<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 15:19:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 15:19:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین کے لیے معاشی مساوات کا خواب لگ بھگ ناممکن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1067466/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;خواتین کو مردوں کے برابر آمدنی کے حصول اور دفاتر میں مساوی نمائندگی کے لیے 217 سال کا انتظار کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ بات عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رپورٹ میں بتایا کہ خواتین کو دنیا بھر کے دفاتر میں مردوں کے مقابلے میں آدھی تنخواہ دی جاتی ہے اور دونوں جنسوں کے درمیان یہ معاشی خلاء58 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عالمی ادارے کے مطابق 2017 میں بھی صنفی مساوات کے حوالے سے کوئی مثبت پیشرفت ہوتی نظر نہیں آرہی، بلکہ حالات زیادہ ابتر ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ادارے کی تعلیم، جنس اور ورک کی سربراہ سعدیہ زاہدی نے کہا کہ اخلاقی اور معاشی لحاظ سے صنفی مساوات بہت ضروری ہے، کچھ ممالک اس سے اتفاق کرتے ہیں اور اس صنفی عدم امتیاز کے خاتمے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب عالمی اقتصادی فورم نے معاشی عدم مساوات کی شرح کو بدتر پایا ہے، جس کے لیے اس نے مردوں اور خواتین کے لیبر فورس میں کام، ان کی آمدنی اور ترقی وغیرہ جیسے پیمانوں کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گزشتہ سال اس ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خواتین کو معاشی مساوات کے حصول کے لیے 170 سال درکار ہوں گے جبکہ 2015 میں 118 سال کا بتایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس مقصد کے لیے ادارے نے عالمی ادارہ محبت، اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام اور عالمی ادارہ صحت جیسے اداروں کے ڈیٹا کو بھی استعمال کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مجموعی طور پر 144 ممالک میں آئس لینڈ، ناروے، فن لینڈ، روانڈا اور سوئیڈن چار شعبوں جیسے تعلیم، صحت، معاشی مواقعوں اور سیاست میں آگے لانے وغیرہ میں سرفہرست رہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس کے برعکس یمن اس حوالے سے سب سے بدترین ملک قرار پایا، جس کے بعد پاکستان، شام، چاڈ اور ایران رہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>خواتین کو مردوں کے برابر آمدنی کے حصول اور دفاتر میں مساوی نمائندگی کے لیے 217 سال کا انتظار کرنا ہوگا۔</p><p class=''>یہ بات عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں سامنے آئی۔</p><p class=''>رپورٹ میں بتایا کہ خواتین کو دنیا بھر کے دفاتر میں مردوں کے مقابلے میں آدھی تنخواہ دی جاتی ہے اور دونوں جنسوں کے درمیان یہ معاشی خلاء58 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔</p><p class=''>عالمی ادارے کے مطابق 2017 میں بھی صنفی مساوات کے حوالے سے کوئی مثبت پیشرفت ہوتی نظر نہیں آرہی، بلکہ حالات زیادہ ابتر ہوچکے ہیں۔</p><p class=''>ادارے کی تعلیم، جنس اور ورک کی سربراہ سعدیہ زاہدی نے کہا کہ اخلاقی اور معاشی لحاظ سے صنفی مساوات بہت ضروری ہے، کچھ ممالک اس سے اتفاق کرتے ہیں اور اس صنفی عدم امتیاز کے خاتمے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔</p><p class=''>یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب عالمی اقتصادی فورم نے معاشی عدم مساوات کی شرح کو بدتر پایا ہے، جس کے لیے اس نے مردوں اور خواتین کے لیبر فورس میں کام، ان کی آمدنی اور ترقی وغیرہ جیسے پیمانوں کا جائزہ لیا۔</p><p class=''>گزشتہ سال اس ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خواتین کو معاشی مساوات کے حصول کے لیے 170 سال درکار ہوں گے جبکہ 2015 میں 118 سال کا بتایا گیا تھا۔</p><p class=''>اس مقصد کے لیے ادارے نے عالمی ادارہ محبت، اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام اور عالمی ادارہ صحت جیسے اداروں کے ڈیٹا کو بھی استعمال کیا۔</p><p class=''>مجموعی طور پر 144 ممالک میں آئس لینڈ، ناروے، فن لینڈ، روانڈا اور سوئیڈن چار شعبوں جیسے تعلیم، صحت، معاشی مواقعوں اور سیاست میں آگے لانے وغیرہ میں سرفہرست رہے۔</p><p class=''>اس کے برعکس یمن اس حوالے سے سب سے بدترین ملک قرار پایا، جس کے بعد پاکستان، شام، چاڈ اور ایران رہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1067466</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Nov 2017 20:32:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/11/59fc8c172354e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/11/59fc8c172354e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
