<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:20:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:20:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کا پاکستان میں سول حکومت کے مستقبل پر خدشات کا اظہار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1065791/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/oFbH_dPb1X4?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن: امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن نے حکومتِ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، پاکستان میں ایک مستحکم حکومت کا خواہاں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امریکی دارالحکومت میں پاکستانی وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکا کے پاس پاکستان کی صورت میں ایک با اعتماد ساتھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریکس ٹلرسن کے پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے یہ ریمارکس واشنگٹن میں موجود پاکستانی مبصرین کے لیے تسکین کا باعث رہے لیکن اسلام آباد میں حکومت کے مستقبل کے حوالے سے تبصرے نے کئی لوگوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ امریکا کی کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے عوامی سطح پر اسلام آباد میں جاری سیاسی عدم استحکام سے متعلق بات کی گئی اور ملک میں سیاسی سیٹ اپ کی حمایت کی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1065787/' &gt;’پاکستان کی تمام دہشتگردوں کےخلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی جاری ہے‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان کے وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات نے آپ کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ امریکا کے پاس پاکستان کی صورت میں ایک با اعتماد ساتھی موجود ہے تو اس کے جواب میں سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا کہ ’جی ہاں، مجھے یقین ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریکس ٹلرسن نے پاک امریکا تعلقات کو خطے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1063432' &gt;&lt;strong&gt;جنوبی ایشیا کے لیے جو پالیسی مرتب&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی ہے اس میں علاقائی تناظر میں ہی بات کی گئی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نئی امریکی پالیسی میں افغانستان کے زاویے سے پاک امریکا تعلقات پر اسلام آباد کے خدشات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ریکس ٹلرسن نے کہا کہ یہ پالیسی صرف افغانستان کے لیے نہیں ہے بلکہ پاکستان اور اس کے طویل مدتی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ذرائع ابلاغ کے نمائندے کی جانب سے پاکستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا کہ ’ہمیں بھی پاکستان کی حکومت کے مستقبل کے بارے میں خدشات ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اسلام آباد میں حکومت مستحکم ہوجائے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1065537' &gt;’نئی امریکی پالیسی پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے نہیں‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا، پاکستان کو پر امن دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ اندرونی طور پر پاکستان جن مسائل سے نبرد آزما ہے وہی امریکا کے بھی مسائل ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سیکریٹری اسٹیٹ کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں اور اسی لیے ہم خارجہ امور سے لیکر دفاعی امور اور انٹیلی جنس کمیونیٹیز کے معاملات کے ساتھ ساتھ معاشی اور تجارتی سطح پر بھی مواقع پیدا کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت امریکی صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیاء کے لیے نئی پالیسی کے اعلان کے بعد سے ان معاملات کو عوامی اور خفیہ سطح پر اٹھاتی رہی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے قبل پاکستان اور امریکی میڈیا میں یہ خبریں گردش کرتی رہیں تھیں کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان پر نئی ضرب لگاسکتی ہے جس میں پاکستان کی غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت کا خاتمہ اور اسلام آباد کو دی جانے والی فوجی اور معاشی امداد میں واضح کمی شامل ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1064321' &gt;دنیا کو پاکستان سے عزت سے پیش آنا چاہیے،برطانوی اپوزیشن رہنما&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علاوہ ازیں ذرائع ابلاغ میں یہ بھی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی مبینہ بناہ گاہوں پر ڈرون حملوں میں تیزی پر بات کی جائے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم ریکس ٹلرسن نے اپنی گفتگو کے دوران اس بات پر دوبارہ زور دیا کہ امریکا کو پاکستان کے ساتھ ہر سطح کے معاملات میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نئی امریکی پالیسی پر وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ جنوبی ایشیاء کے لیے امریکا کی نئی حکمت عملی میں خطے کو زیر غور رکھا گیا ہے جبکہ اس خطے میں طویل مدتی امن و استحکام کے لیے پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وزیر خارجہ نے امریکا پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی پڑے پیمانے پر پامالیوں کو رکوانے کے لیے کردار ادا کرے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک کشمیر سمیت طویل عرصے سے جاری تمام تنازعات کا حل نہیں نکالا جاتا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ملاقات کے بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی سیکریٹری اسٹیٹ ریکس ٹلرس کو بات چیت کا سلسلے جاری رکھنے کے لیے اسلام آباد آنے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 5 اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/oFbH_dPb1X4?