں۔</p><p class=''>ماریانہ کو ممکنہ طور پر ہاتھ پر بوسہ دیا گیا تھا، جس کے بعد بچی نے اپنے ہی ہاتھ کو اپنے منہ میں ڈالا، جس پر وائرس ان میں منتقل ہوگیا، اور اگلے 2 گھنٹے میں ہی اس کی طبیعت خراب ہوگئی، اسے سانس لینے میں مشکلات درپیش آ رہی تھی۔</p><h6 id="toc_1">مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1050425' >پیدائش سے قبل بچے کی جنس کی پیشگوئی ممکن</a></h6>
<p class=''>ہسپتال میں ماریانہ کے والدین کا ٹیسٹ بھی کیا گیا، جن کے نتائج منفی آئے، بچی کی طبیعت خراب ہوجانے کے بعد اسے انتہائی نگہداشت والے کمرے (آئی سی یو) میں منتقل کردیا گیا۔</p><p class=''>جوں جوں دن گزرے گئے بچی کی طبیعت میں بہتری کے بجائے مزید خرابی پیدا ہوتی گئی، اور رفتہ رفتہ بچی کی کڈنی سمیت اندورونی اعضاء  نے کام کرنا چھوڑ دیا، اور بلآخر 18 جولائی کو ماریانہ چل بسیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/07/5973525fd1bca.jpg'  alt='&mdash;فوٹو: فیس بک' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو: فیس بک</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>ماریانہ کے چل بسنے کے بعد ان کی والدہ نے فیس بک پر پوسٹ کرنے سمیت ان کی یاد میں آن لائن ویب پورٹل بھی تیار کیا، جس میں آن لائن تعزیت کرنے کی سہولت بھی دی گئی۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/nicole.sifrit/posts/491958194469860?pnref=story" data-width="650"></div></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><h6 id="toc_2">یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1050778' >پہلی بار&#39;تین افراد&#39; کے بچے کی پیدائش</a></h6>
<p class=''>ویب پورٹل میں بتایا گیا کہ <a href='http://www.hamiltonsfuneralhome.com/services/services_detail.aspx?rid=25643#.WXE_1fCC0Gs.facebook' ><strong>ماریانہ کی آخری رسومات</strong></a> 24 جولائی کو  دو پہر 2 بجے آئیووا سٹی میں ادا کی جائیں گی۔</p><p class=''>ماریانہ کی ماں نے اپنے فیس صفحے پر دیگر والدین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے نوزائدہ بچوں کو بوسہ نہ دیں، اور نہ ہی کسی کو ان کے قریب آنے دیں،ا ور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو پہلے ان کے ہاتھ دھوئیں۔</p><p class=''>بچی کی ہلاکت کے بعد والدین نے ان کی یاد میں اپنے فیس بک پروفائل پر بھی ’پرنسس ماریانہ‘ کے ربن کی تصویر لگائی، جس کے بعد سیکڑوں لوگوں نے ان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے اپنے پروفائل پر بھی وہی تصویر لگائی۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/07/597352601a215.jpg'  alt='&mdash;فوٹو: فیس بک' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو: فیس بک</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p>]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1061707</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Jul 2017 18:35:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/07/5973525fd78a7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/07/5973525fd78a7.jpg?0.5943215002955382"/>
        <media:title>—فوٹو: فیس بک</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
