<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 10:50:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 10:50:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تحائف کی مد میں 102 ارب روپے کی منی لانڈرنگ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1061905/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: ایک اہم پیش رفت کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 2 ہزار 7 سو 85 پاکستانیوں کو نوٹس جاری کردیے، جنہوں نے گذشتہ مالی سال کے دوران تحائف کی مد میں مبینہ طور پر 102 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایف بی آر کے ایک افسر نے ڈان کو بتایا کہ ان افراد کو اپنی آمد کے ذرائع بنانے کے لیے کہا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ موجوہ قانون کے تحت تحائف ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں اور بہت سے ایسے افراد جو مالی طور پر مستحکم ہیں، قومی ریونیو میں حصہ ڈالے بغیر ہی اپنی آمدنی، مال اور اثاثوں کی منتقلی کے لیے اس استثنیٰ کو محفوظ طریقہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سلسلے میں جب حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈائریکٹر جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن شاد محمود سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھاری تحائف وصول کرنے والوں کو نوٹسز جاری ہونے کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کے انکم ٹیکس ریٹرنز ان کے ذرائع آمدن کی توثیق نہیں کرتے، ’ہم ان نوٹسز پر عمل درآمد کروانے کے لیے ریجنل ٹیکس افسران (آر ٹی او) سے قریبی تعاون کررہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آر ٹی اوز مذکورہ کیسز کی اسکروٹنی کریں گے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہ تحائف جائز ذرائع سے حاصل کیے گئے یا نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان مقدمات میں تحائف کی مد میں منی لانڈرنگ شامل ہے جو گذشتہ سال ان افراد کی جانب سے پیش کیے گئے ٹیکس ریٹرنز گوشواروں کی جانچ سے مطابقت نہیں رکھتے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بیشتر ریٹرنز میں آمدنی ظاہر نہیں کی گئی لیکن آمدنی پر ٹیکس بہت ہی کم ادا کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان افراد کی مالی دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے مجموعی اثاثے کروڑوں روہے ہیں اور بعض کیسز میں اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حکام کے مطابق اِن لینڈ ریونیو کے انسداد منی لانڈرنگ کے انٹیلی جنس اور انویسٹی گیشن سیل نے ایسے افراد کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ شروع کردیا، جنہوں نے اپنے اثاثوں کو تحائف کی مد میں ظاہر کیا، مذکورہ سیل کی جانب سے جمع کیے گئے اعداو شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ 2 ہزار 7 سو 85 امیر افراد نے اپنی 2016 کے ٹیکس کے حوالے سے مالی دستاویزات میں 102 ارب روپے کے تحائف ظاہر کیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان میں سے 3 کیسز میں تحائف کی مالیت 1 ارب سے بھی زائد ہے جبکہ سب سے زیادہ تحائف کی مالیت 1 ارب 70 کروڑ روپے ہے، کم سے کم 8 افراد نے 50 کروڑ روپے سے 1 ارب روپے مالیت کے درمیان تحائف ظاہر کیے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ رپورٹ 26 جولائی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>اسلام آباد: ایک اہم پیش رفت کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 2 ہزار 7 سو 85 پاکستانیوں کو نوٹس جاری کردیے، جنہوں نے گذشتہ مالی سال کے دوران تحائف کی مد میں مبینہ طور پر 102 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔</p><p class=''>ایف بی آر کے ایک افسر نے ڈان کو بتایا کہ ان افراد کو اپنی آمد کے ذرائع بنانے کے لیے کہا گیا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ موجوہ قانون کے تحت تحائف ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں اور بہت سے ایسے افراد جو مالی طور پر مستحکم ہیں، قومی ریونیو میں حصہ ڈالے بغیر ہی اپنی آمدنی، مال اور اثاثوں کی منتقلی کے لیے اس استثنیٰ کو محفوظ طریقہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔</p><p class=''>اس سلسلے میں جب حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈائریکٹر جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن شاد محمود سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھاری تحائف وصول کرنے والوں کو نوٹسز جاری ہونے کی تصدیق کی۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کے انکم ٹیکس ریٹرنز ان کے ذرائع آمدن کی توثیق نہیں کرتے، ’ہم ان نوٹسز پر عمل درآمد کروانے کے لیے ریجنل ٹیکس افسران (آر ٹی او) سے قریبی تعاون کررہے ہیں‘۔</p><p class=''>آر ٹی اوز مذکورہ کیسز کی اسکروٹنی کریں گے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہ تحائف جائز ذرائع سے حاصل کیے گئے یا نہیں۔</p><p class=''>ان مقدمات میں تحائف کی مد میں منی لانڈرنگ شامل ہے جو گذشتہ سال ان افراد کی جانب سے پیش کیے گئے ٹیکس ریٹرنز گوشواروں کی جانچ سے مطابقت نہیں رکھتے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بیشتر ریٹرنز میں آمدنی ظاہر نہیں کی گئی لیکن آمدنی پر ٹیکس بہت ہی کم ادا کیا گیا تھا۔</p><p class=''>ان افراد کی مالی دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے مجموعی اثاثے کروڑوں روہے ہیں اور بعض کیسز میں اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔</p><p class=''>حکام کے مطابق اِن لینڈ ریونیو کے انسداد منی لانڈرنگ کے انٹیلی جنس اور انویسٹی گیشن سیل نے ایسے افراد کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ شروع کردیا، جنہوں نے اپنے اثاثوں کو تحائف کی مد میں ظاہر کیا، مذکورہ سیل کی جانب سے جمع کیے گئے اعداو شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ 2 ہزار 7 سو 85 امیر افراد نے اپنی 2016 کے ٹیکس کے حوالے سے مالی دستاویزات میں 102 ارب روپے کے تحائف ظاہر کیے۔</p><p class=''>ان میں سے 3 کیسز میں تحائف کی مالیت 1 ارب سے بھی زائد ہے جبکہ سب سے زیادہ تحائف کی مالیت 1 ارب 70 کروڑ روپے ہے، کم سے کم 8 افراد نے 50 کروڑ روپے سے 1 ارب روپے مالیت کے درمیان تحائف ظاہر کیے۔</p><hr>
<p class=''><strong>یہ رپورٹ 26 جولائی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1061905</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Jul 2017 12:09:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/07/597833ec9616a.jpg?r=1938104862" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/07/597833ec9616a.jpg?r=136859576"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
