<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:08:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:08:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: ریپ کا شکار 10 سالہ بچی کے ہاں بچے کی پیدائش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1063205/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: نئی دہلی کے قریب خاتون ریپ کے بعد قتل&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_1"&gt;مزید پڑھیں: چلتی کار میں 22 سالہ خاتون کا گینگ ریپ&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;بھارتی ریاست پنجاب اور ہریانہ کے دارالحکومت چندی گڑہ میں ریپ کا شکار ہونے والی 10 سالہ بچی کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریپ کا شکار بچی نے 17 اگست کی صبح 9 بج کر 22 منٹ پر چندی گڑہ کے گورنمینٹ میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال میں ایک ڈھائی کلو وزنی بچی کو جنم دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ ریپ کا شکار بننے والی بچی کا تعلق ریاست ہریانہ کے ضلع روہتک سے ہے، اور اسے اس کے سوتیلے باپ نے متعدد بار ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کم عمرہونے کی وجہ سے بچی کو حمل سے متعلق کوئی خبر نہیں تھی، مگر جب انہیں پیٹ میں درد کی شکایات ہونے لگیں تو انہیں ہسپتال لے جایا گیا، جہاں انہیں 30 ہفتوں کے حمل کا انکشاف ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057817' &gt;نئی دہلی کے قریب خاتون ریپ کے بعد قتل&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;بچی کی والدہ نے اسقاط حمل کے لیے بھارتی سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا، تاہم عدالت نے گزشتہ ماہ اسقاط حمل کی درخواست مسترد کردی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عدالت نے چندی گڑہ کے پوسٹ گریجوئیٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ رسرچ (پی جی ایم ای آر) کی سفارش کے بعد بچی کو اسقاط حمل کی اجازت دینے سے انکار کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسقاط حمل کرنے سے بچی اور بچے کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عدالت کی جانب سے اسقاط حمل کی اجازت نہ دیے جانے کے بعد سماجی تنظیموں نے احتجاج بھی کیا۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_1"&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057802' &gt;چلتی کار میں 22 سالہ خاتون کا گینگ ریپ&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;بھارتی اخبار &lt;a href='http://www.hindustantimes.com/punjab/chandigarh-10-yr-old-rape-victim-delivers-baby-girl-was-told-surgery-removed-stone/story-GnjJK7znbcVoWlimvDVfhK.html' &gt;&lt;strong&gt;ہندوستان ٹائمز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ریپ کا شکار بچی نے 17 اگست کو ایک صحت مند مگر کم وزنی بچی کو جنم دیا، لیکن اسے یہ پتہ نہیں کہ اس نے بچے کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اخبار کے مطابق بچی کو بتایا گیا کہ ان کے پیٹ میں پتھر تھا، جسے آپریشن کے بعد نکال دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رپورٹ میں ہسپتال انتظامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریپ کا شکار بچی کے ہاں وقت سے پہلے بچی کی پیدائش ہوئی، اس وجہ سے اس کا وزن کم ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نوزائدہ بچی کو بچوں کے انتہائی نگہداشت والے وارڈ (این آئی سی یو) منتقل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">یہ بھی پڑھیں: نئی دہلی کے قریب خاتون ریپ کے بعد قتل</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_1">مزید پڑھیں: چلتی کار میں 22 سالہ خاتون کا گینگ ریپ</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>بھارتی ریاست پنجاب اور ہریانہ کے دارالحکومت چندی گڑہ میں ریپ کا شکار ہونے والی 10 سالہ بچی کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔</p><p class=''>ریپ کا شکار بچی نے 17 اگست کی صبح 9 بج کر 22 منٹ پر چندی گڑہ کے گورنمینٹ میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال میں ایک ڈھائی کلو وزنی بچی کو جنم دیا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ ریپ کا شکار بننے والی بچی کا تعلق ریاست ہریانہ کے ضلع روہتک سے ہے، اور اسے اس کے سوتیلے باپ نے متعدد بار ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔</p><p class=''>کم عمرہونے کی وجہ سے بچی کو حمل سے متعلق کوئی خبر نہیں تھی، مگر جب انہیں پیٹ میں درد کی شکایات ہونے لگیں تو انہیں ہسپتال لے جایا گیا، جہاں انہیں 30 ہفتوں کے حمل کا انکشاف ہوا۔</p><h6 id="toc_0">یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057817' >نئی دہلی کے قریب خاتون ریپ کے بعد قتل</a></h6>
<p class=''>بچی کی والدہ نے اسقاط حمل کے لیے بھارتی سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا، تاہم عدالت نے گزشتہ ماہ اسقاط حمل کی درخواست مسترد کردی تھی۔</p><p class=''>عدالت نے چندی گڑہ کے پوسٹ گریجوئیٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ رسرچ (پی جی ایم ای آر) کی سفارش کے بعد بچی کو اسقاط حمل کی اجازت دینے سے انکار کیا۔</p><p class=''>میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسقاط حمل کرنے سے بچی اور بچے کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔</p><p class=''>عدالت کی جانب سے اسقاط حمل کی اجازت نہ دیے جانے کے بعد سماجی تنظیموں نے احتجاج بھی کیا۔</p><h6 id="toc_1">مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057802' >چلتی کار میں 22 سالہ خاتون کا گینگ ریپ</a></h6>
<p class=''>بھارتی اخبار <a href='http://www.hindustantimes.com/punjab/chandigarh-10-yr-old-rape-victim-delivers-baby-girl-was-told-surgery-removed-stone/story-GnjJK7znbcVoWlimvDVfhK.html' ><strong>ہندوستان ٹائمز</strong></a> نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ریپ کا شکار بچی نے 17 اگست کو ایک صحت مند مگر کم وزنی بچی کو جنم دیا، لیکن اسے یہ پتہ نہیں کہ اس نے بچے کو جنم دیا ہے۔</p><p class=''>اخبار کے مطابق بچی کو بتایا گیا کہ ان کے پیٹ میں پتھر تھا، جسے آپریشن کے بعد نکال دیا گیا۔</p><p class=''>رپورٹ میں ہسپتال انتظامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریپ کا شکار بچی کے ہاں وقت سے پہلے بچی کی پیدائش ہوئی، اس وجہ سے اس کا وزن کم ہے۔</p><p class=''>نوزائدہ بچی کو بچوں کے انتہائی نگہداشت والے وارڈ (این آئی سی یو) منتقل کردیا گیا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1063205</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Aug 2017 21:21:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/08/5995c14c9084d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/08/5995c14c9084d.jpg?0.7032086324975384"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
