<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 16:53:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 16:53:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹیلی جنس بیورو پر دہشت گردوں کے تحفظ کا الزام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1065321/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ایک جاسوس نے ادارے پر دہشت گردوں کے تحفظ کا الزام عائد کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئی بی کے موجودہ سب انسپکٹر اے ایس آئی ملک مختار احمد شہزاد نے اپنے سینئر افسران پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی، جس میں درخواست کی گئی کہ اس معاملے کی تحقیقات انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سپرد کی جائیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکام نے بتایا کہ عدالت عالیہ کے رجسٹرار نے مذکورہ پٹیشن جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں سماعت کے لیے بھیجی تھی تاہم انہوں نے یہ کیس عدالت عالیہ کے چیف جسٹس محمد انور خان کانسی کو بھیج دیا تاکہ اسے جسٹس عزیز صدیقی کو منتقل کیا جائے کیونکہ ایسا ہی ایک کیس ان کی عدالت میں زیر التواء ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1059844' &gt;ڈی جی آئی بی کا جے آئی ٹی اراکین کے کوائف جمع کرنے کااعتراف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ملک مختار احمد شہزاد نے اپنے وکیل مسرور شاہ کے ذریعے دائر کی گئی پٹیشن میں کہا کہ انہوں ںے 2007 میں آئی بی میں ملازمت اختیار کی جس کے بعد سے انہوں نے ازبکستان، ایران، افغانستان، شام اور بھارت سے تعلق رکھنے والے متعدد دہشت گردوں کے حوالے سے رپورٹس پیش کیں، تاہم ان کی خفیہ رپورٹس پر آئی بی کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ ’متعدد خفیہ معلومات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ آئی بی کے کچھ اعلیٰ افسران خود بھی دشمن ایجنسیوں سے منسلک دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;درخواست گزار کا کہنا تھا کہاس معاملے کے حوالے سے آئی بی کے ڈائریکٹر کو بھی آگاہ کیا گیا تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1059784' &gt;نیب اور آئی بی سمیت دیگر اداروں نے جے آئی ٹی الزامات مسترد کردیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ آئی بی افسران نے اسرائیل کا دورہ کیا اور ان کے افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں سے براہ راست رابطے ہیں، اور بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے قازقستان کے دہشت گرد گروپوں سے بھی رابطے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ’یہ دہشت گرد سرگودھا کے علاقوں کوٹ مومن اور بھلوال میں خود کو پھلوں کے خریدار ظاہر کرکے کام کررہے ہیں اور یہ خفیہ سرگرمیاں اس کاروبار کی آڑ میں کی جارہی ہیں‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ آئی بی پنجاب کے جوائنٹ ڈائریکٹر کے صاحبزادے نشاندہی کیے جانے والے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ معاملات چلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ افغان اور ایرانی انٹیلی جنس حکام پھلوں کے ڈیلر کے بھیس میں کام کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/104693' &gt;سپریم کورٹ نے آئی بی سے خفیہ فنڈ کی تفصیلات طلب کر لیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پٹیشنر نے آئی بی کے کچھ افسران کے نام بھی بتائے جو غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیز کے پے رول پر کام کررہے ہیں، ان میں جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کچھ سینئر آئی بی افسران نے افغان شہریوں کو پاکستانی شہریت دلوانے میں بھی سہولت فراہم کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئی بی کے سب انسپکٹر کا کہنا تھا کہ انہوں ںے ’قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے وزیراعظم پاکستان کو بھی آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم اس پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی بی افسران کے دہشت گردوں سے روابط کے معاملے کی تحقیقات آئی ایس آئی کے سپرد کی جائیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پٹیشن میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ آئی بی افسران پر نگرانی کا مؤثر طریقہ کار وضح کریں، جو فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ حال ہی میں آئی بی کو اُس وقت بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے آئی ایس آئی، ایم آئی اور دیگر اداروں کے ارکان پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ رپورٹ 26 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>اسلام آباد: انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ایک جاسوس نے ادارے پر دہشت گردوں کے تحفظ کا الزام عائد کردیا۔