<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 02:56:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 02:56:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’زندہ رہنے کیلئے خواتین کا ہراساں ہونا مجبوری‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1066875/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: ’می ٹو‘: جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین کی مہم نے دنیا کو ہلا دیا&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_1"&gt;مزید پڑھیں: جنسی طورپر ہراساں ہونے والی اداکارہ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;ان دنوں دنیا بھر میں خواتین کو مردوں کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے اور خواتین کو مسابقتی حقوق نہ دینے کا معاملہ زیر بحث ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہولی وڈ &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066225/' &gt;&lt;strong&gt;فلم پروڈیوسرہاروی وائنسٹن&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے بعد اب ڈائریکٹر جیمز ٹوبیک کی جانب سے بھی کئی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہولی وڈ جیسی انڈسٹری میں &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066857/' &gt;&lt;strong&gt;طاقتور مردوں کی جانب سے کیریئر کے آغاز میں ہی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے بعد&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جہاں اداکارہ روز میکگواں نے ٹوئٹر پر خواتین کو یکجا ہونے کے لیے کہا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وہیں گزشتہ ہفتے امریکی اداکارہ ایلسا میلاؤ نے بھی ٹوئٹرپر’می ٹو‘ (metoo#) ٹرینڈ کا استعمال کیا تھا، جس کے بعد اب تک دنیا بھر سے لاکھوں خواتین اپنے اپنے تجربات شیئر کر چکی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ٹرینڈ کے بعد دنیا بھر سے خواتین کی جانب سے شیئر کی جانے والی کہانیوں سے پتہ چلتا ہے کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کا سلسلہ صرف ہولی وڈ یا امریکا تک محدود نہیں،بلکہ یہ پاکستان سے لے کر ہندوستان تک، برطانیہ سے لے کر جرمنی تک، آسٹریلیا سے لے کر ہالینڈ تک پھیلا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;’می ٹو‘ ٹرینڈ کے بعد جہاں پاکستانی خواتین نے اپنے تجربات شیئر کیے، وہیں، بھارتی خواتین نے بھی اپنے تجربات شیئر کیے، &lt;a href='http://richachadda.blogspot.in/2017/10/metoo.html' &gt;&lt;strong&gt;اب بولی وڈ ادکارہ ریچا چڈا نے اس ٹرینڈ کے بعد تفیصلی بلاگ لکھا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریچا چڈا کی جانب سے لکھے گئے بلاگ میں انہوں نے ’می ٹو‘ ٹرینڈ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 2 ہفتے سے ان سے بار بار پوچھا جا رہا ہے کہ وہ ’می ٹو‘ کے بارے میں کیا سوچتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066729/' &gt;’می ٹو‘: جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین کی مہم نے دنیا کو ہلا دیا&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اداکارہ کے مطابق ان کا ان باکس لوگوں کے سوالات سے بھرچکا ہے، اور وہ حیران ہیں کہ ایسے سوالات اس ملک کے لوگ کر رہے ہیں، جہاں لڑکیوں کے خلاف اس وقت ہی تشدد کا آغاز ہوجاتا ہے، جب وہ ماں کے پیٹ میں ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریچا چڈا نے اپنے لمبے چوڑے بلاگ میں لکھا کہ بھارت میں تو خواتین کے خلاف زبانی، بصری اور جنس کی بنیاد پر ہراساں کرنا معمول کی روایت ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--instagram  '&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-version="7" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:658px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:8px;"&gt; &lt;div