<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 04:12:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 04:12:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواجہ آصف نااہلی کیس: لارجر بینچ کی تشکیل کی سفارش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1064933/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار کی جانب سے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی نا اہلی کے لیے دائر درخواست پر لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوا دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پی ٹی آئی کے عثمان ڈار کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت خواجہ محمد آصف کو نااہل قرار دینے کے لیے دائر کی گئی درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ وفاقی وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی میں ملازمت کے معاہدے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ خواجہ محمد آصف نے 2013 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار کو 21 ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عثمان ڈار نے اپنی پٹیشن میں دعویٰ کیا تھا کہ خواجہ محمد آصف 2011 سے متحدہ عرب امارات کی کمپنی (آئی ایم ای سی ایل) کے ساتھ خصوصی مشیر کے طور پر وابستہ ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1062837' &gt;خواجہ آصف کی نااہلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مزید کہا گیا کہ خواجہ محمد آصف آئی ایم ای سی ایل کے کُل وقتی ملازم ہیں اور انہیں ملازمت کے معاہدے کے مطابق ماہانہ 50 ہزار درہم تنخواہ جاری ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مذکورہ پٹیشن میں تنخواہ ظاہر نہ کرنے پر سابق &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1062037' &gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دینے کے فیصلے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کا حوالہ دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پٹیشن میں مزید کہا گیا کہ خواجہ محمد آصف نے یہ تنخواہ وصول کی جو ان کے لیے قابل قبول اثاثہ ہے، تاہم انہوں نے یہ تفصیلات 2013 کے عام انتخابات کے دوران قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 110 کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پٹیشنر نے دعویٰ کیا کہ انہیں حال ہی میں خواجہ محمد آصف کے اقامہ (ملازمت کا اجازت نامہ) اور تنخواہ کی تفصیلات کے بارے میں علم ہوا ہے جس پر خواجہ آصف کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1046650' &gt;این اے 110 : خواجہ آصف کے خلاف درخواست خارج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پٹیشن میں نشاندہی کی گئی کہ خواجہ محمد آصف کے اقامے کی حال ہی میں 29 جون 2017 کو تجدید کی گئی اور یہ 28 جون 2019 تک قابل استعمال ہے، اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ خواجہ محمد آصف آئی ایم ای سی ایل کے مستقل ملازم ہیں اور یہ پاکستان کے آئین کے تحت لیے گئے حلف کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پٹیشن میں کہا گیا کہ خواجہ محمد آصف اُس وقت بھی وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی کے عہدے پر موجود تھے جب وہ 2013 میں اس کمپنی کے مستقل ملازمت تھے، جب کہ وہ اس سے قبل پی پی پی کے دورِ حکومت میں بھی ان کے اتحادی کے طور پر وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز رہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پٹیشنر کا کہنا تھا کہ دونوں مرتبہ خواجہ محمد آصف نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے اپنی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ چھپائی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جسٹس عامر فاروق نے عثمان ڈار کے وکیل کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد کسی قسم کا حکم جاری نہیں کیا اور پٹیشن کو 3 رکنی بینچ کی تشکیل کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور خان کانسی کو بھجوا دیا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ رپورٹ 19 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار کی جانب سے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی نا اہلی کے لیے دائر درخواست پر لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوا دیا۔</p><p class=''>پی ٹی آئی کے عثمان ڈار کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت خواجہ محمد آصف کو نااہل قرار دینے کے لیے دائر کی گئی درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ وفاقی وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی میں ملازمت کے معاہدے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔</p><p class=''>یاد رہے کہ خواجہ محمد آصف نے 2013 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار کو 21 ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔</p><p class=''>عثمان ڈار نے اپنی پٹیشن میں دعویٰ کیا تھا کہ خواجہ محمد آصف 2011 سے متحدہ عرب امارات کی کمپنی (آئی ایم ای سی ایل) کے ساتھ خصوصی مشیر کے طور پر وابستہ ہیں۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1062837' >خواجہ آصف کی نااہلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست</a></strong></p><p class=''>مزید کہا گیا کہ خواجہ محمد آصف آئی ایم ای سی ایل کے کُل وقتی ملازم ہیں اور انہیں ملازمت کے معاہدے کے مطابق ماہانہ 50 ہزار درہم تنخواہ جاری ہوتی ہے۔</p><p class=''>مذکورہ پٹیشن میں تنخواہ ظاہر نہ کرنے پر سابق <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1062037' ><strong>وزیراعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دینے کے فیصلے</strong></a> کا حوالہ دیا گیا۔</p><p class=''>پٹیشن میں مزید کہا گیا کہ خواجہ محمد آصف نے یہ تنخواہ وصول کی جو ان کے لیے قابل قبول اثاثہ ہے، تاہم انہوں نے یہ تفصیلات 2013 کے عام انتخابات کے دوران قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 110 کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیں۔</p><p class=''>پٹیشنر نے دعویٰ کیا کہ انہیں حال ہی میں خواجہ محمد آصف کے اقامہ (ملازمت کا اجازت نامہ) اور تنخواہ کی تفصیلات کے بارے میں علم ہوا ہے جس پر خواجہ آصف کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1046650' >این اے 110 : خواجہ آصف کے خلاف درخواست خارج</a></strong></p><p class=''>پٹیشن میں نشاندہی کی گئی کہ خواجہ محمد آصف کے اقامے کی حال ہی میں 29 جون 2017 کو تجدید کی گئی اور یہ 28 جون 2019 تک قابل استعمال ہے، اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ خواجہ محمد آصف آئی ایم ای سی ایل کے مستقل ملازم ہیں اور یہ پاکستان کے آئین کے تحت لیے گئے حلف کی خلاف ورزی ہے۔</p><p class=''>پٹیشن میں کہا گیا کہ خواجہ محمد آصف اُس وقت بھی وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی کے عہدے پر موجود تھے جب وہ 2013 میں اس کمپنی کے مستقل ملازمت تھے، جب کہ وہ اس سے قبل پی پی پی کے دورِ حکومت میں بھی ان کے اتحادی کے طور پر وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز رہے۔</p><p class=''>پٹیشنر کا کہنا تھا کہ دونوں مرتبہ خواجہ محمد آصف نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے اپنی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ چھپائی۔</p><p class=''>جسٹس عامر فاروق نے عثمان ڈار کے وکیل کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد کسی قسم کا حکم جاری نہیں کیا اور پٹیشن کو 3 رکنی بینچ کی تشکیل کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور خان کانسی کو بھجوا دیا۔</p><hr>
<p class=''><strong>یہ رپورٹ 19 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1064933</guid>
      <pubDate>Tue, 19 Sep 2017 13:24:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/09/59c0c2883f87c.jpg?r=764243471" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/09/59c0c2883f87c.jpg?r=462371799"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
