<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 13:02:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 13:02:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’وزیر اعلیٰ سندھ پولیس کو بچائیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1061747/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: آئی جی سے پولیس افسران کے تبادلوں کا اختیار واپس&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_1"&gt;مزید پڑھیں: سندھ حکومت، آئی جی سندھ کے درمیان جنگ میں شدت&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_2"&gt;یہ بھی پڑھیں:  &amp;#39;کسی بھی افسر کو بدلنا سندھ حکومت کااستحقاق&amp;#39;&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;انسپکٹر جنرل  (آئی جی) پولیس سندھ اللہ ڈنو (اے ڈی) خواجہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کو خط لکھ کر کہا گیا ہے کہ وہ محکمے میں ہونے والے حالیہ تبادلوں و تقرریوں پر مداخلت کرکے پولیس کے نظام کو بچائیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈان کو موصول ہونے والی آئی جی سندھ کی جانب سے وزیراعلیٰ کو لکھے گئے خط کی کاپی میں اے ڈی خواجہ نے مراد علی شاہ سے حال ہی میں 5 ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جیز) کی تقرریوں اور تبادلوں کا ذکر کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اے ڈی خواجہ کی جانب سے خط میں وزیر اعلیٰ سندھ کو گزارش کرتے ہوئے لکھا گیا کہ اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلے سے نہ صرف آئی جی آفیس متاثر ہوا، بلکہ اس سے پولیس سسٹم بھی بیٹھ گیا۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060455/' &gt;آئی جی سے پولیس افسران کے تبادلوں کا اختیار واپس&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ حال ہی میں کراچی پولیس سربراہ سمیت 4 آئی جیز کی تقرریاں و تبادلے کیے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئی جی سندھ نے ان تقرریوں اور تبادلوں کو سندھ اپیکس کمیٹی کے آخری اجلاس میں طے پانے والے فیصلوں کی خلاف ورزی قرار دیا جس میں طے کیا گیا تھا کہ ماتحت افسروں پر مکمل کمانڈ اور اختیار کا حق پولیس سربراہ کے پاس ہونا چاہئیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اے ڈی خواجہ کے مطابق یہاں تک 1861 پولیس ایکٹ کے تحت بھی ماتحت افسروں پر ان کا اختیار ہے، مگر حالیہ تقرریاں و تبادلے کیے جانے پر ان سے مشورہ تک نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اے ڈی خواجہ کے مطابق حالیہ آرڈرز وزارت داخلہ، محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے، جن کے ذریعے ماتحت افسران پر آئی جی کے کنٹرول کو کم کردیا گیا، اور انہیں کھلی چھوٹ دے دی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_1"&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058460' &gt;سندھ حکومت، آئی جی سندھ کے درمیان جنگ میں شدت&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;خط میں لکھا گیا کہ سی پی او کے تحت خدمات سر انجام دینے والے متعدد افسران کو وزارت داخلہ کی جانب سے بلایا گیا، اور ان پر غیر ضروری دباؤ ڈالا گیا، یہ عمل ماتحت اداروں پر کمانڈ اینڈ کنٹرول کا خاتمہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خط کے مطابق تقرریوں و تبادلوں کے وقت سینیئر افسران کا فرق کیے بغیر ان کا تقرر کیا گیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہم عہدوں پر تعینات افسران کو سینٹرل پولیس آفیس (سی پی او) میں تعینات کیا گیا،جن میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آپریشن اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل فنانس شامل ہیں، ان تمام افسران کا تعلق آئی جی پی سے ہے، جن کا بلاجواز تبادلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے خط میں مزید لکھا کہ اہم کیسز سے جڑے افسران کو مناسب مدت پوری کیے بغیر ہٹایا گیا، جب کہ ادارے کو ان کی اشد ضرورت تھی۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_2"&gt;یہ بھی پڑھیں:  &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1049025' &gt;&amp;#39;کسی بھی افسر کو بدلنا سندھ حکومت کااستحقاق&amp;#39;&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;آئی جی سندھ نے خط میں دعویٰ کیا کہ ان کے دفتر کی جانب سے بعض افسران کے خلاف انضباطی کارروائیوں کی سفارشات کو بھی مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے خط میں خبردار کیا کہ ایسے عمل سے صوبے