<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 16:54:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 16:54:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نواز شریف کا سوشل میڈیا کارکنوں کی بازیابی کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1066742/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;مزید پڑھیں:لاپتہ صحافی زینت شہزادی دو سال بعد اپنے گھر پہنچ گئیں&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نے سوشل میڈیا میں متحرک ان کے ہمدرودوں کی گمشدگی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے وزارت داخلہ سے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کا مطالبہ کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘سوشل میڈیا سمیت آزادی اظہار رائے کا احترام حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، مخالفانہ سیاسی نقطہ نظر کو جبراً دبانا قابل مذمت ہے’۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ٹویٹر میں جاری بیان کے مطابق انھوں نے ‘مسلم لیگ (ن) کے موقف کی حمایت کرنے والے سوشل میڈیا کارکنوں کی گمشدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کو آزادی رائے پر حملہ قرار دیا’۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نواز شریف نے کہا ہے کہ ‘ملکی قانون شائستگی اور اپنے اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے ہرکسی کو اپنی رائے کے اظہار یا کسی دوسرے کی رائے سے اختلاف کا حق حاصل ہے’۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سابق وزیراعظم نے وزارت داخلہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے گمشدہ افراد کی بازیابی کو یقنینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/pmln_org/status/921668307870277632?ref_src=twsrc%5Etfw&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1365289"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حامی چند سوشل میڈیا صارفین مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی &lt;a href='https://www.dawn.com/news/1365209' &gt;(ایف آئی اے) کی حراست&lt;/a&gt; میں کم از کم دو افراد موجود ہیں جن پر سوشل میڈیا میں ریاست کے اہم اداروں کے خلاف توہین آمیز مواد کے اشاعت کا الزام ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_0"&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066678/' &gt;لاپتہ صحافی زینت شہزادی دو سال بعد اپنے گھر پہنچ گئیں&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ نواز شریف کی  جانب سے پارٹی کے حامیوں کی گمشدگی پر پہلی مرتبہ تشویش کا اظہار نہیں کیا گیا بلکہ گزشتہ ماہ لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے دوران بھی پارٹی کے ہمدردوں کی گمشدگی پر انھوں نے اور ان کی صاحبزادی مریم نواز دونوں نے آواز اٹھائی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ نواز شریف جب گزشتہ سال ملک کے وزیراعظم تھے تو ایک سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک متنازع بل آیا تھا جس نے حکومت کو سوشل میڈیا صارفین کے خلاف یک طرفہ اختیارات تفویض کردیے تھے اور یہ بل گزشتہ سال ہی نافذالعمل ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی ان کے سوشل میڈیا کارکنوں کی گرفتاری کے حوالے سے ایف آئی پر الزامات عائد کرتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رواں سال کے آغاز میں بھی حکومت اور سیکیورٹی ایجنسیاں اس وقت شدید تنقید کی ذد میں آئی تھیں جب مشہور سوشل میڈیا کارکنان لاپتہ ہوگئے تھے تاہم ان میں سے چند ہفتوں بعد واپس آگئے تھے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گزشتہ روز ایک خاتون صحافی زینت شہزادی دو سال گمشدگی کے بعد اپنے گھر واپس آگئی تھیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">مزید پڑھیں:لاپتہ صحافی زینت شہزادی دو سال بعد اپنے گھر پہنچ گئیں</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نے سوشل میڈیا میں متحرک ان کے ہمدرودوں کی گمشدگی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے وزارت داخلہ سے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کا مطالبہ کردیا۔</p><p class=''>سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘سوشل میڈیا سمیت آزادی اظہار رائے کا احترام حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، مخالفانہ سیاسی نقطہ نظر کو جبراً دبانا قابل مذمت ہے’۔</p><p class=''>مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ٹویٹر میں جاری بیان کے مطابق انھوں نے ‘مسلم لیگ (ن) کے موقف کی حمایت کرنے والے سوشل میڈیا کارکنوں کی گمشدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کو آزادی رائے پر حملہ قرار دیا’۔</p><p class=''>نواز شریف نے کہا ہے کہ ‘ملکی قانون شائستگی اور اپنے اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے ہرکسی کو اپنی رائے کے اظہار یا کسی دوسرے کی رائے سے اختلاف کا حق حاصل ہے’۔ </p><p class=''>سابق وزیراعظم نے وزارت داخلہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے گمشدہ افراد کی بازیابی کو یقنینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/pmln_org/status/921668307870277632?ref_src=twsrc%5Etfw&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1365289"></a>
            </blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>خیال رہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حامی چند سوشل میڈیا صارفین مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔</p><p class=''>فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی <a href='https://www.dawn.com/news/1365209' >(ایف آئی اے) کی حراست</a> میں کم از کم دو افراد موجود ہیں جن پر سوشل میڈیا میں ریاست کے اہم اداروں کے خلاف توہین آمیز مواد کے اشاعت کا الزام ہے۔ </p><h6 id="toc_0">مزید پڑھیں:<a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066678/' >لاپتہ صحافی زینت شہزادی دو سال بعد اپنے گھر پہنچ گئیں</a></h6>
<p class=''>یاد رہے کہ نواز شریف کی  جانب سے پارٹی کے حامیوں کی گمشدگی پر پہلی مرتبہ تشویش کا اظہار نہیں کیا گیا بلکہ گزشتہ ماہ لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے دوران بھی پارٹی کے ہمدردوں کی گمشدگی پر انھوں نے اور ان کی صاحبزادی مریم نواز دونوں نے آواز اٹھائی تھی۔</p><p class=''>واضح رہے کہ نواز شریف جب گزشتہ سال ملک کے وزیراعظم تھے تو ایک سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک متنازع بل آیا تھا جس نے حکومت کو سوشل میڈیا صارفین کے خلاف یک طرفہ اختیارات تفویض کردیے تھے اور یہ بل گزشتہ سال ہی نافذالعمل ہوگیا تھا۔</p><p class=''>قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی ان کے سوشل میڈیا کارکنوں کی گرفتاری کے حوالے سے ایف آئی پر الزامات عائد کرتی رہی ہے۔</p><p class=''>رواں سال کے آغاز میں بھی حکومت اور سیکیورٹی ایجنسیاں اس وقت شدید تنقید کی ذد میں آئی تھیں جب مشہور سوشل میڈیا کارکنان لاپتہ ہوگئے تھے تاہم ان میں سے چند ہفتوں بعد واپس آگئے تھے۔ </p><p class=''>گزشتہ روز ایک خاتون صحافی زینت شہزادی دو سال گمشدگی کے بعد اپنے گھر واپس آگئی تھیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1066742</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Oct 2017 17:25:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/10/59eb3ac7ab710.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/10/59eb3ac7ab710.jpg?0.9002265719442166"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
