<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 01:26:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 01:26:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت:کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کےدوران 20 کسان ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1066060/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;بھارت کی ریاست مہاراشٹرا میں کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کے دوران زیریلی گیس سے 20 کسان ہلاک اور سیکڑوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریاست مہاراشٹرا بھارت کا زرعی علاقہ ہے جہاں فصلوں میں کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کے دوران حفاظتی اقدامات نہ کرنے کے باعث ہلاکتیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریاستی حکومت کے ترجمان کشور تیواڑی کا کہنا تھا کہ &amp;#39;20 کسان ہلاک ہوگئے ہیں اور سیکڑوں کسانوں کو طبی امداد دی جارہی ہے جن میں سے 50 کی حالت تشویش ناک ہے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مقامی اخباروں کی رپورٹس کے مطابق پہلی ہلاکت اگست میں ہوئی تھی اور ستمبر میں اس میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انسانی حقوق کے کارکن قوانین کی عدم موجودگی اور حفاظتی اقدامات نہ کرنے کے حوالے سے  ان ہلاکتوں کی ذمہ داری حکومت پر ڈال رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کشور تیواڑی کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد نے حفاظتی جوتے، ماسک اور گلوز نہیں پہنے ہوئے تھے جس کے بعد انھوں سردرد اور آنکھوں میں درد کی شکایت کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;این ڈی ٹی وی نے ایک کسان کے حوالے سے خبر دی ہے کہ &amp;#39;میرے پاس حفاظتی چیزیں خریدنے کے لیے پیسہ نہیں ہے جس کے باعث ہم  بغیر حفاظتی اقدامات کے کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ کرتے ہیں&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ممبئی ہائی کورٹ نے مہاراشٹرا کی حکومت پر متاثرہ علاقوں کو کیڑے مار ادویات بیچنے پر پابندی عائد کردی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولیس سپرینٹنڈنٹ ایم راج کمار کا کہنا تھا کہ کسانوں کی جانب سے کیڑے مار ادویات بیچنے والے مقامی ایگریکلچر سینٹر کے خلاف کئی شکایات درج کرادی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بھارت میں 26 کروڑ کے قریب کسان نہایت کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حکام کے مطابق کسانوں کا ذریعہ معاش خشک سالی کے باعث مسلسل تباہ ہورہا ہے اور 2016 میں مہاراشٹرا میں ایک ہزار 417 کسانوں نے خود کشی کی تھی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>بھارت کی ریاست مہاراشٹرا میں کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کے دوران زیریلی گیس سے 20 کسان ہلاک اور سیکڑوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔</p><p class=''>ریاست مہاراشٹرا بھارت کا زرعی علاقہ ہے جہاں فصلوں میں کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کے دوران حفاظتی اقدامات نہ کرنے کے باعث ہلاکتیں ہوئیں۔</p><p class=''>ریاستی حکومت کے ترجمان کشور تیواڑی کا کہنا تھا کہ &#39;20 کسان ہلاک ہوگئے ہیں اور سیکڑوں کسانوں کو طبی امداد دی جارہی ہے جن میں سے 50 کی حالت تشویش ناک ہے&#39;۔</p><p class=''>مقامی اخباروں کی رپورٹس کے مطابق پہلی ہلاکت اگست میں ہوئی تھی اور ستمبر میں اس میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔</p><p class=''>انسانی حقوق کے کارکن قوانین کی عدم موجودگی اور حفاظتی اقدامات نہ کرنے کے حوالے سے  ان ہلاکتوں کی ذمہ داری حکومت پر ڈال رہے ہیں۔</p><p class=''>کشور تیواڑی کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد نے حفاظتی جوتے، ماسک اور گلوز نہیں پہنے ہوئے تھے جس کے بعد انھوں سردرد اور آنکھوں میں درد کی شکایت کی۔</p><p class=''>این ڈی ٹی وی نے ایک کسان کے حوالے سے خبر دی ہے کہ &#39;میرے پاس حفاظتی چیزیں خریدنے کے لیے پیسہ نہیں ہے جس کے باعث ہم  بغیر حفاظتی اقدامات کے کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ کرتے ہیں&#39;۔</p><p class=''>خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ممبئی ہائی کورٹ نے مہاراشٹرا کی حکومت پر متاثرہ علاقوں کو کیڑے مار ادویات بیچنے پر پابندی عائد کردی تھی۔</p><p class=''>پولیس سپرینٹنڈنٹ ایم راج کمار کا کہنا تھا کہ کسانوں کی جانب سے کیڑے مار ادویات بیچنے والے مقامی ایگریکلچر سینٹر کے خلاف کئی شکایات درج کرادی ہیں۔</p><p class=''>بھارت میں 26 کروڑ کے قریب کسان نہایت کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔</p><p class=''>حکام کے مطابق کسانوں کا ذریعہ معاش خشک سالی کے باعث مسلسل تباہ ہورہا ہے اور 2016 میں مہاراشٹرا میں ایک ہزار 417 کسانوں نے خود کشی کی تھی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1066060</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Oct 2017 00:14:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/10/59dbc95e97532.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/10/59dbc95e97532.jpg?0.1821179281212928"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