میں امن و امان اور قانونی کی حکمرانی کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔ &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">یہ بھی پڑھیں: آئی جی سے پولیس افسران کے تبادلوں کا اختیار واپس</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_1">مزید پڑھیں: سندھ حکومت، آئی جی سندھ کے درمیان جنگ میں شدت</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_2">یہ بھی پڑھیں:  &#39;کسی بھی افسر کو بدلنا سندھ حکومت کااستحقاق&#39;</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>انسپکٹر جنرل  (آئی جی) پولیس سندھ اللہ ڈنو (اے ڈی) خواجہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کو خط لکھ کر کہا گیا ہے کہ وہ محکمے میں ہونے والے حالیہ تبادلوں و تقرریوں پر مداخلت کرکے پولیس کے نظام کو بچائیں۔</p><p class=''>ڈان کو موصول ہونے والی آئی جی سندھ کی جانب سے وزیراعلیٰ کو لکھے گئے خط کی کاپی میں اے ڈی خواجہ نے مراد علی شاہ سے حال ہی میں 5 ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جیز) کی تقرریوں اور تبادلوں کا ذکر کیا۔</p><p class=''>اے ڈی خواجہ کی جانب سے خط میں وزیر اعلیٰ سندھ کو گزارش کرتے ہوئے لکھا گیا کہ اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلے سے نہ صرف آئی جی آفیس متاثر ہوا، بلکہ اس سے پولیس سسٹم بھی بیٹھ گیا۔</p><h6 id="toc_0">یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060455/' >آئی جی سے پولیس افسران کے تبادلوں کا اختیار واپس</a></h6>
<p class=''>خیال رہے کہ حال ہی میں کراچی پولیس سربراہ سمیت 4 آئی جیز کی تقرریاں و تبادلے کیے گئے۔</p><p class=''>آئی جی سندھ نے ان تقرریوں اور تبادلوں کو سندھ اپیکس کمیٹی کے آخری اجلاس میں طے پانے والے فیصلوں کی خلاف ورزی قرار دیا جس میں طے کیا گیا تھا کہ ماتحت افسروں پر مکمل کمانڈ اور اختیار کا حق پولیس سربراہ کے پاس ہونا چاہئیے۔</p><p class=''>اے ڈی خواجہ کے مطابق یہاں تک 1861 پولیس ایکٹ کے تحت بھی ماتحت افسروں پر ان کا اختیار ہے، مگر حالیہ تقرریاں و تبادلے کیے جانے پر ان سے مشورہ تک نہیں کیا گیا۔</p><p class=''>اے ڈی خواجہ کے مطابق حالیہ آرڈرز وزارت داخلہ، محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے، جن کے ذریعے ماتحت افسران پر آئی جی کے کنٹرول کو کم کردیا گیا، اور انہیں کھلی چھوٹ دے دی گئی۔</p><h6 id="toc_1">مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058460' >سندھ حکومت، آئی جی سندھ کے درمیان جنگ میں شدت</a></h6>
<p class=''>خط میں لکھا گیا کہ سی پی او کے تحت خدمات سر انجام دینے والے متعدد افسران کو وزارت داخلہ کی جانب سے بلایا گیا، اور ان پر غیر ضروری دباؤ ڈالا گیا، یہ عمل ماتحت اداروں پر کمانڈ اینڈ کنٹرول کا خاتمہ ہے۔</p><p class=''>خط کے مطابق تقرریوں و تبادلوں کے وقت سینیئر افسران کا فرق کیے بغیر ان کا تقرر کیا گیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہم عہدوں پر تعینات افسران کو سینٹرل پولیس آفیس (سی پی او) میں تعینات کیا گیا،جن میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آپریشن اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل فنانس شامل ہیں، ان تمام افسران کا تعلق آئی جی پی سے ہے، جن کا بلاجواز تبادلہ کیا گیا۔</p><p class=''>انہوں نے خط میں مزید لکھا کہ اہم کیسز سے جڑے افسران کو مناسب مدت پوری کیے بغیر ہٹایا گیا، جب کہ ادارے کو ان کی اشد ضرورت تھی۔</p><h6 id="toc_2">یہ بھی پڑھیں:  <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1049025' >&#39;کسی بھی افسر کو بدلنا سندھ حکومت کااستحقاق&#39;</a></h6>
<p class=''>آئی جی سندھ نے خط میں دعویٰ کیا کہ ان کے دفتر کی جانب سے بعض افسران کے خلاف انضباطی کارروائیوں کی سفارشات کو بھی مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئیے۔</p><p class=''>انہوں نے خط میں خبردار کیا کہ ایسے عمل سے صوبے میں امن و امان اور قانونی کی حکمرانی کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔ </p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1061747</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Jul 2017 19:54:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/07/5974b70facca4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/07/5974b70facca4.jpg?0.7016126417927608"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: حنیف سموں</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
