<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 08:35:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 08:35:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>1800 سال پرانا نقطہ ریاضی کا پہلا ’صفر‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1064798/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;لندن: آکسفورڈ یونیورسٹی نے تیسری صدی کی ایک ہاتھ سے لکھی تحریر میں موجود نقاط کو ریاضی کے ہندسے ’صفر‘ کا پہلا استعمال قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس نسخے سے علم ہوتا ہے کہ صفر کا ہندسہ محققین کے پرانے اندازے سے بھی 500 سال قبل سے استعمال کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’یونیورسٹی کی بوڈلیان لائبریری کے سائنسدانوں نے کاربن ڈیٹنگ کے طریقے کا استعمال کرتے ہوئے مشہور قدیم بھارتی خطِ طومار میں اس بات کی نشاندہی کی‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;برچ کی چھال پر موجود یہ نسخہ جسے پشاور کے نزدیک موجود علاقے بخشالی کے نام پر &amp;#39;بخشالی مسودہ&amp;#39; کہا جاتا ہے، 1881 میں اسی علاقے میں دفن پایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ نسخہ 1902 سے آکسفورڈ کی بوڈلیان لائبریری میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آکسفورڈ میں ریاضی کے پروفیسر مرکس دو ساؤتے کے مطابق ’بخشالی مسودے میں بحیثیت ہندسہ صفر کے استعمال کی دریافت ریاضی کی تاریخ کی اہم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1053902' &gt;ہندوستان میں ’پروجیکٹ زیرو‘ کا آغاز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہم جانتے ہیں کہ تیسری صدی میں ہی بھارت کے ریاضی دانوں نے اس خیال کا بیج بو دیا تھا جو آگے چل کر جدید دنیا کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ بخشالی مسودے کو قدیم ترین بھارتی ریاضی تحریر تصور کیا جاتا ہے تاہم اس کی اصل عمر کے حوالے سے ریاضی دان متفق نہیں، محققین نے کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے اس مسودے کا تعلق تیسری یا چوتھی صدی کے دور سے ظاہر کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس مسودے میں سیکڑوں مقامات پر صفر کا استعمال موجود ہے جس سے قدیم بھارتی گنتی میں درجہ بندی کے طریقہ کار کی نشاندہی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سے قبل بھارت کے گوالیار مندر کی ایک دیوار پر نویں صدی کی کندہ تحریر میں صفر کے ہندسے کا پہلا استعمال دیکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مایا سمیت متعدد قدیم تہذیبوں میں صفر پلیس ہولڈر کا استعمال ملتا ہے تاہم قدیم بھارتی ریاضی میں استعمال کیا گیا نقطہ ہی وہ نشان ہے جو آج کے صفر میں تبدیل ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;لائبریرین رچرڈ اوونڈین کہتے ہیں کہ ’یہ دریافت ریاضی کی تاریخ اور ابتدائی جنوب ایشیائی تہذیب کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق میں خاص اہمیت کی حامل ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تحقیق کے یہ حیران کن نتائج برصغیر کی زرخیز اور دیرینہ سائنسی روایت کی گواہی دیتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 16 ستمبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>لندن: آکسفورڈ یونیورسٹی نے تیسری صدی کی ایک ہاتھ سے لکھی تحریر میں موجود نقاط کو ریاضی کے ہندسے ’صفر‘ کا پہلا استعمال قرار دے دیا۔</p><p class=''>اس نسخے سے علم ہوتا ہے کہ صفر کا ہندسہ محققین کے پرانے اندازے سے بھی 500 سال قبل سے استعمال کیا جارہا ہے۔</p><p class=''>آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’یونیورسٹی کی بوڈلیان لائبریری کے سائنسدانوں نے کاربن ڈیٹنگ کے طریقے کا استعمال کرتے ہوئے مشہور قدیم بھارتی خطِ طومار میں اس بات کی نشاندہی کی‘۔</p><p class=''>برچ کی چھال پر موجود یہ نسخہ جسے پشاور کے نزدیک موجود علاقے بخشالی کے نام پر &#39;بخشالی مسودہ&#39; کہا جاتا ہے، 1881 میں اسی علاقے میں دفن پایا گیا تھا۔</p><p class=''>یہ نسخہ 1902 سے آکسفورڈ کی بوڈلیان لائبریری میں موجود ہے۔</p><p class=''>آکسفورڈ میں ریاضی کے پروفیسر مرکس دو ساؤتے کے مطابق ’بخشالی مسودے میں بحیثیت ہندسہ صفر کے استعمال کی دریافت ریاضی کی تاریخ کی اہم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے‘۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1053902' >ہندوستان میں ’پروجیکٹ زیرو‘ کا آغاز</a></strong></p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہم جانتے ہیں کہ تیسری صدی میں ہی بھارت کے ریاضی دانوں نے اس خیال کا بیج بو دیا تھا جو آگے چل کر جدید دنیا کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا‘۔</p><p class=''>واضح رہے کہ بخشالی مسودے کو قدیم ترین بھارتی ریاضی تحریر تصور کیا جاتا ہے تاہم اس کی اصل عمر کے حوالے سے ریاضی دان متفق نہیں، محققین نے کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے اس مسودے کا تعلق تیسری یا چوتھی صدی کے دور سے ظاہر کیا ہے۔</p><p class=''>اس مسودے میں سیکڑوں مقامات پر صفر کا استعمال موجود ہے جس سے قدیم بھارتی گنتی میں درجہ بندی کے طریقہ کار کی نشاندہی ہوتی ہے۔</p><p class=''>اس سے قبل بھارت کے گوالیار مندر کی ایک دیوار پر نویں صدی کی کندہ تحریر میں صفر کے ہندسے کا پہلا استعمال دیکھا گیا تھا۔</p><p class=''>مایا سمیت متعدد قدیم تہذیبوں میں صفر پلیس ہولڈر کا استعمال ملتا ہے تاہم قدیم بھارتی ریاضی میں استعمال کیا گیا نقطہ ہی وہ نشان ہے جو آج کے صفر میں تبدیل ہوا۔</p><p class=''>لائبریرین رچرڈ اوونڈین کہتے ہیں کہ ’یہ دریافت ریاضی کی تاریخ اور ابتدائی جنوب ایشیائی تہذیب کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق میں خاص اہمیت کی حامل ہے‘۔</p><p class=''>ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تحقیق کے یہ حیران کن نتائج برصغیر کی زرخیز اور دیرینہ سائنسی روایت کی گواہی دیتے ہیں‘۔</p><hr>
<p class=''><strong><em>یہ خبر 16 ستمبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1064798</guid>
      <pubDate>Tue, 19 Sep 2017 13:05:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/09/59bcb5c49a0bb.jpg?r=1193981513" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/09/59bcb5c49a0bb.jpg?r=1518582963"/>
        <media:title>آکسفورڈ یونیورسٹی کی بوڈلیان لائبریری میں موجود نسخہ—۔</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
