<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:29:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:29:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی، پولیس کی شیلنگ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1063371/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;لاہور ہائیکورٹ ملتان رجسٹری میں توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران ملتان بار کے صدر ایڈووکیٹ شیر زمان کے پیش نہ ہونے پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے خلاف وکلاء نے احاطہ عدالت میں ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے عدالت عالیہ کا دروازہ اکھاڑ دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی اور توہین عدالت کے الزام میں لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بار کے صدر ایڈووکیٹ شیر زمان قریشی کے پیش نہ ہونے پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایڈووکیٹ شیر زمان قریشی کو گرفتار کر کے کل عدالت میں پیش کیا جائے اور ساتھ ہی شیر زمان قریشی اور قیصر کاظمی کے وکالت کے لائسنس معطل کرنے کا حکم بھی دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی بڑی تعداد لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں موجود تھی جنہوں نے عدالتی فیصلے کے بعد احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی جبکہ عدالت عالیہ کے احاطے میں لگا ایک لوہے کا دروازہ اکھاڑ دیا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/08/599a78af470fd.jpg'  alt='پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے وکلاء پر آنسو گیس کے شیلز فائر کیے گئے&amp;mdash; فوٹو: ڈان نیوز' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے وکلاء پر آنسو گیس کے شیلز فائر کیے گئے— فوٹو: ڈان نیوز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی تاہم وہ وکلاء کے احتجاج کو روکنے میں ناکام رہے جس کے بعد پولیس اور رینجرز کی مزید نفری نے موقع پر پہنچ کر وکلاء کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم وکلاء نے احتجاج جاری رکھا اور نعرے بازی کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعدازاں وکلاء کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا اور آنسو گیس فائر کیے جس کے بعد وکلاء اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم پولیس، وکلاء کو عدالت کے ساتھ منسلک مال روڈ کی جانب دھکیلنے میں کامیاب ہوگئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس موقع پر وکلاء نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور ان کی جانب سے فائر کیے گئے آنسو گیس کے شیل واپس پولیس پر پھینکے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وکلاء کے احتجاج اور پولیس کی شیلنگ کے باعث مال روڈ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا جبکہ اس ہنگامہ آرائی کے دوران شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا رہا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعدازاں لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر چوہدری ذوالفقار علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کا پُر امن احتجاج جاری ہے جس کے دوران سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ کل پنجاب بھر میں وکلاء ہڑتال کریں گے اور سیاہ پٹیاں بند کر احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href='https://www.dawn.com/news/1350724' &gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق گذشتہ ماہ 24 جولائی کو ملتان بار کے صدر شیر زمان قریشی نے ملتان بینچ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محمد قاسم خان کے ساتھ مبینہ طور پر بدتمیزی کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/08/599a795fcb643.png'  alt='احتجاج میں شامل وکلاء پولیس پر پتھراؤ کرتے ہوئے &amp;mdash; فوٹو: ڈان نیوز' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;احتجاج میں شامل وکلاء پولیس پر پتھراؤ کرتے ہوئے — فوٹو: ڈان نیوز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے آئین کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملتان رجسٹری میں عدالتی کارروائی روکنے کا حکم دیا تھا تاہم لاہور ہائی کورٹ میں بہاولپور بینچ کا کام جاری رہا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واقعے کے کچھ ہی روز بعد ملتان بینچ میں کام کا دوبارہ آغاز ہوا تو وکلاء نے ہڑتال کا اعلان کردیا اور اس کے ساتھ ہی شیر زمان قریشی اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد یوسف زبیر نے ملتان رجسٹری کو معطل کرنے کے ’غیر قانونی عمل‘ کے خلاف ایک مشترکہ پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پٹیشن آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ملتان بینچ کو کام سے روکنا غیر قانونی اور آئین کے آرٹیکل 194 کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعد ازاں 10 اگست کو وکلاء کے ایک اور گروپ نے بھی لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے ملتان بینچ کو کام سے روکنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>لاہور ہائیکورٹ ملتان رجسٹری میں توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران ملتان بار کے صدر ایڈووکیٹ شیر زمان کے پیش نہ ہونے پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے خلاف وکلاء نے احاطہ عدالت میں ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے عدالت عالیہ کا دروازہ اکھاڑ دیا۔