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''><strong>واشنگٹن: امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن نے حکومتِ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، پاکستان میں ایک مستحکم حکومت کا خواہاں ہے۔</strong></p><p class=''>امریکی دارالحکومت میں پاکستانی وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکا کے پاس پاکستان کی صورت میں ایک با اعتماد ساتھی موجود ہے۔</p><p class=''>ریکس ٹلرسن کے پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے یہ ریمارکس واشنگٹن میں موجود پاکستانی مبصرین کے لیے تسکین کا باعث رہے لیکن اسلام آباد میں حکومت کے مستقبل کے حوالے سے تبصرے نے کئی لوگوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی۔</p><p class=''>یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ امریکا کی کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے عوامی سطح پر اسلام آباد میں جاری سیاسی عدم استحکام سے متعلق بات کی گئی اور ملک میں سیاسی سیٹ اپ کی حمایت کی گئی۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1065787/' >’پاکستان کی تمام دہشتگردوں کےخلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی جاری ہے‘</a></strong></p><p class=''>جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان کے وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات نے آپ کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ امریکا کے پاس پاکستان کی صورت میں ایک با اعتماد ساتھی موجود ہے تو اس کے جواب میں سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا کہ ’جی ہاں، مجھے یقین ہے‘۔</p><p class=''>ریکس ٹلرسن نے پاک امریکا تعلقات کو خطے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1063432' ><strong>جنوبی ایشیا کے لیے جو پالیسی مرتب</strong></a> کی ہے اس میں علاقائی تناظر میں ہی بات کی گئی ہے۔ </p><p class=''>نئی امریکی پالیسی میں افغانستان کے زاویے سے پاک امریکا تعلقات پر اسلام آباد کے خدشات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ریکس ٹلرسن نے کہا کہ یہ پالیسی صرف افغانستان کے لیے نہیں ہے بلکہ پاکستان اور اس کے طویل مدتی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔</p><p class=''>ذرائع ابلاغ کے نمائندے کی جانب سے پاکستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا کہ ’ہمیں بھی پاکستان کی حکومت کے مستقبل کے بارے میں خدشات ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اسلام آباد میں حکومت مستحکم ہوجائے‘۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1065537' >’نئی امریکی پالیسی پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے نہیں‘</a></strong></p><p class=''>ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا، پاکستان کو پر امن دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ اندرونی طور پر پاکستان جن مسائل سے نبرد آزما ہے وہی امریکا کے بھی مسائل ہیں۔ </p><p class=''>سیکریٹری اسٹیٹ کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں اور اسی لیے ہم خارجہ امور سے لیکر دفاعی امور اور انٹیلی جنس کمیونیٹیز کے معاملات کے ساتھ ساتھ معاشی اور تجارتی سطح پر بھی مواقع پیدا کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ </p><p class=''>خیال رہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت امریکی صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیاء کے لیے نئی پالیسی کے اعلان کے بعد سے ان معاملات کو عوامی اور خفیہ سطح پر اٹھاتی رہی ہے۔ </p><p class=''>دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے قبل پاکستان اور امریکی میڈیا میں یہ خبریں گردش کرتی رہیں تھیں کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان پر نئی ضرب لگاسکتی ہے جس میں پاکستان کی غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت کا خاتمہ اور اسلام آباد کو دی جانے والی فوجی اور معاشی امداد میں واضح کمی شامل ہے۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1064321' >دنیا کو پاکستان سے عزت سے پیش آنا چاہیے،برطانوی اپوزیشن رہنما</a></strong></p><p class=''>علاوہ ازیں ذرائع ابلاغ میں یہ بھی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی مبینہ بناہ گاہوں پر ڈرون حملوں میں تیزی پر بات کی جائے گی۔</p><p class=''>تاہم ریکس ٹلرسن نے اپنی گفتگو کے دوران اس بات پر دوبارہ زور دیا کہ امریکا کو پاکستان کے ساتھ ہر سطح کے معاملات میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔</p><p class=''>نئی امریکی پالیسی پر وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ جنوبی ایشیاء کے لیے امریکا کی نئی حکمت عملی میں خطے کو زیر غور رکھا گیا ہے جبکہ اس خطے میں طویل مدتی امن و استحکام کے لیے پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ </p><p class=''>وزیر خارجہ نے امریکا پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی پڑے پیمانے پر پامالیوں کو رکوانے کے لیے کردار ادا کرے۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک کشمیر سمیت طویل عرصے سے جاری تمام تنازعات کا حل نہیں نکالا جاتا۔</p><p class=''>ملاقات کے بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی سیکریٹری اسٹیٹ ریکس ٹلرس کو بات چیت کا سلسلے جاری رکھنے کے لیے اسلام آباد آنے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔</p><hr>
<p class=''><strong>یہ خبر 5 اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1065791</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Oct 2017 12:47:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/10/59d59563ec3dc.jpg?r=2051641805" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/10/59d59563ec3dc.jpg?r=750558214"/>
        <media:title>پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف (بائیں) امریکی سیکریٹری اسٹیٹ ریکس ٹلرسن (دائیں) سے مصافحہ کر رہے ہیں — فوٹو / ڈان اخبار</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