</p><p class=''>آئی بی کے موجودہ سب انسپکٹر اے ایس آئی ملک مختار احمد شہزاد نے اپنے سینئر افسران پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی، جس میں درخواست کی گئی کہ اس معاملے کی تحقیقات انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سپرد کی جائیں۔</p><p class=''>اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکام نے بتایا کہ عدالت عالیہ کے رجسٹرار نے مذکورہ پٹیشن جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں سماعت کے لیے بھیجی تھی تاہم انہوں نے یہ کیس عدالت عالیہ کے چیف جسٹس محمد انور خان کانسی کو بھیج دیا تاکہ اسے جسٹس عزیز صدیقی کو منتقل کیا جائے کیونکہ ایسا ہی ایک کیس ان کی عدالت میں زیر التواء ہے۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1059844' >ڈی جی آئی بی کا جے آئی ٹی اراکین کے کوائف جمع کرنے کااعتراف</a></strong></p><p class=''>ملک مختار احمد شہزاد نے اپنے وکیل مسرور شاہ کے ذریعے دائر کی گئی پٹیشن میں کہا کہ انہوں ںے 2007 میں آئی بی میں ملازمت اختیار کی جس کے بعد سے انہوں نے ازبکستان، ایران، افغانستان، شام اور بھارت سے تعلق رکھنے والے متعدد دہشت گردوں کے حوالے سے رپورٹس پیش کیں، تاہم ان کی خفیہ رپورٹس پر آئی بی کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔</p><p class=''>انہوں نے الزام لگایا کہ ’متعدد خفیہ معلومات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ آئی بی کے کچھ اعلیٰ افسران خود بھی دشمن ایجنسیوں سے منسلک دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں‘۔</p><p class=''>درخواست گزار کا کہنا تھا کہاس معاملے کے حوالے سے آئی بی کے ڈائریکٹر کو بھی آگاہ کیا گیا تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1059784' >نیب اور آئی بی سمیت دیگر اداروں نے جے آئی ٹی الزامات مسترد کردیے</a></strong></p><p class=''>پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ آئی بی افسران نے اسرائیل کا دورہ کیا اور ان کے افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں سے براہ راست رابطے ہیں، اور بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے قازقستان کے دہشت گرد گروپوں سے بھی رابطے ہیں۔</p><p class=''>درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ’یہ دہشت گرد سرگودھا کے علاقوں کوٹ مومن اور بھلوال میں خود کو پھلوں کے خریدار ظاہر کرکے کام کررہے ہیں اور یہ خفیہ سرگرمیاں اس کاروبار کی آڑ میں کی جارہی ہیں‘۔</p><p class=''>انہوں نے الزام لگایا کہ آئی بی پنجاب کے جوائنٹ ڈائریکٹر کے صاحبزادے نشاندہی کیے جانے والے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ معاملات چلا رہے ہیں۔</p><p class=''>پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ افغان اور ایرانی انٹیلی جنس حکام پھلوں کے ڈیلر کے بھیس میں کام کررہے ہیں۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/104693' >سپریم کورٹ نے آئی بی سے خفیہ فنڈ کی تفصیلات طلب کر لیں</a></strong></p><p class=''>پٹیشنر نے آئی بی کے کچھ افسران کے نام بھی بتائے جو غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیز کے پے رول پر کام کررہے ہیں، ان میں جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز بھی شامل ہیں۔</p><p class=''>درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کچھ سینئر آئی بی افسران نے افغان شہریوں کو پاکستانی شہریت دلوانے میں بھی سہولت فراہم کی۔</p><p class=''>آئی بی کے سب انسپکٹر کا کہنا تھا کہ انہوں ںے ’قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے وزیراعظم پاکستان کو بھی آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم اس پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی‘۔</p><p class=''>درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی بی افسران کے دہشت گردوں سے روابط کے معاملے کی تحقیقات آئی ایس آئی کے سپرد کی جائیں۔ </p><p class=''>پٹیشن میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ آئی بی افسران پر نگرانی کا مؤثر طریقہ کار وضح کریں، جو فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔</p><p class=''>واضح رہے کہ حال ہی میں آئی بی کو اُس وقت بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے آئی ایس آئی، ایم آئی اور دیگر اداروں کے ارکان پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔</p><hr>
<p class=''><strong>یہ رپورٹ 26 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1065321</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Sep 2017 13:07:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/09/59c9f98621d04.jpg?r=1772878462" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/09/59c9f98621d04.jpg?r=1813246808"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
