<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 10:42:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 10:42:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرداری کو بری کرنےوالےجج شریف خاندان کےریفرنسز سنیں گے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1064394/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1062037' &gt;سابق وزیراعظم نواز شریف&lt;/a&gt; اور ان کے اہل خانہ کے خلاف دائر نیب ریفرنسز کو سماعت کے لیے جس جج کے سامنے پیش کیا گیا ہے وہ اس سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی 5 کرپشن ریفرنسز میں بری کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) نے گذشتہ روز (8 ستمبر کو) نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنسز دائر کیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جس کے بعد رجسٹرار احتساب عدالت احمد مشتاق قریشی نے جانچ پڑتال کے لیے ان ریفرنسز کو کھلی عدالت میں جج محمد بشیر کے سامنے پیش کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم اسلام آباد پولیس حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چند اہلکاروں نے میڈیا نمائندگان کو اس کارروائی کو دیکھنے سے روک دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد جج نے نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل صفدر مظفر عباسی سے ریفرنسز کی اضافی کاپیاں طلب کیں تاکہ وہ ملزمان کو پیش کی جاسکیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1064340/' &gt;شریف خاندان،اسحٰق ڈار کے خلاف 4 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چونکہ عدالت نے یہ نقول منگل (12 ستمبر) تک طلب کی ہیں لہذا پراسیکیوشن نے اس بات کا امکان ظاہر کیا ہے کہ عدالت تمام ملزمان کو ایک ہی دن سمن جاری کرے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ جج محمد بشیر احتساب عدالت کے انتظامی جج ہیں اور صرف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں موجود ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایک اور احتساب جج نثار بیگ ہیں جنہیں ڈیپوٹیشن کی مدت پوری ہونے کے بعد لاہور ہائی کورٹ واپس بھیجا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جج محمد بشیر نے اس سے قبل سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف 5 کرپشن ریفرنسز کی سماعت کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان ریفرنسز میں اے آر وائی گولڈ، ایس جی ایس، کو ٹیکنا، پولو گراؤنڈ اور ارسس ٹریکٹرز کرپشن ریفرنسز شامل تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حال ہی میں راولپنڈی کے احتساب جج خالد محمود رانجھا نے آصف علی زرداری کو پاکستان میں مبینہ غیرقانونی اثاثوں کے حوالے سے چھٹے اور آخری ریفرنس میں بری کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1063697/' &gt;آصف زرداری غیر قانونی اثاثہ جات ریفرنس میں بری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دسمبر 2014 میں آصف زرداری کو اے آر وائی اور ارسس ٹریکٹر کرپشن ریفرنسز میں بری کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اے آر وائی ریفرنس اے آر وائی ٹریڈرز کو سونے اور چاندی کی درآمد کے مبینہ لائسنس جاری کرنے کے حوالے سے تھا جبکہ ٹریکٹر ریفرنس 5 ہزار 900 روسی اور پولینڈ کے ٹریکٹرز کی خریداری میں مبینہ غبن کے حوالے سے تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایس جی ایس اور کوٹیکنا ریفرنسز، پِری شپمنٹ معاہدوں کی حوالگی سے جڑے تھے جبکہ اس میں یہ الزام بھی تھا کہ زرداری اور ان کی اہلیہ نے کُل رقم کا 6 فیصد حصہ رشوت کی صورت میں حاصل کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولو گراؤنڈ کرپشن ریفرنس وزیراعظم ہاؤس میں کئی ملین مہنگا پولو گراؤنڈ تعمیر کرنے کے حوالے سے تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/129040' &gt;زرداری کیخلاف نیب کے پانچ ریفرنسز دوبارہ کھول دیئے گئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے سابق صدر آصف زرداری کی بریت سے قبل ان تمام ریفرنسز کے شریک ملزمان کو راولپنڈی کی احتساب عدالتیں بری کرچکی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بریت کی اہم وجہ ملزمان کے اصل ریکارڈ کی عدم موجودگی تھی اور استغاثہ نے تمام دستاویزات کی فوٹوکاپیاں عدالت میں پیش کی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کئی اہم گواہان نے بھی اپنے بیانات واپس لے لیے تھے جو انہوں نے چند دہائیوں قبل ریکارڈ کروائے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ پی پی پی کے اس سے قبل کے دورِ حکومت میں آصف زرداری کو حاصل صدارتی استثنیٰ کی وجہ سے ان کا ٹرائل نہیں کیا گیا تھا، مدت حکومت ختم ہونے کے بعد نیب نے ان کے خلاف قائم مقدمات کو دوبارہ کھولا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم مقدمات کے ری ٹرائل کے دوران استغاثہ نے وہی ’ناکافی‘ شواہد پیش کیے جو شریک ملزمان کے خلاف جاری کارروائی کے دوران پیش کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 9 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>اسلام آباد: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1062037' >سابق وزیراعظم نواز شریف</a> اور ان کے اہل خانہ کے خلاف دائر نیب ریفرنسز کو سماعت کے لیے جس جج کے سامنے پیش کیا گیا ہے وہ اس سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی 5 کرپشن ریفرنسز میں بری کر چکے ہیں۔