</p><p class=''>چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی اور توہین عدالت کے الزام میں لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بار کے صدر ایڈووکیٹ شیر زمان قریشی کے پیش نہ ہونے پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی ہدایت کی۔</p><p class=''>عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایڈووکیٹ شیر زمان قریشی کو گرفتار کر کے کل عدالت میں پیش کیا جائے اور ساتھ ہی شیر زمان قریشی اور قیصر کاظمی کے وکالت کے لائسنس معطل کرنے کا حکم بھی دیا۔</p><p class=''>مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی بڑی تعداد لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں موجود تھی جنہوں نے عدالتی فیصلے کے بعد احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی جبکہ عدالت عالیہ کے احاطے میں لگا ایک لوہے کا دروازہ اکھاڑ دیا۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/08/599a78af470fd.jpg'  alt='پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے وکلاء پر آنسو گیس کے شیلز فائر کیے گئے&mdash; فوٹو: ڈان نیوز' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے وکلاء پر آنسو گیس کے شیلز فائر کیے گئے— فوٹو: ڈان نیوز</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی تاہم وہ وکلاء کے احتجاج کو روکنے میں ناکام رہے جس کے بعد پولیس اور رینجرز کی مزید نفری نے موقع پر پہنچ کر وکلاء کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم وکلاء نے احتجاج جاری رکھا اور نعرے بازی کی۔</p><p class=''>بعدازاں وکلاء کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا اور آنسو گیس فائر کیے جس کے بعد وکلاء اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم پولیس، وکلاء کو عدالت کے ساتھ منسلک مال روڈ کی جانب دھکیلنے میں کامیاب ہوگئی۔</p><p class=''>اس موقع پر وکلاء نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور ان کی جانب سے فائر کیے گئے آنسو گیس کے شیل واپس پولیس پر پھینکے گئے۔</p><p class=''>وکلاء کے احتجاج اور پولیس کی شیلنگ کے باعث مال روڈ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا جبکہ اس ہنگامہ آرائی کے دوران شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا رہا۔</p><p class=''>بعدازاں لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر چوہدری ذوالفقار علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کا پُر امن احتجاج جاری ہے جس کے دوران سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے۔</p><p class=''>ان کا مزید کہنا تھا کہ کل پنجاب بھر میں وکلاء ہڑتال کریں گے اور سیاہ پٹیاں بند کر احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔</p><p class=''>ڈان اخبار کی <a href='https://www.dawn.com/news/1350724' ><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق گذشتہ ماہ 24 جولائی کو ملتان بار کے صدر شیر زمان قریشی نے ملتان بینچ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محمد قاسم خان کے ساتھ مبینہ طور پر بدتمیزی کی تھی۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/08/599a795fcb643.png'  alt='احتجاج میں شامل وکلاء پولیس پر پتھراؤ کرتے ہوئے &mdash; فوٹو: ڈان نیوز' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">احتجاج میں شامل وکلاء پولیس پر پتھراؤ کرتے ہوئے — فوٹو: ڈان نیوز</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے آئین کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملتان رجسٹری میں عدالتی کارروائی روکنے کا حکم دیا تھا تاہم لاہور ہائی کورٹ میں بہاولپور بینچ کا کام جاری رہا۔</p><p class=''>واقعے کے کچھ ہی روز بعد ملتان بینچ میں کام کا دوبارہ آغاز ہوا تو وکلاء نے ہڑتال کا اعلان کردیا اور اس کے ساتھ ہی شیر زمان قریشی اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد یوسف زبیر نے ملتان رجسٹری کو معطل کرنے کے ’غیر قانونی عمل‘ کے خلاف ایک مشترکہ پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کی۔</p><p class=''>پٹیشن آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ملتان بینچ کو کام سے روکنا غیر قانونی اور آئین کے آرٹیکل 194 کی خلاف ورزی ہے۔</p><p class=''>بعد ازاں 10 اگست کو وکلاء کے ایک اور گروپ نے بھی لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے ملتان بینچ کو کام سے روکنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1063371</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Aug 2017 12:41:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/08/599a7fb73a0ae.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/08/599a7fb73a0ae.jpg"/>
        <media:title>پولیس نے احتجاج کرنے والے وکلاء پر واٹر کینن کا استعمال کررہی ہے — فوٹو: ڈان نیوز</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