style=" background:#F8F8F8; line-height:0; margin-top:40px; padding:58.7037037037037% 0; text-align:center; width:100%;"&gt; &lt;div style=" background:url(data:image/png;base64,iVBORw0KGgoAAAANSUhEUgAAACwAAAAsCAMAAAApWqozAAAABGdBTUEAALGPC/xhBQAAAAFzUkdCAK7OHOkAAAAMUExURczMzPf399fX1+bm5mzY9AMAAADiSURBVDjLvZXbEsMgCES5/P8/t9FuRVCRmU73JWlzosgSIIZURCjo/ad+EQJJB4Hv8BFt+IDpQoCx1wjOSBFhh2XssxEIYn3ulI/6MNReE07UIWJEv8UEOWDS88LY97kqyTliJKKtuYBbruAyVh5wOHiXmpi5we58Ek028czwyuQdLKPG1Bkb4NnM+VeAnfHqn1k4+GPT6uGQcvu2h2OVuIf/gWUFyy8OWEpdyZSa3aVCqpVoVvzZZ2VTnn2wU8qzVjDDetO90GSy9mVLqtgYSy231MxrY6I2gGqjrTY0L8fxCxfCBbhWrsYYAAAAAElFTkSuQmCC); display:block; height:44px; margin:0 auto -44px; position:relative; top:-22px; width:44px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;p style=" margin:8px 0 0 0; padding:0 4px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/BalTStqhtUN/" style=" color:#000; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none; word-wrap:break-word;" target="_blank"&gt;#MeToo (link in bio)&lt;/a&gt;&lt;/p&gt; &lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;A post shared by Richa Chadha (@therichachadha) on &lt;time style=" font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px;" datetime="2017-10-23T07:52:58+00:00"&gt;Oct 23, 2017 at 12:52am PDT&lt;/time&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے لکھا کہ’ہم اس ملک میں بچے ہونے کے ناتے بچپن میں چھونے کے ذریعے ہراساں ہونا شروع ہوتے ہیں، اور یہاں پر ’ریپ‘ کو کسی کی ’عزت لوٹنا‘ کہا جاتا ہے، جسے جنسی جرم سمجھا ہی نہیں جاتا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اداکارہ نے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں ہونے سے متعلق حکومتی و ریاستی خامیوں سمیت اہل خانہ کی خامیوں کا ذکر بھی کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اداکارہ نے لکھا کہ بھارت میں خواتین کا مالک اہل خانہ اور مردوں کو سمجھا جاتا ہے، شادی کے بعد کسی بھی خاتون کی نوکری کرنے سمیت دیگر فیصلے اس کے شوہر اور سسرال والے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_1"&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066277' &gt;جنسی طورپر ہراساں ہونے والی اداکارہ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;ریچا چڈا کے مطابق اگر کسی خاتون کو گھر سے باہر کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو اسے ڈھیر سارے ضابطے سکھائے جاتے ہیں، اسے سمجھایا جاتا ہے کہ باہر نکل کر کس طرح خود کو ڈھانپ کر چلنا ہے، کس طرح ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا ہے، اور کس طرح دیگر کام سر انجام دینے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریچا چڈا کے مطابق بھارت میں ہر 22 منٹ کے اندر ایک خاتون کا ’ریپ‘ ہوتا ہے، اور یہاں خواتین زندہ رہنے کے لیے ’جنسی طور پر ہراساں ہونے کی صورت میں ٹیکس ادا کر رہی ہیں‘، یہاں صدیوں سے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں ہونا برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بولی وڈ اداکارہ نے بھارتی میڈیا کے رویے پر بھی سوالات اٹھائے، جب کہ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ خواتین کو مذہبی رسومات کے لیے بھی قربان کیا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہندو ازم کی روایات کے مطابق ’سیتا‘ کو بھی کوئی دوسرا مرد اٹھاکر لے گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریچا چڈا نے واضح کیا کہ اس بلاگ کو ان کی کسی فلم کی تشہیر کا