<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 16:11:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 16:11:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دوہری شہریت: سابق آڈیٹر جنرل کو ایک سال قید کی سزا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1062190/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی مقامی عدالت نے سابق آڈیٹر جنرل پاکستان اختر بلند رانا کو دوہری شریت اور ایک سے زائد پاسپورٹ رکھنے پر 6،6 ماہ قید کی سزا سنادی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق آڈیٹر جنرل پر پاسپورٹ ایکٹ 1974 کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا تھا جبکہ سینیئر سول جج اسلام آباد غربی محمد شبیر بھٹی نے اختر بلند رانا کی دوہری شہریت اور ایک سے زائد پاسپورٹ رکھنے کے کیس کا فیصلہ سنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق آڈیٹر جنرل پاکستان اختر بلند رانا پر الزام تھا کہ انہوں نے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرتے وقت اپنی کینیڈا کی شہریت کو کاغذات میں ظاہر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اختر بلند رانا کے اس کیس کے تفتیشی افسر محمد افضل خان نے کورٹ میں ان کے خلاف چلان پیش کیا جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل کلیم اللہ تارڑ نے اس کیس کی پیروی کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملزم پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے ایک نہیں بلکہ 5 پاکستانی پاسپورٹ حاصل کیے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ صدر مملکت ممنون حُسین نے مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں آئین کے آرٹیکل 168 کی شق 5 اور 209 کی شق 6 کے تحت اختر بلند رانا کو &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1021550"&gt;&lt;strong&gt;آڈیٹر جنرل کے عہدے سے ہٹا دیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اختر بلند رانا کو اگست 2011 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے صدارتی حکم کے ذریعے آڈیٹر جنرل آف پاکستان مقرر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اس عہدے پر فائز ہونے سے قبل انسانی حقوق کمیشن کے عبوری سیکریٹری اور نائب آڈیٹر جنرل کے عہدے پر بھی فرائض انجام دیئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت کی ہدایت پر قائم کی جانے والی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کے انکشاف کے بعد اختر بلند رانا کی آڈیٹر جنرل کے عہدے پر تقرری متنازع بن گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی مقامی عدالت نے سابق آڈیٹر جنرل پاکستان اختر بلند رانا کو دوہری شریت اور ایک سے زائد پاسپورٹ رکھنے پر 6،6 ماہ قید کی سزا سنادی۔</p>

<p>سابق آڈیٹر جنرل پر پاسپورٹ ایکٹ 1974 کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا تھا جبکہ سینیئر سول جج اسلام آباد غربی محمد شبیر بھٹی نے اختر بلند رانا کی دوہری شہریت اور ایک سے زائد پاسپورٹ رکھنے کے کیس کا فیصلہ سنایا۔</p>

<p>سابق آڈیٹر جنرل پاکستان اختر بلند رانا پر الزام تھا کہ انہوں نے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرتے وقت اپنی کینیڈا کی شہریت کو کاغذات میں ظاہر نہیں کیا۔</p>

<p>اختر بلند رانا کے اس کیس کے تفتیشی افسر محمد افضل خان نے کورٹ میں ان کے خلاف چلان پیش کیا جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل کلیم اللہ تارڑ نے اس کیس کی پیروی کی۔</p>

<p>ملزم پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے ایک نہیں بلکہ 5 پاکستانی پاسپورٹ حاصل کیے ہوئے تھے۔</p>

<p>خیال رہے کہ صدر مملکت ممنون حُسین نے مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں آئین کے آرٹیکل 168 کی شق 5 اور 209 کی شق 6 کے تحت اختر بلند رانا کو <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1021550"><strong>آڈیٹر جنرل کے عہدے سے ہٹا دیا</strong></a> تھا۔</p>

<p>اختر بلند رانا کو اگست 2011 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے صدارتی حکم کے ذریعے آڈیٹر جنرل آف پاکستان مقرر کیا تھا۔</p>

<p>انہوں نے اس عہدے پر فائز ہونے سے قبل انسانی حقوق کمیشن کے عبوری سیکریٹری اور نائب آڈیٹر جنرل کے عہدے پر بھی فرائض انجام دیئے تھے۔</p>

<p>حکومت کی ہدایت پر قائم کی جانے والی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کے انکشاف کے بعد اختر بلند رانا کی آڈیٹر جنرل کے عہدے پر تقرری متنازع بن گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1062190</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Jun 2018 17:13:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/07/597f1eec1c15c.jpg?r=1280954689" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/07/597f1eec1c15c.jpg?r=812285820"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
