<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:15:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:15:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آنگ سان سوچی روہنگیا مسلمانوں پر جبروتشدد کی مذمت کریں: ملالہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1064118/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستانی نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور جبراً نقل مکانی کی مذمت کرتے ہوئے جبروتشدد کے اس سلسلے کو ختم کیے جانے کا مطالبہ کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ میانمار کے شمال مغربی علاقے میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف کارروائیوں میں 4 سو کے قریب روہنگیا مسلمانوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سماجی روابط کی مشہور ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ وہ ’اب بھی منتظر ہیں‘ کہ نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی ساتھی اور جمہوریت نواز لیڈر آنگ سان سوچی روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ’شرمناک برتاؤ‘ کی مذمت کریں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/Malala/status/904449772844711938"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ’دنیا اور روہنگیا مسلمان اس بات کے منتظر ہیں کہ آنگ سان سو چی ان مظالم کی مذمت کریں‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1064088/' &gt;روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام، جبراً نقل مکانی پر پاکستان کو تشویش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ملالہ نے اپنی ٹوئٹ میں سوال کیا کہ ’اگر میانمار جہاں روہنگیا مسلمان کئی نسلوں سے آباد ہیں، ان کا گھر نہیں تو ان کا گھر کہاں ہے؟‘&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کو بنگلادیش کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جان بچا کر بھاگ نکلنے والے روہنگیا افراد کو پناہ دینے پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب قومی رہنما  آنگ سان سو چی کے لیے میانمار کے 11 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا تشدد ایک بڑا چیلنج ہے جس کی مذمت نہ کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جمہوریت کے لیے اپنی طویل ترین کوششوں کی وجہ سے دنیا میں پہچانی جانے والی سو چی نے 1991 میں نوبیل امن انعام حاصل کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1064081/' &gt;میانمار: ایک ہفتے میں ہلاک روہنگیا افراد کی تعداد 400 سے زائد&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق میانمار کی ایک ریاست میں فوجی بیس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد شروع ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں 38 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس حوالے سے میانمار کی فوج کا موقف ہے کہ وہ &amp;#39;دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں&amp;#39; کے خلاف کارروائی کررہی ہے کیونکہ عوام کا تحفظ ان کا فرض ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں میانمار کے مسلم اکثریتی علاقے ارکان کے قریب کچھ چوکیوں پر حملے کیے گئے تھے جس میں اہلکاروں سمیت 90 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، فوج اس مسلح تحریک کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کو حل قرار دے رہی ہے جبکہ کئی حلقے اس مسلح تحریک کو متواتر حق تلفی اور ناانصافی کا رد عمل قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>پاکستانی نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور جبراً نقل مکانی کی مذمت کرتے ہوئے جبروتشدد کے اس سلسلے کو ختم کیے جانے کا مطالبہ کردیا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ میانمار کے شمال مغربی علاقے میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف کارروائیوں میں 4 سو کے قریب روہنگیا مسلمانوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔</p><p class=''>سماجی روابط کی مشہور ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ وہ ’اب بھی منتظر ہیں‘ کہ نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی ساتھی اور جمہوریت نواز لیڈر آنگ سان سوچی روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ’شرمناک برتاؤ‘ کی مذمت کریں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/Malala/status/904449772844711938"></a>
            </blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ’دنیا اور روہنگیا مسلمان اس بات کے منتظر ہیں کہ آنگ سان سو چی ان مظالم کی مذمت کریں‘۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1064088/' >روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام، جبراً نقل مکانی پر پاکستان کو تشویش</a></strong></p><p class=''>ملالہ نے اپنی ٹوئٹ میں سوال کیا کہ ’اگر میانمار جہاں روہنگیا مسلمان کئی نسلوں سے آباد ہیں، ان کا گھر نہیں تو ان کا گھر کہاں ہے؟‘</p><p class=''>انہوں نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کو بنگلادیش کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جان بچا کر بھاگ نکلنے والے روہنگیا افراد کو پناہ دینے پر بھی زور دیا۔</p><p class=''>دوسری جانب قومی رہنما  آنگ سان سو چی کے لیے میانمار کے 11 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا تشدد ایک بڑا چیلنج ہے جس کی مذمت نہ کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔</p><p class=''>جمہوریت کے لیے اپنی طویل ترین کوششوں کی وجہ سے دنیا میں پہچانی جانے والی سو چی نے 1991 میں نوبیل امن انعام حاصل کیا تھا۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1064081/' >میانمار: ایک ہفتے میں ہلاک روہنگیا افراد کی تعداد 400 سے زائد</a></strong></p><p class=''>اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق میانمار کی ایک ریاست میں فوجی بیس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد شروع ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں 38 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرچکے ہیں۔</p><p class=''>اس حوالے سے میانمار کی فوج کا موقف ہے کہ وہ &#39;دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں&#39; کے خلاف کارروائی کررہی ہے کیونکہ عوام کا تحفظ ان کا فرض ہے۔</p><p class=''>خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں میانمار کے مسلم اکثریتی علاقے ارکان کے قریب کچھ چوکیوں پر حملے کیے گئے تھے جس میں اہلکاروں سمیت 90 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، فوج اس مسلح تحریک کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کو حل قرار دے رہی ہے جبکہ کئی حلقے اس مسلح تحریک کو متواتر حق تلفی اور ناانصافی کا رد عمل قرار دے رہے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1064118</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Sep 2017 13:43:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/09/59ad044ab93d5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/09/59ad044ab93d5.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
