<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:16:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:16:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران طاہر کا پاکستانی قونصل خانے پر ناروا سلوک کا الزام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1064195/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;آزادی کپ کیلئے پاکستان آنے والے جنوبی افریقی کھلاڑی عمران طاہر نے الزام عائد کیا ہے کہ برمنگھم میں پاکستانی قونصلیٹ میں انہیں ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں ویزا کیلئے کئی گھنٹے انتظار کروایا گیا لیکن پاکستانی ہائی کمیشن نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ورلڈ الیون کے پاکستان آنے سے قبل ہی تنازعات کا آغاز ہو گیا ہے اور ٹیم کے ساتھ آنے والے پاکستان نژاد جنوبی افریقی اسپنر نے برطانیہ میں پاکستانی قونصل خانے پر خراب رویے کا الزام عائد کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عمران طاہر نے اپنے نئے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پاکستانی ہائی کمیشن کے نارو سلوک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ویزے کے حصول کے لیے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستانی ویزے کے حصول کے لیے برمنگھم میں پاکستانی قونصلیٹ گئے تھے لیکن ہائی کمیشن میں پانچ گھنٹے طویل انتظار کروانے کے بعد کہا گیا دفتری اوقات ختم ہوگئے ہیں اور قونصل خانے کو بند کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ImranTahirSA/status/904830395111399425"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ اس موقع پر پاکستانی ہائی کمیشن ابن عباس نے مداخلت کی جس کے بعد ہمیں ویزے جاری کیے گئے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستانی نژاد جنوبی افریقی کھلاڑی اور ورلڈ الیون کا حصہ ہونے کے باوجود مجھ سے اس طرح کا برتاؤ کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری طرف پاکستانی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ عمران طاہر کے پاس کاغذات پورے نہیں تھے جس کے باعث تاخیر ہوئی اور جنوبی افریقی اسپنر برطانیہ میں ہوتے ہوئے جنوبی افریقی پاسپورٹ سے اپلائی کررہے تھے اس لیے ویزا کے اجرا میں اضافی وقت لگا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/betterpakistan/status/905096924709171204"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ادھر وزیر داخلہ احسن اقبال نے ناروا سلوک پر عمران طاہر سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں گے اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>آزادی کپ کیلئے پاکستان آنے والے جنوبی افریقی کھلاڑی عمران طاہر نے الزام عائد کیا ہے کہ برمنگھم میں پاکستانی قونصلیٹ میں انہیں ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں ویزا کیلئے کئی گھنٹے انتظار کروایا گیا لیکن پاکستانی ہائی کمیشن نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔</p><p class=''>ورلڈ الیون کے پاکستان آنے سے قبل ہی تنازعات کا آغاز ہو گیا ہے اور ٹیم کے ساتھ آنے والے پاکستان نژاد جنوبی افریقی اسپنر نے برطانیہ میں پاکستانی قونصل خانے پر خراب رویے کا الزام عائد کیا ہے۔</p><p class=''>عمران طاہر نے اپنے نئے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پاکستانی ہائی کمیشن کے نارو سلوک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ویزے کے حصول کے لیے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستانی ویزے کے حصول کے لیے برمنگھم میں پاکستانی قونصلیٹ گئے تھے لیکن ہائی کمیشن میں پانچ گھنٹے طویل انتظار کروانے کے بعد کہا گیا دفتری اوقات ختم ہوگئے ہیں اور قونصل خانے کو بند کیا جا رہا ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ImranTahirSA/status/904830395111399425"></a>
            </blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ اس موقع پر پاکستانی ہائی کمیشن ابن عباس نے مداخلت کی جس کے بعد ہمیں ویزے جاری کیے گئے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستانی نژاد جنوبی افریقی کھلاڑی اور ورلڈ الیون کا حصہ ہونے کے باوجود مجھ سے اس طرح کا برتاؤ کیا گیا۔</p><p class=''>دوسری طرف پاکستانی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ عمران طاہر کے پاس کاغذات پورے نہیں تھے جس کے باعث تاخیر ہوئی اور جنوبی افریقی اسپنر برطانیہ میں ہوتے ہوئے جنوبی افریقی پاسپورٹ سے اپلائی کررہے تھے اس لیے ویزا کے اجرا میں اضافی وقت لگا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/betterpakistan/status/905096924709171204"></a>
            </blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>ادھر وزیر داخلہ احسن اقبال نے ناروا سلوک پر عمران طاہر سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں گے اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1064195</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Sep 2017 00:00:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/09/59aeef619989a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/09/59aeef619989a.jpg"/>
        <media:title>عمران طاہر پاکستان کا دورہ کرنے والی 14 رکنی ورلڈ الیون کا حصہ ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
