<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 02:45:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 02:45:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل کی اسمارٹ جیکٹ خریدنا پسند کریں گے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1065296/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;گوگل نے معروف کمپنی لیوائز کے اشتراک سے اپنی پہلی اسمارٹ جیکٹ فروخت کے لیے پیش کردی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس جیکٹ کو سامنے لانے کا اعلان 2 سال قبل کیا گیا تھا جس کا مقصد جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ملبوسات کو متعارف کرانا تھا، جبکہ رواں سال کے شروع میں اسے متعارف کرایا گیا تھا، تاہم اب اسے عام صارفین کے لیے پیش کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جدید ٹیکنالوجی سے لیس ملبوسات کے اس منصوبے کا پہلا حصہ اُس انٹرنیٹ کنکٹڈ جیکٹ کی شکل میں سامنے آیا ہے جسے &amp;#39;دی کمیوٹر&amp;#39; کا نام دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس میں گوگل کی جیک کوارڈ ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے کپڑے کو ہاتھوں سے کنٹرول ہونے والے کینوس میں بدل دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ جیکٹ 350 ڈالرز میں فروخت کے لیے پیش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس میں بلیو ٹوتھ کف دیئے گئے ہیں جنھیں اسمارٹ فون سے منسلک کرکے مختلف راستوں کے بارے میں جانا جاسکتا ہے، میوزک کی آواز کو کم یا تیز کیا جاسکتا یا کسی فون کال کا بھی جواب دیا جاسکتا ہے، جیسا کہ آپ نیچے ویڈیو میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ سب آپ اپنی انگلیوں کو جیکٹ کے کپڑے پر کسی ٹچ اسکرین فون کی طرح سوائپ کرکے کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس جیکٹ کی بیٹری 2 دن تک چل سکے گی اور بلیوٹوتھ ڈیوائس کو یو ایس بی کے ذریعے آسانی سے چارج کیا جاسکے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس جیکٹ کی تیاری کے لیے ایسے دھاگے کا استعمال کیا گیا ہے جو کنڈیکٹو ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے استعمال کو ممکن بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/yJ-lcdMfziw?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>گوگل نے معروف کمپنی لیوائز کے اشتراک سے اپنی پہلی اسمارٹ جیکٹ فروخت کے لیے پیش کردی۔</p><p class=''>اس جیکٹ کو سامنے لانے کا اعلان 2 سال قبل کیا گیا تھا جس کا مقصد جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ملبوسات کو متعارف کرانا تھا، جبکہ رواں سال کے شروع میں اسے متعارف کرایا گیا تھا، تاہم اب اسے عام صارفین کے لیے پیش کردیا گیا ہے۔</p><p class=''>جدید ٹیکنالوجی سے لیس ملبوسات کے اس منصوبے کا پہلا حصہ اُس انٹرنیٹ کنکٹڈ جیکٹ کی شکل میں سامنے آیا ہے جسے &#39;دی کمیوٹر&#39; کا نام دیا گیا ہے۔</p><p class=''>اس میں گوگل کی جیک کوارڈ ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے کپڑے کو ہاتھوں سے کنٹرول ہونے والے کینوس میں بدل دیا گیا ہے۔</p><p class=''>یہ جیکٹ 350 ڈالرز میں فروخت کے لیے پیش کی گئی ہے۔</p><p class=''>اس میں بلیو ٹوتھ کف دیئے گئے ہیں جنھیں اسمارٹ فون سے منسلک کرکے مختلف راستوں کے بارے میں جانا جاسکتا ہے، میوزک کی آواز کو کم یا تیز کیا جاسکتا یا کسی فون کال کا بھی جواب دیا جاسکتا ہے، جیسا کہ آپ نیچے ویڈیو میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔</p><p class=''>یہ سب آپ اپنی انگلیوں کو جیکٹ کے کپڑے پر کسی ٹچ اسکرین فون کی طرح سوائپ کرکے کرسکیں گے۔</p><p class=''>اس جیکٹ کی بیٹری 2 دن تک چل سکے گی اور بلیوٹوتھ ڈیوائس کو یو ایس بی کے ذریعے آسانی سے چارج کیا جاسکے گا۔</p><p class=''>اس جیکٹ کی تیاری کے لیے ایسے دھاگے کا استعمال کیا گیا ہے جو کنڈیکٹو ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے استعمال کو ممکن بنایا جاسکے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/yJ-lcdMfziw?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			
</p>]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1065296</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Sep 2017 10:07:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/09/59c941ee6bbe4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/09/59c941ee6bbe4.jpg"/>
        <media:title>اس جیکٹ کو سامنے لانے کا اعلان 2 سال قبل کیا گیا تھا—۔فوٹو/ اسکرین شاٹ</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
