<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 12:06:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 12:06:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آصف زرداری غیر قانونی اثاثہ جات ریفرنس میں بری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1063697/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;راولپنڈی کی احتساب عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری  کو 16 سال بعد غیر قانونی اثاثہ جات ریفرنس کیس میں بری کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آصف علی زرداری پر غیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام تھا جس کا ریفرنس سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور حکومت میں احتساب عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں بریت کی درخواست دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر ایک کے جج خالد محمود رانجھا نے آصف زرداری کی بریت کی درخواست منظور کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نیب نے جو ریفرنس دائر کیا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ آصف زرداری اور اور مرحومہ بے نظیر بھٹو کے خلاف یہ ریفرنس 2001 میں احتساب عدالت میں دائر کیا گیا تھا، جو بعد ازاں اس وقت کے صدر پرویز مشرف کی جانب سے جاری کردہ قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کے تحت 2007 میں بند کردیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1063171' &gt;زرداری کے خلاف آخری کرپشن کیس کی روزانہ سماعت کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دسمبر 2009 میں سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دے دیا اور اس آرڈیننس کے تحت بند کیے جانے والے تمام کیسز کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آصف علی زرداری اس وقت صدر پاکستان کے عہدے پر فائز تھے جس کی وجہ سے انہیں آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) نے پی پی پی کے شریک چیئرمین &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1019953' &gt;&lt;strong&gt;آصف زرداری کے خلاف ریفرنس&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو اپریل 2015 میں دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد سے اس ریفرنس پر کارروائی سست روی کا شکار تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس کیس میں رواں سال کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی کیونکہ آصف علی زرداری کے وکیل اپنی بیماری کی وجہ سے کیس کی پیروی کرنے سے قاصر تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کے بعد آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بھی اپنی حاضری کو یقینی بنایا اور احتساب عدالت نے نیب کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر سابق صدر کے خلاف ریفرنس کی سماعت کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1031655' &gt;آصف زرداری پر قائم مزید ایک ریفرنس کا ریکارڈ غائب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رواں سال کے آغاز میں یہ بات سامنے آئی کی کرپشن ریفرنس کا ایک اہم گواہ پر اسرار طور پر غائب ہوگیا تھا، بعد ازاں بیرسٹر جواد مرزا نامی گواہ کو راولپنڈی احتساب عدالت سے اشتہاری ملزم قرار دے دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/129040' &gt;&lt;strong&gt;آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے 6 مقدمات&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دائر کیے گئے تھے تاہم اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے کے بعد احتساب عدالت میں ان کیسز کے حوالے سے کارروائی ہوئی، جن میں سے 5 کیسز میں انہیں پہلے ہی بری کیا جاچکا تھا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>راولپنڈی کی احتساب عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری  کو 16 سال بعد غیر قانونی اثاثہ جات ریفرنس کیس میں بری کردیا۔</p><p class=''>آصف علی زرداری پر غیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام تھا جس کا ریفرنس سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور حکومت میں احتساب عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔</p><p class=''>سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں بریت کی درخواست دائر کی تھی۔</p><p class=''>راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر ایک کے جج خالد محمود رانجھا نے آصف زرداری کی بریت کی درخواست منظور کی۔</p><p class=''>عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نیب نے جو ریفرنس دائر کیا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔</p><p class=''>واضح رہے کہ آصف زرداری اور اور مرحومہ بے نظیر بھٹو کے خلاف یہ ریفرنس 2001 میں احتساب عدالت میں دائر کیا گیا تھا، جو بعد ازاں اس وقت کے صدر پرویز مشرف کی جانب سے جاری کردہ قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کے تحت 2007 میں بند کردیا گیا۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1063171' >زرداری کے خلاف آخری کرپشن کیس کی روزانہ سماعت کا فیصلہ</a></strong></p><p class=''>دسمبر 2009 میں سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دے دیا اور اس آرڈیننس کے تحت بند کیے جانے والے تمام کیسز کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا۔</p><p class=''>آصف علی زرداری اس وقت صدر پاکستان کے عہدے پر فائز تھے جس کی وجہ سے انہیں آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل تھا۔</p><p class=''>قومی احتساب بیورو (نیب) نے پی پی پی کے شریک چیئرمین <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1019953' ><strong>آصف زرداری کے خلاف ریفرنس</strong></a> کو اپریل 2015 میں دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد سے اس ریفرنس پر کارروائی سست روی کا شکار تھی۔</p><p class=''>اس کیس میں رواں سال کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی کیونکہ آصف علی زرداری کے وکیل اپنی بیماری کی وجہ سے کیس کی پیروی کرنے سے قاصر تھے۔</p><p class=''>پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کے بعد آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بھی اپنی حاضری کو یقینی بنایا اور احتساب عدالت نے نیب کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر سابق صدر کے خلاف ریفرنس کی سماعت کا فیصلہ کیا۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1031655' >آصف زرداری پر قائم مزید ایک ریفرنس کا ریکارڈ غائب</a></strong></p><p class=''>رواں سال کے آغاز میں یہ بات سامنے آئی کی کرپشن ریفرنس کا ایک اہم گواہ پر اسرار طور پر غائب ہوگیا تھا، بعد ازاں بیرسٹر جواد مرزا نامی گواہ کو راولپنڈی احتساب عدالت سے اشتہاری ملزم قرار دے دیا گیا تھا۔</p><p class=''>یاد رہے کہ <a href='https://www.dawnnews.tv/news/129040' ><strong>آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے 6 مقدمات</strong></a> دائر کیے گئے تھے تاہم اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے کے بعد احتساب عدالت میں ان کیسز کے حوالے سے کارروائی ہوئی، جن میں سے 5 کیسز میں انہیں پہلے ہی بری کیا جاچکا تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1063697</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Aug 2017 18:39:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر نصیرویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/08/59a179bcbad5d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/08/59a179bcbad5d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