</p><p class=''>قومی احتساب بیورو (نیب) نے گذشتہ روز (8 ستمبر کو) نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنسز دائر کیے۔</p><p class=''>جس کے بعد رجسٹرار احتساب عدالت احمد مشتاق قریشی نے جانچ پڑتال کے لیے ان ریفرنسز کو کھلی عدالت میں جج محمد بشیر کے سامنے پیش کیا۔</p><p class=''>تاہم اسلام آباد پولیس حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چند اہلکاروں نے میڈیا نمائندگان کو اس کارروائی کو دیکھنے سے روک دیا۔</p><p class=''>ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد جج نے نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل صفدر مظفر عباسی سے ریفرنسز کی اضافی کاپیاں طلب کیں تاکہ وہ ملزمان کو پیش کی جاسکیں۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1064340/' >شریف خاندان،اسحٰق ڈار کے خلاف 4 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر</a></strong></p><p class=''>چونکہ عدالت نے یہ نقول منگل (12 ستمبر) تک طلب کی ہیں لہذا پراسیکیوشن نے اس بات کا امکان ظاہر کیا ہے کہ عدالت تمام ملزمان کو ایک ہی دن سمن جاری کرے گی۔</p><p class=''>واضح رہے کہ جج محمد بشیر احتساب عدالت کے انتظامی جج ہیں اور صرف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں موجود ہوتے ہیں۔</p><p class=''>ایک اور احتساب جج نثار بیگ ہیں جنہیں ڈیپوٹیشن کی مدت پوری ہونے کے بعد لاہور ہائی کورٹ واپس بھیجا جاچکا ہے۔</p><p class=''>جج محمد بشیر نے اس سے قبل سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف 5 کرپشن ریفرنسز کی سماعت کی تھی۔</p><p class=''>ان ریفرنسز میں اے آر وائی گولڈ، ایس جی ایس، کو ٹیکنا، پولو گراؤنڈ اور ارسس ٹریکٹرز کرپشن ریفرنسز شامل تھے۔</p><p class=''>حال ہی میں راولپنڈی کے احتساب جج خالد محمود رانجھا نے آصف علی زرداری کو پاکستان میں مبینہ غیرقانونی اثاثوں کے حوالے سے چھٹے اور آخری ریفرنس میں بری کیا تھا۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1063697/' >آصف زرداری غیر قانونی اثاثہ جات ریفرنس میں بری</a></strong></p><p class=''>دسمبر 2014 میں آصف زرداری کو اے آر وائی اور ارسس ٹریکٹر کرپشن ریفرنسز میں بری کیا گیا تھا۔</p><p class=''>اے آر وائی ریفرنس اے آر وائی ٹریڈرز کو سونے اور چاندی کی درآمد کے مبینہ لائسنس جاری کرنے کے حوالے سے تھا جبکہ ٹریکٹر ریفرنس 5 ہزار 900 روسی اور پولینڈ کے ٹریکٹرز کی خریداری میں مبینہ غبن کے حوالے سے تھا۔</p><p class=''>ایس جی ایس اور کوٹیکنا ریفرنسز، پِری شپمنٹ معاہدوں کی حوالگی سے جڑے تھے جبکہ اس میں یہ الزام بھی تھا کہ زرداری اور ان کی اہلیہ نے کُل رقم کا 6 فیصد حصہ رشوت کی صورت میں حاصل کیا۔</p><p class=''>پولو گراؤنڈ کرپشن ریفرنس وزیراعظم ہاؤس میں کئی ملین مہنگا پولو گراؤنڈ تعمیر کرنے کے حوالے سے تھا۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/129040' >زرداری کیخلاف نیب کے پانچ ریفرنسز دوبارہ کھول دیئے گئے</a></strong></p><p class=''>اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے سابق صدر آصف زرداری کی بریت سے قبل ان تمام ریفرنسز کے شریک ملزمان کو راولپنڈی کی احتساب عدالتیں بری کرچکی تھیں۔</p><p class=''>بریت کی اہم وجہ ملزمان کے اصل ریکارڈ کی عدم موجودگی تھی اور استغاثہ نے تمام دستاویزات کی فوٹوکاپیاں عدالت میں پیش کی تھیں۔</p><p class=''>کئی اہم گواہان نے بھی اپنے بیانات واپس لے لیے تھے جو انہوں نے چند دہائیوں قبل ریکارڈ کروائے تھے۔</p><p class=''>واضح رہے کہ پی پی پی کے اس سے قبل کے دورِ حکومت میں آصف زرداری کو حاصل صدارتی استثنیٰ کی وجہ سے ان کا ٹرائل نہیں کیا گیا تھا، مدت حکومت ختم ہونے کے بعد نیب نے ان کے خلاف قائم مقدمات کو دوبارہ کھولا۔</p><p class=''>تاہم مقدمات کے ری ٹرائل کے دوران استغاثہ نے وہی ’ناکافی‘ شواہد پیش کیے جو شریک ملزمان کے خلاف جاری کارروائی کے دوران پیش کیے گئے تھے۔</p><hr>
<p class=''><strong><em>یہ خبر 9 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1064394</guid>
      <pubDate>Sat, 09 Sep 2017 15:23:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/09/59b3ae2c6a4b9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="180" width="300">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/09/59b3ae2c6a4b9.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
