<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:08:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:08:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش کا پاکستانی ہائی کمیشن کی سائٹ پر شائع ویڈیو پر احتجاج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1067331/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;’ویڈیو ہائی کمیشن سے منسوب نہیں کی جاسکتی‘&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے پاکستانی ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ویڈیو پر احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے پاکستان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی &lt;a href='http://www.bbc.com/urdu/regional-41828046' &gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر بنگلہ دیش کی آزادی کے حوالے سے ایک ویڈیو شائع کی گئی تھی جس پر بنگلہ دیش نے پاکستان کے ہائی کمشنر رفیع الزمان صدیقی کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستانی ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ سیکریٹری ( یورپ، افریقہ اور امریکا) قمرالاحسن نے دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بیان کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ بنگلہ دیش کے پہلے صدر شیخ مجیب الرحمٰن آزادی نہیں بلکہ خود مختاری چاہتے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے اپنے احتجاجی مراسلے میں کہا کہ تاریخ کو مسخ کرنے کے ایسے واقعات دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رپورٹ کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں سیکریٹری یورپ، افریقہ اور امریکا نے بتایا کہ اس حوالے سے پاکستانی ہائی کمشنر نے افسوس کا اظہار کیا جبکہ ویب سائٹ سے ویڈیو کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;h4 id="toc_0"&gt;’ویڈیو ہائی کمیشن سے منسوب نہیں کی جاسکتی‘&lt;/h4&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/925729908801916928"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی تیسرے فریق کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو کو ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمیشن سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔‘&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">’ویڈیو ہائی کمیشن سے منسوب نہیں کی جاسکتی‘</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے پاکستانی ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ویڈیو پر احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے پاکستان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔</p><p class=''>برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی <a href='http://www.bbc.com/urdu/regional-41828046' ><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر بنگلہ دیش کی آزادی کے حوالے سے ایک ویڈیو شائع کی گئی تھی جس پر بنگلہ دیش نے پاکستان کے ہائی کمشنر رفیع الزمان صدیقی کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔</p><p class=''>پاکستانی ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ سیکریٹری ( یورپ، افریقہ اور امریکا) قمرالاحسن نے دیا۔</p><p class=''>بیان کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ بنگلہ دیش کے پہلے صدر شیخ مجیب الرحمٰن آزادی نہیں بلکہ خود مختاری چاہتے تھے۔</p><p class=''>بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے اپنے احتجاجی مراسلے میں کہا کہ تاریخ کو مسخ کرنے کے ایسے واقعات دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔</p><p class=''>رپورٹ کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں سیکریٹری یورپ، افریقہ اور امریکا نے بتایا کہ اس حوالے سے پاکستانی ہائی کمشنر نے افسوس کا اظہار کیا جبکہ ویب سائٹ سے ویڈیو کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ </p><h4 id="toc_0">’ویڈیو ہائی کمیشن سے منسوب نہیں کی جاسکتی‘</h4>
<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/925729908801916928"></a>
            </blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی تیسرے فریق کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو کو ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمیشن سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔‘</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1067331</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Nov 2017 12:50:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/11/59f9c19b45c86.jpg?r=1304428697" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/11/59f9c19b45c86.jpg?r=522219083"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
