<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:18:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:18:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی ٹیسٹ میں 68 رنز سے شکست، سری لنکا کا کلین سوئپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1066087/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;دبئی: اسد شفیق کی عمدہ سنچری کے باوجود سری لنکا نے پاکستان کو دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں 68 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-2 سے کلین سوئپ کر لیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان ٹیم کو متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں 15 سال بعد کسی ٹیسٹ سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس سے قبل آسٹریلیا نے پاکستان کو 2002 میں یہاں ٹیسٹ سیریز میں شکست سے دوچار کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دبئی میں کھیلے گئے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کے آخری روز پاکستان نے 198 رنز پانچ کھلاڑی آؤٹ سے اپنی دوسری نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی تو انہیں فتح مزید 119 رنز درکار تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سری لنکا کو دن کی صبح وکٹ کیلئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور نئی گیند ملنے سے قبل ہی کپتان سرفراز احمد 68 رنز بنانے کے بعد دلرووان پریرا کو وکٹ دے بیٹھے جبکہ پانچ رنز کے اضافے سے محمد عامر بھی وکٹ دے بیٹھے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ICC/status/917781786058354690"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ادھر دوسرے اینڈ پر موجود اسد شفیق نے شاندار اننگز کھیلتے ہوئے اپنی سنچری مکمل کی اور سری لنکن باؤلرز کے خلاف آہنی دیوار بنے رہے لیکن یاسر شاہ کے آؤٹ ہونے کے بعد ان کی ہمت بھی جواب دے گئی اور 112 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد وہ پویلین لوٹ گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سری لنکا کو آخری وکٹ کیلئے بھی زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا اور 248 کے اسکور پر رنگنا ہیراتھ نے وہاب ریاض کو آؤٹ کر کے اپنی ٹیم کو تاریخی فتح سے ہمکنار کرا دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس فتح کے ساتھ ہی سری لنکا نے سیریز میں 2-0 سے کلین سوئپ بھی مکمل کر لیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ سری لنکن ٹیم پر 2009 میں حملے کے بعد سے پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں اپنی ہوم سیریز کھیلنے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اب تک نو سیریز میں پاکستانی ٹیم ناقابل شکست تھی اور یہ پہلا موقع پر کہ پاکستان کو 2009 کے بعد متےحدہ عرب امارات میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سری لنکن اوپننگ بیٹسمین دمتھ کرونارتنے کو 196 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا اس کے ساتھ ساتھ انہیں سیریز کا بھی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دو میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کے بعد پاکستان ٹیم ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹی سے ساتویں نمبر پر چلی گئی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>دبئی: اسد شفیق کی عمدہ سنچری کے باوجود سری لنکا نے پاکستان کو دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں 68 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-2 سے کلین سوئپ کر لیا۔ </p><p class=''>پاکستان ٹیم کو متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں 15 سال بعد کسی ٹیسٹ سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس سے قبل آسٹریلیا نے پاکستان کو 2002 میں یہاں ٹیسٹ سیریز میں شکست سے دوچار کیا تھا۔</p><p class=''>دبئی میں کھیلے گئے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کے آخری روز پاکستان نے 198 رنز پانچ کھلاڑی آؤٹ سے اپنی دوسری نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی تو انہیں فتح مزید 119 رنز درکار تھے۔</p><p class=''>سری لنکا کو دن کی صبح وکٹ کیلئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور نئی گیند ملنے سے قبل ہی کپتان سرفراز احمد 68 رنز بنانے کے بعد دلرووان پریرا کو وکٹ دے بیٹھے جبکہ پانچ رنز کے اضافے سے محمد عامر بھی وکٹ دے بیٹھے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ICC/status/917781786058354690"></a>
            </blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>ادھر دوسرے اینڈ پر موجود اسد شفیق نے شاندار اننگز کھیلتے ہوئے اپنی سنچری مکمل کی اور سری لنکن باؤلرز کے خلاف آہنی دیوار بنے رہے لیکن یاسر شاہ کے آؤٹ ہونے کے بعد ان کی ہمت بھی جواب دے گئی اور 112 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد وہ پویلین لوٹ گئے۔</p><p class=''>سری لنکا کو آخری وکٹ کیلئے بھی زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا اور 248 کے اسکور پر رنگنا ہیراتھ نے وہاب ریاض کو آؤٹ کر کے اپنی ٹیم کو تاریخی فتح سے ہمکنار کرا دیا۔</p><p class=''>اس فتح کے ساتھ ہی سری لنکا نے سیریز میں 2-0 سے کلین سوئپ بھی مکمل کر لیا۔</p><p class=''>واضح رہے کہ سری لنکن ٹیم پر 2009 میں حملے کے بعد سے پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں اپنی ہوم سیریز کھیلنے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اب تک نو سیریز میں پاکستانی ٹیم ناقابل شکست تھی اور یہ پہلا موقع پر کہ پاکستان کو 2009 کے بعد متےحدہ عرب امارات میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔</p><p class=''>سری لنکن اوپننگ بیٹسمین دمتھ کرونارتنے کو 196 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا اس کے ساتھ ساتھ انہیں سیریز کا بھی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔</p><p class=''>دو میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کے بعد پاکستان ٹیم ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹی سے ساتویں نمبر پر چلی گئی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1066087</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Oct 2017 21:10:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/10/59dcca355e9d0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/10/59dcca355e9d0.jpg"/>
        <media:title>پاکستان کے خلاف سیریز میں کلین سوئپ کے بعد سری لنکن ٹیم کا ٹرافی کے ہمراہ گروپ فوٹو— فوٹو: اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