حصہ نہ سمجھا جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ رواں ماہ 27 اکتوبر کو ان کی فلم ’جیا اور جیا‘ ریلیز ہونے جا رہی ہے، اس فلم میں ان کے ساتھ اداکارہ کالکی کوچلن بھی نظر آئیں گی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">یہ بھی پڑھیں: ’می ٹو‘: جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین کی مہم نے دنیا کو ہلا دیا</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_1">مزید پڑھیں: جنسی طورپر ہراساں ہونے والی اداکارہ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>ان دنوں دنیا بھر میں خواتین کو مردوں کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے اور خواتین کو مسابقتی حقوق نہ دینے کا معاملہ زیر بحث ہے۔</p><p class=''>ہولی وڈ <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066225/' ><strong>فلم پروڈیوسرہاروی وائنسٹن</strong></a> کے بعد اب ڈائریکٹر جیمز ٹوبیک کی جانب سے بھی کئی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔</p><p class=''>ہولی وڈ جیسی انڈسٹری میں <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066857/' ><strong>طاقتور مردوں کی جانب سے کیریئر کے آغاز میں ہی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے بعد</strong></a> جہاں اداکارہ روز میکگواں نے ٹوئٹر پر خواتین کو یکجا ہونے کے لیے کہا تھا۔</p><p class=''>وہیں گزشتہ ہفتے امریکی اداکارہ ایلسا میلاؤ نے بھی ٹوئٹرپر’می ٹو‘ (metoo#) ٹرینڈ کا استعمال کیا تھا، جس کے بعد اب تک دنیا بھر سے لاکھوں خواتین اپنے اپنے تجربات شیئر کر چکی ہیں۔</p><p class=''>ٹرینڈ کے بعد دنیا بھر سے خواتین کی جانب سے شیئر کی جانے والی کہانیوں سے پتہ چلتا ہے کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کا سلسلہ صرف ہولی وڈ یا امریکا تک محدود نہیں،بلکہ یہ پاکستان سے لے کر ہندوستان تک، برطانیہ سے لے کر جرمنی تک، آسٹریلیا سے لے کر ہالینڈ تک پھیلا ہوا ہے۔</p><p class=''>’می ٹو‘ ٹرینڈ کے بعد جہاں پاکستانی خواتین نے اپنے تجربات شیئر کیے، وہیں، بھارتی خواتین نے بھی اپنے تجربات شیئر کیے، <a href='http://richachadda.blogspot.in/2017/10/metoo.html' ><strong>اب بولی وڈ ادکارہ ریچا چڈا نے اس ٹرینڈ کے بعد تفیصلی بلاگ لکھا ہے۔</strong></a></p><p class=''>ریچا چڈا کی جانب سے لکھے گئے بلاگ میں انہوں نے ’می ٹو‘ ٹرینڈ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 2 ہفتے سے ان سے بار بار پوچھا جا رہا ہے کہ وہ ’می ٹو‘ کے بارے میں کیا سوچتی ہیں۔</p><h6 id="toc_0">یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066729/' >’می ٹو‘: جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین کی مہم نے دنیا کو ہلا دیا</a></h6>
<p class=''>اداکارہ کے مطابق ان کا ان باکس لوگوں کے سوالات سے بھرچکا ہے، اور وہ حیران ہیں کہ ایسے سوالات اس ملک کے لوگ کر رہے ہیں، جہاں لڑکیوں کے خلاف اس وقت ہی تشدد کا آغاز ہوجاتا ہے، جب وہ ماں کے پیٹ میں ہوتی ہیں۔</p><p class=''>ریچا چڈا نے اپنے لمبے چوڑے بلاگ میں لکھا کہ بھارت میں تو خواتین کے خلاف زبانی، بصری اور جنس کی بنیاد پر ہراساں کرنا معمول کی روایت ہے۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--instagram  '><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-version="7" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:658px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:8px;"> <div style=" background:#F8F8F8; line-height:0; margin-top:40px; padding:58.7037037037037% 0; text-align:center; width:100%;"> <div style=" background:url(data:image/png;base64,iVBORw0KGgoAAAANSUhEUgAAACwAAAAsCAMAAAApWqozAAAABGdBTUEAALGPC/xhBQAAAAFzUkdCAK7OHOkAAAAMUExURczMzPf399fX1+bm5mzY9AMAAADiSURBVDjLvZXbEsMgCES5/P8/t9FuRVCRmU73JWlzosgSIIZURCjo/ad+EQJJB4Hv8BFt+IDpQoCx1wjOSBFhh2XssxEIYn3ulI/6MNReE07UIWJEv8UEOWDS88LY97kqyTliJKKtuYBbruAyVh5wOHiXmpi5we58Ek028czwyuQdLKPG1Bkb4NnM+VeAnfHqn1k4+GPT6uGQcvu2h2OVuIf/gWUFyy8OWEpdyZSa3aVCqpVoVvzZZ2VTnn2wU8qzVjDDetO90GSy9mVLqtgYSy231MxrY6I2gGqjrTY0L8fxCxfCBbhWrsYYAAAAAElFTkSuQmCC); display:block; height:44px; margin:0 auto -44px; position:relative; top:-22px; width:44px;"></div></div> <p style=" margin:8px 0 0 0; padding:0 4px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/BalTStqhtUN/" style=" color:#000; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none; word-wrap:break-word;" target="_blank">#MeToo (link in bio)</a></p> <p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;">A post shared by Richa Chadha (@therichachadha) on <time style=" font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px;" datetime="2017-10-23T07:52:58+00:00">Oct 23, 2017 at 12:52am PDT</time></p></div></blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>انہوں نے لکھا کہ’ہم اس ملک میں بچے ہونے کے ناتے بچپن میں چھونے کے ذریعے ہراساں ہونا شروع ہوتے ہیں، اور یہاں پر ’ریپ‘ کو کسی کی ’عزت لوٹنا‘ کہا جاتا ہے، جسے جنسی جرم سمجھا ہی نہیں جاتا۔</p><p class=''>اداکارہ نے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں ہونے سے متعلق حکومتی و ریاستی خامیوں سمیت اہل خانہ کی خامیوں کا ذکر بھی کیا۔</p><p class=''>اداکارہ نے لکھا کہ بھارت میں خواتین کا مالک اہل خانہ اور مردوں کو سمجھا جاتا ہے، شادی کے بعد کسی بھی خاتون کی نوکری کرنے سمیت دیگر فیصلے اس کے شوہر اور سسرال والے کرتے ہیں۔</p><h6 id="toc_1">مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066277' >جنسی طورپر ہراساں ہونے والی اداکارہ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل</a></h6>
<p class=''>ریچا چڈا کے مطابق اگر کسی خاتون کو گھر سے باہر کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو اسے ڈھیر سارے ضابطے سکھائے جاتے ہیں، اسے سمجھایا جاتا ہے کہ باہر نکل کر کس طرح خود کو ڈھانپ کر چلنا ہے، کس طرح ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا ہے، اور کس طرح دیگر کام سر انجام دینے ہیں۔</p><p class=''>ریچا چڈا کے مطابق بھارت میں ہر 22 منٹ کے اندر ایک خاتون کا ’ریپ‘ ہوتا ہے، اور یہاں خواتین زندہ رہنے کے لیے ’جنسی طور پر ہراساں ہونے کی صورت میں ٹیکس ادا کر رہی ہیں‘، یہاں صدیوں سے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں ہونا برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔</p><p class=''>بولی وڈ اداکارہ نے بھارتی میڈیا کے رویے پر بھی سوالات اٹھائے، جب کہ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ خواتین کو مذہبی رسومات کے لیے بھی قربان کیا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہندو ازم کی روایات کے مطابق ’سیتا‘ کو بھی کوئی دوسرا مرد اٹھاکر لے گیا تھا۔</p><p class=''>ریچا چڈا نے واضح کیا کہ اس بلاگ کو ان کی کسی فلم کی تشہیر کا حصہ نہ سمجھا جائے۔</p><p class=''>خیال رہے کہ رواں ماہ 27 اکتوبر کو ان کی فلم ’جیا اور جیا‘ ریلیز ہونے جا رہی ہے، اس فلم میں ان کے ساتھ اداکارہ کالکی کوچلن بھی نظر آئیں گی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1066875</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Oct 2017 00:11:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/10/59ee3952d3ea3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/10/59ee3952d3ea3.jpg?0.9242740019407034"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
